30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی مدعم نے ایک غلطی کی تھی کہ غزوہ خیبر کی غنیمت میں سے ایک چادر بغیر تقسیم لے لی تھی یہ ہوئی خیانت کیونکہ غنیمت کا مال تقسیم سے پہلے غازیوں کا مشترکہ ہوتا ہے اس کا مالک کوئی شخص نہیں بن سکتا بعد تقسیم ملکیت میں آتا ہے اس لیے اس وقت تکلیف میں ہے ابھی جنت میں نہیں پہنچا۔مرقات میں ہے کہ بعض روایات میں یوں ہے کہ میں اسے آگ میں دیکھ رہا ہوں۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سب کے کھلے چھپے اعمال کو ملاحظہ فرمارہے ہیں کہ چادر لینا ایک چھپا ہوا عمل تھا جو حضور کی نگاہ میں تھا۔دوسرے یہ کہ حضور انور دنیا میں رہ کر آخرت اور وہاں کے حالات کو دیکھ رہے ہیں کہ فرماتے ہیں مدعم آگ میں ہے۔تیسرے یہ کہ شہادت سے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں مگر حق العبد معاف نہیں ہوتا،دیکھو مدعم شہید ہوگئے مگر حق العبد کی وجہ سے گرفتار ہوگئے۔خیال رہے کہ مدعم کا وہ چادر لے لینا یا تو مسئلہ غنیمت سے بے خبری کی وجہ سے تھا یا گناہ صغیرہ تھا لہذا اس سے ان کی عدالت میں فرق نہیں آیا،سارے صحابہ عادل ہیں،انہوں نے چادر کو بہت معمولی چیز سمجھا اس کی اہمیت سے خبردار نہ ہوئے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے کہ یہ سن کر بعض صحابہ تسمے لائے لہذا اس روایت کی بنا پر صحابہ پر طعن نہ کیا جائے۔خیال رہے کہ مدعم کو یہ عذاب عارضی تھا جو اس وقت ہو رہا تھا۔
۵؎ یعنی اگر تم یہ تسمے حاضر نہ کردیتے تو یہ بھی تمہاری موت کے بعد تمہارے لیے آگ بن جاتے ان حضرات کے وہم وگمان میں بھی ان کی اتنی اہمیت نہ تھی۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اگرچہ ہر شخص کے ہر کھلے چھپے عمل سے واقف ہیں مگر آپ پر یہ لازم نہیں کہ ہر ایک کی خفیہ عمل پر پکڑ فرمائیں کہ اس میں مسلمانوں کی عیب جوئی بھی ہے اور پردہ دری بھی اس لیے نہ تو حضور نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ وہ تسمے حاضر کرو نہ مدعم کو حکم دیا تھا کہ وہ چادر حاضر کرو لہذا حدیث واضح ہے،یہ بھی خیال رہے کہ مدعم کی شہادت قبول تھی مگر فائدہ شہادت کا ظہور کچھ عرصہ بعد ہوا۔اولًا چادر کی غلول کی سزا پہنچ گئی۔شہادت کے لیے ضروری نہیں کہ شہید گناہوں قرض وغیرہ حقوق سے پاک وصاف ہو تب شہید ہو۔
|
3998 -[14] وَعَن عبدِ الله بنِ عَمْروٍ قَالَ: كَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ كَرْكَرَةُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ فِي النَّارِ» فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ فَوَجَدُوا عَبَاءَةً قد غلها. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سامان پر ایک شخص تھا جسے کرکرہ کہا جاتا تھا ۱؎ وہ مرگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ آگ میں ہے تو لوگ تلاش کرنے لگے ایک کمبل پایا جس کی اس نے خیانت کرلی تھی ۲؎(بخاری) |
۱؎ مغرب میں ہے کہ ہر نفیس و قیمتی سامان کو ثقل کہا جاتا ہے۔کرکرہ یا تو دونوں کاف کے فتحہ سے ہے یا کسرہ سے یا پہلے کاف کے فتحہ سے دوسرے کے کسرہ سے۔(مرقات و اشعہ)
۲؎ یہ غلول کیا ہوا کمبل اس کے اس عذاب کا سبب بن گیا۔اس کی تحقیق ابھی ہوچکی کہ یہ عمل ان صحابی کی عدالت کے خلاف نہیں۔ تمام صحابہ عادل ہیں معصوم یا محفوظ نہیں۔حضور کی نگاہ عالی کے قربان کہ اس جہان میں بیٹھ کر اس جہان کی خبر دے رہے ہیں۔
|
3999 -[15] وَعَن ابْن عمر قَالَ: كُنَّا نُصِيبُ فِي مَغَازِينَا الْعَسَلَ وَالْعِنَبَ فنأكله وَلَا نرفعُه رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم لوگ اپنے جہاد میں شہد انگور پاتے تھے تو کھالیتے تھے اور اسے پیش نہ کرتے تھے ۱؎(بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع