30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طالب نے جو مکانات فروخت کردیئے ان کی بیع جائز رکھی کہ فتح مکہ کے دن فرمایا ہم کہاں ٹھہریں عقیل نے ہمارے لیے کوئی مکان باقی نہ چھوڑا حالانکہ ان مکانات کے مالک حضرت علی و جعفر بھی تھے(۴) ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں تمیم ابن طرفہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے کسی کے پاس اپنی اونٹنی پائی وہ دونوں حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے مالک نے اپنی ملکیت پرگواہی قائم کردی،مدعیٰ علیہ نے اس پر گواہی قائم کردی کہ میں نے کفار سے یہ خریدی ہے تو حضور نے پہلے مالک سے فرمایا کہ تم خرید سکتے ہو ایسے ہی نہیں لے سکتے(۵) بیہقی و دار قطنی نے حضرت ابن عباس سے روایت کی مسلمان کا جو مال کفار اپنے ملک میں لے جاویں پھر مسلمان ان سے غنیمت میں وہ مال لے لیں تو اگر تقسیم غنیمت سے پہلے مالک نے لے لیا تو اس کا ہے بعد تقسیم غنیمت جس کو مل جائے اس کا ہے(۶) دار قطنی حضرت ابن عمر سے یہ روایت کی(۷) طبرانی نے حضرت ابن عمر سے مرفوعًا یہ ہی روایت کی(۸)طحاوی نے بروایت قبیصہ ابن ذویب حضرت عمر سے یہ ہی روایت کی(۹)طحاوی نے حضرت زید ابن ثابت سے یہ ہی روایت کی(۱۰)طحاوی نے حضرت علی سے روایت کی تو آپ نے فرمایا کہ مسلمان کا مال جو کوئی دارالحرب میں کسی کافر سے خریدے تو بیع درست ہے غرضیکہ مذہب حنفی بہت ہی قوی ہے۔
|
3993 -[9] وَعَن جُبيرِ بن مُطعمٍ قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ وَتَرَكْتَنَا وَنَحْنُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْكَ؟ فَقَالَ:«إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو المطلبِ وَاحِدٌ» . قَالَ جُبَيْرٌ: وَلَمْ يَقْسِمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَبَنِي نوفلٍ شَيْئا. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں اور عثمان ابن عفان نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے عرض کیا کہ حضور آپ نے خیبر کے خمس سے بنی مطلب کو توڑ دیا ۲؎ اور ہم کو چھوڑ دیا حالانکہ ہم لوگ آپ سے ایک ہی درجہ (رشتہ) میں ہیں تو فرمایا کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی شے ہیں ۳؎ حضرت جبیر کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بنی عبدشمس اور بنی نوفل کو کچھ نہ دیا ۴؎(بخاری) |
۱؎ آپ جبیر ابن مطعم ابن عدی قرشی نوفل ہیں،کنیت ابو محمد ہے،فتح مکہ سے پہلے اسلام لائے،مدینہ پاک میں رہے، ۵۴ چون ہجری میں وفات پائی۔
۲؎ یعنی ہم اور بنی مطلب دونوں عبد مناف کی اولاد ہیں تو ہمارا ان کا رشتہ آپ سے یکساں ہوا۔خیال رہے کہ عبد مناف حضور کے چوتھے دادا ہیں،محمد ابن عبداﷲ ابن عبدالمطلب ابن ہاشم ابن عبد مناف اور ان عبد مناف کے بیٹے ہاشم مطلب نوفل عبدشمس ہیں،جبیر نوفل کی اولاد ہیں اور عثمان غنی عبدشمس کی اولاد اور حضور ہاشم کی اولاد سے جبیر ابن مطعم ابن عدی ابن نوفل ابن عبد مناف ہیں اور عثمان ابن عفان ابن ابوالعاص ابن امیہ ابن عبدشمس ابن مناف ہیں۔
۳؎ خیال رہے کہ یہ مطلب مناف کے بیٹے ہیں یہ اور ہیں اور عبدالمطلب جو حضور کے دادا ہیں وہ اور ہیں۔مقصد یہ ہے کہ واقعی نسبی لحاظ سے یہ چاروں خاندان یکساں ہیں یعنی بنی ہاشم و بنی مطلب،بنی نوفل بنی عبدالشمس سب ہی عبد مناف کی اولاد ہیں مگر تحالف تعاون کے لحاظ سے بنی ہاشم اور بنی مطلب تو ایک ہیں وہ ہی خمس کے حصہ کے مستحق مگر بنی نوفل اور بنی عبدالشمس الگ ہیں وہ اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع