30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غائب ہوچکا ہو تو اس کے نام پر یہ چیز خیرات کردی جائے لیکن اگر خیرات کرنے کے بعد پھر مالک آجائے تو اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔یہ فقہی مسئلہ اس حدیث کے خلاف نہیں کہ یہاں مقصود ہے اظہار غضب اور ہم جیسوں کو غصب سے ڈرانا۔
|
4013 -[29] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ حَرَّقُوا مَتَاعَ الْغَالِّ وضربوه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اور حضرت عمر نے غلول کرنے والے کا سامان جلایا اسے مارا ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ اس حدیث کی بنا پر خواجہ حسن بصری وغیرہم فقہاء نے فرمایا کہ سوا جانور،غلام،قرآن مجید کے باقی سامان مغصوبہ جلا دیا جائے۔ امام احمدواسحاق نے فرمایا کہ یہ مال مغصوبہ نہ جلایا جائے کہ یہ تو مجاہدین کا حق ہے۔غاصب کا خود اپنا وہ مال جلادیا جائے جسے لےکر وہ میدانِ جہاد میں گیا تھا۔امام اعظم وشافعی و مالک رحمۃ اﷲ علیہم فرماتے ہیں کہ یہ عمل شریف زجر تھا اب اس کا کوئی مال جلایا نہ جائے گا بلکہ اسے تعزیر و سزادی جائی گی۔چنانچہ بعض احادیث میں یہ بھی ہے کہ حضور انور نے غالی کو سزا دی مگر اس کا مال جلایا نہیں،نیز اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق عثمان غنی علی مرتضٰی نے بھی جلایا نہیں لہذا یہ عمل فقط زجروتوبیخ کے لیے تھا۔
|
4014 -[30] وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يَكْتُمُ غَالًّا فَإِنَّهُ مِثْلُهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے کہ جو کوئی غلول کرنے والے کو چھپائے تو وہ بھی اس ہی کی طرح ہے ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ کیونکہ جرم کی مددکرنا بھی جرم ہے اور مدد دینے والا مجرم۔
|
4015 -[31] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن شري الْمغنم حَتَّى تقسم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تقسیم سے پہلے حصوں کی خریداری سے منع فرمایا ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ شری سے مراد بیچناوخریدنا دونوں ہیں یعنی کوئی غازی اپنا غنیمت کا مال تقسیم اور قبض سے پہلے فروخت نہ کرے اور نہ کوئی اسے خریدے کیونکہ تقسیم سے پہلے یہ اپنے حصہ کا مالک ہی نہیں اور غیر مالک فروخت نہیں کرسکتا اور اگر اس طرح فروخت کیا کہ جو مجھے حصہ ملے گا وہ فروخت کرتا ہوں تو یہ مجہول و نامعلوم چیز کی بیع ہے یہ بھی ممنوع ہے،نیز کیا خبر کہ اسے غنیمت سے کچھ ملے گا یا نہیں بہت دفعہ کسی وجہ سے غازی غنیمت سے محروم ہوجاتا ہے لہذا یہ بیع خطرناک بھی ہے۔
|
4016 -[32] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهْيٌ أَنْ تُبَاعَ السِّهَامُ حَتَّى تُقْسَمَ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے تقسیم سے پہلے حصوں کے بیچنے سے منع فرمایا ۱؎ (دارمی) |
۱؎ اس کا مطلب اور وجہ ابھی بیان ہوچکے۔خیال رہے کہ زمین کا حصہ مشاع (غیرمقرر) فروخت ہوسکتا ہے جیسے مشترکہ زمین میں سے کوئی شریک اپنا حصہ فروخت کردے مگر وہاں جہالت سے جھگڑا نہیں ہوگا۔ یہاں جھگڑا پیدا ہونے کا قوی امکان ہے اس لیے مکان یا دوکان کا حصہ مشاع بیچنا ممنوع ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع