30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی مجمع کی حدیث سے حضرت ابن عمر کی حدیث زیادہ صحیح ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ سوار کے تین حصے ہیں جو ابھی کچھ پہلےگزرگئی۔ہم نے وہاں ہی عرض کردیا کہ حدیث ابن عمر میں تعارض ہے،آپ سے دوگنے حصہ کی روایت بھی ہے لہذا کم کی روایت پر احناف نے عمل کیا کہ کم یقینی ہے زائد مشکوک ہے۔ دوسرے اماموں نے زیادہ کی مشکوک روایت پر عمل فرمایا۔
۵؎ مگر اس حساب سے بھی یہ تقسیم صحیح نہیں ہوتی کیونکہ غازیان خیبر کل پندرہ سو تھے، اگر دوسو سوار ہوں اور ان کے حصے چھ پلاٹ ہوں تو باقی پیادہ غازی تیرہ سو ہوئے انہیں تیرہ پلاٹ ملنے چاہئیں۔ تو کُل انیس پلاٹ ہوتے ہیں حالانکہ حضور انور نے اٹھارہ پلاٹ تقسیم فرمائے۔خیال رہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایت ہے کہ سوار غازی کے دو حصے ہیں۔(مرقات و اشعہ)
|
4007 -[23] وَعَن حبيب بن مسلَمةَ الفِهْريِّ قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نفل الرّبع فِي البدأة وَالثلث فِي الرجمة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت حبیب ابن مسلمہ فہری سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو ابتداء میں حضور نے چہارم نفل دیا اور لوٹنے پر تہائی ۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ آپ قرشی فہری ہیں،آپ کو حبیب روم کہا جاتا تھا کیونکہ آپ نے روم پر بہت جہاد کیے،بڑے بزرگ مقبول الدعاءصحابی ہیں، ۴۲ھ میں شام میں وفات پائی۔(اکمال،اشعہ،مرقات)حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو الجزائر پر حاکم بنایا تھا۔
۲؎ جب فریقین کے لشکروں کا کچھ حصہ میدان جنگ میں پہنچ چکا ہو باقی لشکر پیچھے آرہا ہو اسے بدء کہتے ہیں اور جب لشکر جہاد سے واپس لوٹ جائیں کچھ لوگ وہاں رہ گئے ہوں اسے رجوع کہتے ہیں۔بدء والوں کی جنگ آسان ہے کہ لشکر پیچھے آرہا ہے ان کی مدد مل جاوے گی مگر رجعت والوں کا جہاد بہت مشکل کہ انہیں مدد ملنے کی امید نہیں کہ لشکر جاچکا اس لیے حضور انور نے بدء والوں کو کم نفل دیا یعنی چہارم اور رجوع والوں کو زیادہ دیا یعنی کل غنیمت کا تہائی۔
|
4008 -[24] وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنَفِّلُ الرُّبُعَ بَعْدَ الْخُمُسِ وَالثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ إِذَا قَفَلَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے انہی سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم چہارم نفل دیتے تھے خمس کے بعد اور جب لوٹتے تو تہائی نفل دیتے تھے خمس کے بعد ۱؎(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی اگر کسی کوغنیمت کے مال سے نفل دیتے تو خمس نکال کر دیتے تھے خواہ چہارم عطا فرمادیں یا تہائی اس طرح کہ اولًا تمام غنیمت سے خمس نکال لیا پھر بقیہ چار حصوں میں سے یہ نفل دی پھر بقیہ غنیمت غازیوں پر تقسیم فرمادیا لیکن سلب یعنی مقتول کے سامان سے خمس نہ لیتے تھے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ حضور انور سلب سے خمس نہ لیتے تھے۔ بعض شارحین نے اس جملہ کے معنی یہ کیے ہیں کہ یہ نفل خمس میں سے عطا فرماتے تھے یعنی اولًا تمام غنیمت سے خمس نکال لیا پھر اس خمس کا چہارم یا تہائی خاص بہادروں کو نفل کے طریق پر عطا فرمایا مگر یہ معنی بہت بعید ہیں پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔
|
4009 -[25] وَعَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَّةِ الْجَرْمِيِّ قَالَ: أَصَبْتُ بِأَرْضِ الرُّومِ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيهَا دَنَانِيرُ فِي إِمْرَةِ مُعَاوِيَةَ وَعَلَيْنَا رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ: مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَانِي مِنْهَا مِثْلَ مَا أَعْطَى رَجُلًا مِنْهُمْ ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«لَا نَفَلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ»لَأَعْطَيْتُكَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوجویریہ جرمی سے کہ میں نے سلطنت معاویہ کے زمانہ میں ۱؎ زمین روم میں ایک سرخ گھڑا پایا جس میں اشرفیاں تھیں اور ہمارے حاکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب تھے نبی سلیم کے جنہیں معن ابن یزید کہا جاتا تھا ۲؎ میں وہ سب ان کے پاس لایا آپ نے وہ مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیا اور اس میں سے مجھے اتنا ہی دیا جتنا ان میں سے ایک شخص کو دیا۳؎ پھر فرمایا اگر میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ کہتے نہ سنا ہوتا کہ نہیں ہے نفل مگر خمس کے بعد تو میں تم کو دے دیتا۴؎ (ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع