30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4003 -[19] وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي السَّلَبِ لِلْقَاتِلِ. وَلَمْ يُخَمِّسِ السَلَب. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عوف ابن مالک اشجعی ۱؎ اور خالد ابن ولید سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مقتول کے سامان کا فیصلہ قاتل کے لیے کیا اور اس سامان سے خمس نہ لیا ۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے کہ آپ غزوہ خیبر میں شریک رہے اور فتح مکہ کے دن قبیلہ اشجع کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں تھا شام میں قیام رہا، وہاں ہی ۷۳ھ تہتّرمیں وفات پائی اور حضرت خالد ابن ولید تو آسمان تاریخ پر سورج کی طرح چمک رہے ہیں،امت رسول اﷲ کے بڑے بہادر صحابی،جماعت صحابہ میں بڑے پایہ کے صحابی ہیں، آپ کے حالات بارہا بیان ہوچکے رضی اﷲ عنہم اجمعین۔
۲؎ یعنی سارا سلب قاتل غازی کو بخشا اس سے خمس بھی نہ لیا غنیمت میں خمس لیا جاتا ہے اس میں نہیں،اس کی تفصیل پہلی فصل میں گزر چکی۔
|
4004 -[20] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: نَفَّلَنِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ سَيْفَ أَبِي جَهْلٍ وَكَانَ قَتَلَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے دن ابوجہل کی تلوار عطا فرمائی اور اسے انہی نے قتل کیا تھا ۱؎(ابوداؤد) |
۱؎ ابوجہل کو قتل تو کیا تھا دو انصاری بچوں نے جب حضرت ابن مسعود اس پر پہنچے تو وہ سسک رہا تھا آپ نے اس کا سر تن ناپاک سے جدا کیا لہذا یہ حدیث اس آنے والی حدیث کے خلاف نہیں جس میں ان دو بچوں کو قاتل فرمایا گیا۔
|
4005 -[21] وَعَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ: شَهِدْتُ خَيْبَر مَعَ ساداتي فَكَلَّمُوا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَلَّمُوهُ أَنِّي مَمْلُوكٌ فَأَمَرَنِي فَقُلِّدْتُ سَيْفًا فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ رُقْيَةً كَنْتُ أَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ فَأَمَرَنِي بِطَرْحِ بَعْضِهَا وَحَبْسِ بَعْضِهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ إِلَّا أَنَّ رِوَايَتَهُ انتهتْ عِنْد قَوْله: الْمَتَاع |
روایت ہے حضرت عمیر سے جو ابی اللحم کے مولیٰ ہیں ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں اپنے مولاؤں کے ساتھ خیبر میں حاضر ہوا تو ان مولاؤں نے میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض معروض کی۲؎ اور عرض کیا کہ میں غلام ہوں تو میرے متعلق حکم دیا مجھے ایک تلوار پہنادی گئی تو میں اسے کرہیٹرتا گھسیٹتا تھا۳؎ پھر میرے لیے کچھ معمولی سامان کا حکم دیا ۴؎ اور میں نے حضور پر ایک منتر پیش کیا جو میں دیوانوں پر کرتا تھا تو حضور نے مجھے کچھ نکال دینے کا حکم دیا اور کچھ کے باقی رکھنے کا ۵؎ (ترمذی،ابوداؤد) مگر ابوداؤد کی روایت ان کے قول متاع پر ختم ہوگئی۔ |
۱؎ حضرت عمیر اس وقت غلام تھے بعد میں آزاد ہوئے،انہیں اس وقت مولیٰ( مفتی)فرمانا آئندہ کے لحاظ سے ہے لہذا حدیث واضح ہے۔
۲؎ یا غزوہ میں بھرتی فرمالینے کی سفارش کی یا میری بہادری کی کچھ تعریف کی، دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں۔
۳؎ یہ تلوار کی عطا جہاد سے پہلے یا دوران جہاد میں تھی کہ حضور انو رکی طرف سے مجھے تلوار پہنائی گئی مگر میں اتنا چھوٹا یا پست قد تھا کہ تلوار میرے جسم کے نیچے گھسٹتی تھی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع