30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے مستحق نہیں کیونکہ ہجرت سے پہلے بنی نوفل اور بنی عبدشمس دوسرے مشرکین مکہ سے مل کر مسلمانوں کے بائیکاٹ میں شریک ہو گئے اور بنی مطلب و بنی ہاشم کا بائیکاٹ کردیا۔اس تعاون کی وجہ سے یہ دونوں ایک ہیں اور یہ دونوں ہی خمس کے مستحق۔
۴؎ خیال رہے کہ قرآن مجید میں خمس کے حقدار اﷲ تعالٰی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم،حضور کے قرابت دار یتیم، مساکین اور مسافروں کو قرار دیا گیا کہ ارشاد ہوا"وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَاَنَّ لِلہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی"الخ اﷲ کا ذکر برکت کے لیے ہے کل مصرف پانچ رہے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس خمس کے پھر پانچ حصے کرتے تھے:ایک حصہ یعنی غنیمت کا پچیسواں حصہ اپنے پر خرچ فرماتے تھے،ایک حصہ بنی ہاشم بنی مطلب کے عزیزوں پر باقی تین حصے یتیموں،مسکینوں،۔مسافروں پر حضور کی وفات کے بعد حضور کا اپنا حصہ تو ختم ہوگیا وہ حضور کی ازواج پاک یا اولاد پاک کو نہ دیا گیا جیسے کہ حضور انور کبھی غنیمت سے کوئی خاص چیز لے لیتے تھے جسے صفی کہا جاتا تھا۔چنانچہ حضور نے عتبہ ابن حجاج کافر کی تلوار ذوالفقار خود رکھی اور خیبر کی غنیمت میں سے صفیہ بنت حیی ابن اخطب کو خود قبول فرمایا مگر حضور کی وفات سے یہ صفی بند ہوگیا،ایسے ہی آپ کا خمس بھی ختم ہوگیا،اسی طرح حضور کے پردہ فرمانے سے ذی قربی یعنی قرابت داروں کا حصہ بھی ختم ہوگیا۔چنانچہ اس خمس کے حصے بجائے پانچ کے تین کیے جائیں گے جو یتیموں،مسکینوں،مسافروں پر صرف ہوں گے،ہاں حضور کے عزیز و اہل قرابت، یتیموں،مسکینوں،مسافروں کو مقدم رکھا جائے گا کہ پہلے انہیں بعد میں دوسروں کو عطا ہوگا کیونکہ دوسرے فقراء تو زکوۃ بھی لے سکتے ہیں مگر یہ حضرات زکوۃ نہیں لے سکتے یہ ہے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مذہب مگر امام شافعی کے ہاں اب بھی خمس کے پانچ حصے ہوں گے،حضور کا حصہ سلطان اسلام کو ملے گا اور حضور کے قربیٰ کا حصہ بدستور ویسے ہی جاری ہوگا جو سادات کو دیا جائے گا خواہ وہ فقیر ہو یا امیر مگر قول امام اعظم بہت قوی ہے کیونکہ حضرات خلفاء راشدین نے خمس کے تین حصے ہی کیے نہ حضور کا حصہ اور نہ اہل قرابت کا حصہ کسی نے نہ کہا اور کسی صحابی نے اس پر اعتراض نہ کیا۔یہ بھی خیال رہے کہ یہ تین حصے خواہ تینوں قسموں کو دیئے جائیں یا ایک ہی کو ہر طرح جائز ہے جیسے زکوۃ کے مصارف کا حال ہے۔کسی شخص نے ابو جعفر محمد ابن علی سے پوچھا کہ حضرت علی نے اپنی خلافت میں ذی قربی کا حصہ خمس سے نکالا یا انہیں تو آپ نے فرمایا نہیں کیونکہ حضرت علی صدیق اکبر کی راہ ہی چلے۔ (طحاوی،مرقات) بہرحال اس کے تین حصے کرنے پر خلفاءراشدین کا عمل صحابہ کا اجماع ہوا۔اس کی نفیس تحقیق فتح القدیر میں دیکھو یا یہاں ہی مرقات میں مطالعہ فرماؤ۔
|
3994 -[10] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا وأقمتمْ فِيهَا فَسَهْمُكُمْ فِيهَا وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس بستی میں تم پہنچو اور اس میں تم قیام کرو تو اس میں تمہارا حصہ ہے ۱؎ اور جو بستی اﷲ رسول کی نافرمانی کرے تو اس کا پانچواں حصہ اﷲ رسول کا ہے پھر بقیہ تمہارا ۲؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی کفار کی جو بستی بغیر جہاد کے صرف صلح سے قبضہ میں آجائے تو وہ غنیمت نہ ہوگی بلکہ فئ ہوگی جس میں سب مسلمان مجاہدین یا دوسرے برابر کے حق دار ہوں گے کہ فئ کا حکم یہ ہی ہوتا ہے۔اس فئ میں خمس بھی نہیں لیا جاتا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ امام شافعی کے ہاں فئ میں سے بھی خمس لیا جائے گا،یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع