30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوئی،لہذا اخیاط کے معنی دھاگہ اور مخیط کے معنی سوئی لہذا تکرار میں مطلب یہ ہے کہ معمولی سے معمولی ادنیٰ سے ادنیٰ چیزبھی بغیرتقسیم نہ لو۔
۲؎ کیونکہ خیانت کا مال خائن کے کندھے پر ہوگا جسے یہ سخت مشکل سے اٹھائے پھرے گا،تکلیف بھی اٹھائے گا بدنام بھی ہوگا جیساکہ پہلے حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے معلوم ہوا۔
|
4025 -[41] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: دَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعِيرٍ فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِهِ ثُمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنْ هَذَا الْفَيْءِ شَيْءٌ وَلَا هَذَا وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ إِلَّا الْخُمُسَ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَأَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ» فَقَامَ رَجُلٌ فِي يَدِهِ كُبَّةٌ شَعَرٍ فَقَالَ: أَخَذْتُ هَذِهِ لِأُصْلِحَ بِهَا بَرْدَعَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا مَا كانَ لي ولبني عبدِ المطلبِ فهوَ لكَ» . فَقَالَ: أمّا إِذا بَلَغَتْ مَا أَرَى فَلَا أَرَبَ لِي فِيهَا ونبَذَها. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک اونٹ کے قریب ہوئے تو اس کے کوہان سے ایک بال لیا ۱؎ پھر فرمایا اے لوگو اس فئ میں سے میرے لیے کچھ نہیں اور نہ یہ بال ۲؎ اور اپنی انگلی شریف اٹھائی سوائے خمس کے۳؎ اورخمس بھی تم پر ہی لوٹ جاتا ہے۴؎ لہذا سوئی دھاگہ بھی ادا کردو تو ایک شخص کھڑا ہوا جس کے ہاتھ میں بالوں کی بنڈلی تھی بولا میں نے یہ لیا ہے تاکہ اس سے کمبل کو درست کروں ۵؎ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو میری یا عبدالمطلب کی اولاد کی ہو تو وہ تیرے لیے ہے ۶؎ وہ بولا کہ یہ اس حد تک پہنچی ہوئی ہے جو میں دیکھ رہا ہوں تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ۷؎(ابوداؤد) |
۱؎ دبرہ خاص اونٹ کے بال کو کہتے ہیں اور شعر ہر بال کو کہاتا جاتا ہے،سنام اونٹ کی پیٹھ میں ابھری ہوئی ہڈی جسے کوہان کہاجاتا ہے۔
۲؎ یعنی حقیر سے حقیر اور معمولی سے معمولی چیز بھی غنیمت سے میرا حصہ نہیں،اس سے صفی مستثنٰی ہے۔صفی وہ چیز ہے جسے حضور صلی اللہ علیہ و سلم پسند فرمالیں۔ جیسے ابھی ذوالفقار کا واقعہ گزرا کہ وہ صفی تھی یا غزوہ خیبر میں بی بی صفیہ یہود کے سردار کی بیٹی تھیں ان کا حضور انور کے نکاح میں ہونا ہی موزوں تھا یا ذوالفقار کفار کے سردار کی تلوارحضور انور کے ہاتھ اس کا ہونا کفار کے زیادہ جلنے کا باعث تھا،بہرحال یہاں قانون کا ذکر ہے اور صفی کا اختیار فرمانا دائمی قانون نہ تھا کبھی اتفاقیہ تھا۔
۳؎ اشارہ کے لیے صرف ایک انگلی اٹھائی یعنی صرف ایک خمس ہی ہمارا حق ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔
۴؎ یعنی وہ بھی تمہاری مصلحتوں میں ہی خرچ ہوتا ہے کہ اس خمس سے ہم جنگی سامان گھوڑے تیر وغیرہ خریدتے ہیں موقعہ بموقعہ مساکین کی مدد فرماتے ہیں۔
۵؎ یعنی یہ اونی دھاگہ کی گچھی ہے۔مقصود صرف یہ ہے کہ میرا کمبل پھٹا یا ادھڑا ہوا ہے اسے درست کرنا چاہتا ہوں اگراجازت ہو تو لے لوں۔
۶؎ یعنی اگر یہ دھاگہ کی گچھی میرے خمس میں آگئی تو میری طرف سے تجھے اجازت ہوگی اور اگر میرے کسی عزیز مطلبی کو غنیمت کے حصے سے مل گئی تو میں ان کی طرف سے تجھے اجازت دیتا ہوں لیکن اگر کسی اور کے حصہ میں پہنچ گئی تو پھر تو جانے اور وہ مالک جانے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع