30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ املاج ملج سے بنا بمعنی ہونٹ سے پکڑنا املاج کے معنی ہیں ہونٹ سے پکڑوانا بچہ کے منہ میں پستان دینا مطلب وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا۔
|
3167 -[8] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: «عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ» . ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نازل شدہ قرآنی آیات میں یہ آیت بھی تھی کہ دس معلوم چسکیاں حرام کرتی ہیں پھر پانچ معلوم چسکیوں سے منسوخ کی گئیں ۱؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی حالانکہ وہ قرآن سے پڑھی جاتی تھیں ۲؎(مسلم) |
۱؎ یعنی پہلے دس گھونٹ والی آیت نازل ہوئی پھر بہت عرصہ کے بعد دس گھونٹ والی آیت تلاوت و حکم میں پانچ گھونٹ والی آیت سے منسوخ ا ور یہ پانچ گھونٹ والی آیت اتنے عرصہ کے بعد منسوخ ہوئی تلاوتًا و حکمًا کہ حضور انور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی وفات پانے تک بعض دیہات اور دور دراز کے علاقہ والوں کو اس کے نسخ کی خبر نہ ہوئی اور وہ اس بے خبری میں بعد وفات بھی اس کی تلاوت کرتے رہے پھر خبر ہونے پر اس کی تلاوت بند کی۔حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ حضور کی وفات کے بعد بھی یہ آیت قرآن کریم میں تھی بعد میں صحابہ کرام نے نکال دی ورنہ اعتراض ہوگا کہ جناب علی و دیگر اہل بیت اطہار قران بگڑتا یا کم ہوتا ہوا دیکھ کر خاموش کیوں رہے انہوں نے قرآن بگڑنے کیوں دیا ؟ خیال رہے کہ یہ حدیث خبر واحد ہے اس سے قرآنی مطلق آیات کو مقید نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے لہذا یہ حدیث امام شافعی کی دلیل نہیں بن سکتی۔
۱؎ یعنی بحکم قرآنی پہلے حکم یہ تھا کہ اگر بچہ دس گھونٹ دودھ کسی عورت کا پیئے تب دودھ کی حرمت آئے گی پھر دس کاحکم منسوخ ہوکر پانچ کا حکم رہا یہ حدیث ہمارے خلاف ہے اور امام شافعی کی دلیل ہے کہ ان کے ہاں پانچ گھونٹ سے حرمت آتی ہے۔
|
3168 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ فَكَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقَالَت: إِنَّه أخي فَقَالَ: «انظرن من إخوانكن؟ فَإِنَّمَا الرضَاعَة من المجاعة» |
روایت ہے ان ہی سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے حالانکہ ان کے پاس ایک شخص تھا شاید آپ کو یہ ناپسند آیا ۱؎ تو حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ یہ میرے بھائی ہیں فرمایا غور کرلو کہ تمہارے بھائی کون ہیں۔شیر خوارگی بھوک کے زمانہ سے ہوتی ہے ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ کیونکہ یہ شخص درحقیقت جناب ام المومنین کا رضاعی بھائی نہ تھا حضرت ام المومنین غلطی سے اس کا اپنا دودھ کا بھائی سمجھے ہوئے تھیں،اور آپ نے اس کو گھر میں آنے کی اجازت دے دی تھی۔
۲؎ یعنی اگر بڑا بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے تو اس سے رضاعت کے احکام ثابت نہ ہوں گے جب بچہ اتنا چھوٹا ہو کہ عورت کا دودھ اس کی بھوک دفع کردے اور وہ اس دودھ پر ہی گزارہ کرسکے تب دودھ پینا شرعًا معتبر ہے اور وہ عمر دو یا ڈھائی سال کی ہے چونکہ اس شخص نے اس عمر کے بعد دودھ پیا ہے اس لیے یہ تمہارا رضاعی بھائی نہیں۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ازواج مطہرات احترام میں مسلمانوں کی مائیں ہیں نہ کہ احکام میں لہذا ان پر پردہ فرض ہے ان کی اولاد سے امت کا نکاح درست ہے ان کو امت کی میراث نہ ملے گی دوسرے یہ کہ ڈھائی برس کے بعد دودھ پینا حرمت رضاعت ثابت نہیں کرتا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع