30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ حضور انور نے غزوہ احد سے پہلے خواب دیکھی تھی کہ ہمارے ہاتھ میں تلوار ہے ہم نے ہلائی تو اس کا درمیانہ حصہ ٹوٹ گیا دوبارہ ہلائی تو پہلے سے بھی اچھی ہوگئی وہ خواب اسی تلوار کے متعلق تھی کہ ٹوٹی اور جڑ گئی۔ تعبیر دی تھی کہ احد میں مسلمانوں کو تکلیف ہوگی،پھر پہلے سے بھی اچھے ہوجائیں گے،ایسا ہی ہوا کہ احد میں تکلیف پائی پھر ہر میدان جیتا۔
|
4019 -[35] وَعَن رويفع بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَرْكَبْ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسلمين حَتَّى إِذا أخلقه ردهَا فِيهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت رویفع ابن ثابت سے ۱؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو اﷲ تعالٰی اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کی غنیمت سے کسی گھوڑے پر سوار نہ ہو کہ جب اسے دبلا کردے تو غنیمت میں لوٹا دے ۲؎ اور جوشخص ایمان رکھتا ہو اﷲ اور آخری دن پر تو وہ مسلمانوں کی غنیمت سے کپڑا نہ پہنے کہ جب اسے پرانا کردے تو غنیمت میں لوٹا دے ۳؎ (ابوداؤد) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،انصاری ہیں،امیر معاویہ کی طرف سے طرابلس کے حاکم رہے، ۴۶ھ میں امیر معاویہ کے حکم سے افریقہ فتح فرمایا، ۴۷ھ میں فتح افریقہ ہوا، ۵۴ھ شام میں وفات پائی۔(اشعہ)
۲؎ یعنی کوئی غازی تقسیم سے پہلے مال غنیمت کا گھوڑا بلا ضرورت استعمال نہ کرے کہ ا سے دبلا کرکے پھر واپس غنیمت میں رکھ دے۔اس سے معلوم ہوا کہ ایسے گھوڑے پر جہاد کرنا جائز ہے کہ یہ ضرورت استعمال ہے اور بلا ضرورت بھی،اگر کچھ سواری کرلے جس سے گھوڑا کمزور نہ ہوجائے جائز ہے ۔(اشعہ)
۳؎ یعنی غنیمت کے مال کا کپڑا قبل تقسیم بلاضرورت استعمال نہ کرو اور ایسی حرکت نہ کرو کہ کپڑا پرانا کرکے پھاڑکر پھر واپس کردو۔
|
4020 -[36] وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: قُلْتُ: هَلْ كُنْتُمْ تُخَمِّسُونَ الطَّعَامَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَصَبْنَا طَعَامًا يَوْمَ خَيْبَرَ فَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ فَيَأْخُذُ مِنْهُ مقدارَ مَا يكفيهِ ثمَّ ينْصَرف. وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت محمد ابن ابی المجالد سے وہ عبداﷲ ابن ابی اوفیٰ سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں میں نے پوچھا کیا آپ لوگ۲؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں کھانے سے خمس نکالا کرتے تھے۳؎ وہ بولے کہ ہم نے خیبر کے دن کھانا پایا تو کوئی شخص آتا تو اس ہی سے اپنی کفایت کی بقدر لے لیتا پھر لوٹ جاتا ۴؎ (ابوداؤد) |
۱؎ محمد ابن ابی المجالد تابعی ہیں،کوفہ کے رہنے والے ہیں،بہت صحابہ سے آپ کی ملاقات ہے اور عبداﷲ ابن ابی اوفی مشہور صحابی ہیں،انصاری ہیں،احد اور بعد احد غزوات میں شریک ہوئے، ۵۴ھ چون میں مدینہ منورہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔
۲؎ محمد ابن ابوالمجالد نے حضرت عبداﷲ ابن اوفی صحابی سے تمام صحابہ کرام کا عمل پوچھا اس نے کنتم اور تخمسون جمع بولا۔
۳؎ طعام سے مراد سے پکا ہوا کھانا اور سبزیاں اور سبز میوے جو جلد خراب ہوجاتے ہیں کہ ان میں بھی خمس کے بعد تقسیم غنیمت ہوتی تھی یا ان چیزوں میں آزادی تھی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع