30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4001 -[17] عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَنِي عَلَى الْأَنْبِيَاءِ أَوْ قَالَ: فَضَّلَ أُمَّتِي عَلَى الْأُمَمِ وأحلَّ لنا الْغَنَائِم ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوامامہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ اﷲ نے مجھے تمام نبیوں پر بزرگی دی ۱؎ یا فرمایا کہ میری امت تمام امتوں پر بزرگی دی گئی ۲؎ اور ہمارے لیے غنیمتیں حلال فرمادیں۳؎ (ترمذی) |
۱؎ تمام نبیوں پر بے شمار بزرگیاں بخشیں،حضور کو آخری نبی،تمام خلق کا نبی،ہمیشہ تک کا نبی بنایا،رحمۃ اللعالمین، شفیع المذنبین قرار دیا،تمام انبیاءورسل کل قیامت میں حضور کے جھنڈے تلے ہوں گے۔غرضیکہ ان کو وہ بزرگیاں بخشیں جو مخلوق کے وہم و گمان سے وراء ہیں یا دینے والا رب جانے یا لینے والا محبوب۔شعر
ندانم کدامی سخن گویمت کہ بالا تری زائچہ من گویمت
حیران ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے
۲؎ چونکہ یہ امت خیرالرسل کی امت ہے اس لیے تمام امتوں سے افضل ہے ،رب فرماتاہے:"کُنۡتُمْ خَیۡرَ اُمَّۃٍ"شعر
لما دعا اﷲ راعینا لدعوتہ با فضل الرسل کنا افضل الامم
یعنی جب اﷲ تعالٰی نے ہمارے رسول کو افضل رسل کہا تو ہم افضل امم ہوگئے۔خیال رہے کہ جیسے حضور کی امت تمام امتوں سے افضل ہے حضور کی نسبت سے یوں ہی حضور کے والدین تمام نبیوں کے غیر نبی والدین سے،حضور کے صحابہ تمام صحابہ سے،حضور کے اہل بیت تمام نبیوں کے اہل بیت سے،حضور کا زمانہ تمام زمانوں سے،حضور کا شہر مدینہ تمام نبیوں کے شہروں سے غرضیکہ حضور کی ہر منسوب چیز دیگر انبیاء کرام کی ہر چیز سے افضل ہے،حضور کی ازواج پاک تمام نبیوں کی ازواج سے افضل،رب تعالٰی فرماتاہے: "یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ"۔
۳؎ یعنی اس امت کی بہت سی خصوصیات ہیں:ان میں سے ایک یہ ہے کہ صرف اس امت کے لیے جہاد کی غنیمتیں حلال کی گئیں پچھلی امتوں میں جہاد تھا مگر غنیمتیں حلال نہ تھیں جیسے قربانی کا گوشت کہ صرف ہمارے لیے حلال ہوا۔لنا میں حضور انور نے اپنی ذات کریم کو بھی امت کے ساتھ ذکر فرمایا کرم نوازی کے طور پر۔
|
4002 -[18] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: يَوْمئِذٍ يَوْمَ حُنَيْنٍ: «مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ» فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَخَذَ أسلابهم. رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یعنی حنین کے دن فرمایا کہ جو کسی کافر کو قتل کرے تو اس کافر کا سامان اسی کا ہوگا ۱؎ چنانچہ اس دن ابو طلحہ نے بیس آدمی مارےاورانکے سامان لئے ۲؎(دارمی) |
۱؎ من کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ جو مسلمان جہاد میں کافر کو قتل کرے اسے مقتول کا سامان ملے گا خواہ وہ غنیمت کے حصہ کا مستحق ہو یا نہ ہو لہذا غلام،بچہ،عورت،نوکر،تاجر وغیرہ بھی اس میں داخل ہیں۔بعض نے فرمایا کہ مَن سے مراد صرف مجاہدین ہیں یعنی غنیمت کے حصے کے مستحق لوگ مگر اول احتمال قوی معلوم ہوتا ہے۔اسی سلب کے بارے میں اماموں کا اختلاف ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ احناف کے ہاں یہ قانون شرعی نہیں، اگر حاکم جہاد میں یہ اعلان کردے تو ملے گا ورنہ نہیں،شوافع کے ہاں یہ قانون ہے۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم صرف ایک سلب کے لیے نہیں جتنے مقتول مارے سب کا سامان لے۔سامان میں سواری،کپڑے، زیور،ہتھیار سب داخل ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع