30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ شارف کی یہ تفسیرکسی اور راوی نے کی ہے حضرت ابن عمر کی نہیں۔(مرقات) نفل کے معنی ابھی ذکر کیے گئے،اس سے ہے یہ نفلی نماز و روزہ یعنی فرض سے زیادہ۔
|
3992 -[8] وَعَنْهُ قَالَ: ذَهَبَتْ فَرَسٌ لَهُ فَأَخَذَهَا الْعَدُوُّ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرُدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِي رِوَايَةٍ: أَبَقَ عَبْدٌ لَهُ فَلَحِقَ بِالرُّومِ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میرا گھوڑا بھاگ گیا تو اسے دشمن نے پکڑ لیا پھر ان پر مسلمان غالب آگئے تو وہ گھوڑا حضور ہی کے زمانہ میں انہیں لوٹا دیا گیا ۱؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ان کا غلام بھاگ کر روم سے مل گیا پھر ان پر مسلمان غالب آ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد خالد ابن ولید نے ان پر لوٹا دیا ۲؎(بخاری) |
۱؎ یعنی بحالت جنگ میرا گھوڑا چھوٹ کر کفار کی طرف چلا گیا انہوں نے پکڑ لیا پھر جنگ کے نتیجہ کے طور پر مسلمان کفار پر غالب آگئے ان کا مال غنیمت ہمارے ہاتھ لگا،اس مال میں یہ گھوڑا بھی تھا تو حضور انور نے اسے غنیمت بنا کر تقسیم میں داخل نہ فرمایا بلکہ مجھے دیدیا۔اس کی وجہ ظاہر ہے کہ کفار اس گھوڑے کو ابھی اپنے ملک میں لے گئے تھے،نیز تقسیم غنیمت سے پہلے یہ گھوڑا حضرت ابن عمر نے پہچان لیا۔ایسا مال احناف کے نزدیک بھی مالک کو ملتا ہے غنیمت میں نہیں۔اختلاف اس مال میں ہے جو مسلمان کا تھا کفار کے ملک میں رہ گیا وہ چھین کر اپنے ملک میں لے گئے اور پھر غنیمت میں آیا جس کو تقسیم کردیا گیا پھر مالک نے پہنچانا۔
۲؎ یہ غلام مسلمان تھا اور بھاگ کر دارحرب یعنی روم میں پہنچ گیا کفار نے پکڑ لیا ایسا غلام کفار کی ملک نہیں بن جاتا۔جب غنیمت میں آوے گا مالک کو ملے گا،ہاں جو غلام مرتد ہوکر دار حرب میں پہنچ جائے کفار اس پر قبضہ کرلیں پھر غنیمت میں آوے تو یہ مال غنیمت ہوکر تقسیم ہوگا مالک کو واپس نہ ملے گا لہذا یہ حدیث بالکل ظاہر ہے۔خیال رہے کہ جو مسلمان یا مال دارحرب میں رہ جائے یا کفار جنگ میں چھین کر اپنے ملک میں لے جاویں وہ مال احناف کے ہاں کفار کی ملک بن جاتا ہے مسلمان کی ملک سے نکل جاتا ہے،لہذا اگر کوئی مسلمان یہ مال کفار سے خرید کر ہمارے ملک میں آئے تو پہلا مالک اس سے نہیں لے سکتا یہ خریدار ہی مالک ہوگا،یوں ہی اگر وہ مال غنیمت میں آجاوے تو تقسیم ہوگا اس مالک کو نہ ملے گا یہ ہے مذہب احناف کا مگر امام شافعی کے ہاں وہ مال مسلمان مالک ہی کا رہے گا اُسے ہی واپس دیا جائے گا۔وہ اس حدیث سے بھی دلیل پکڑتے ہیں اور اس واقعہ سے بھی کہ ایک بار حضور کی اونٹنی عضباء کو کفار مدینہ لے گئے اور ایک مؤمنہ عورت کو بھی،ایک شب موقعہ پا کر یہ بی بی اسی اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ پہنچ گئی اور نذر مانی کہ مولیٰ اگر میں بخیریت مدینہ پہنچ جاؤں تو اس اونٹنی کو ذبح کرکے تیرے نام پر خیرات کردوں گی،جب حضور انور سے یہ واقعہ عرض کیا تو فرمایا کہ غیر کے ملک میں نذر جائز نہیں اور وہ اونٹنی حضور نے خود لے لی کہ آپ کی تھی مگر امام اعظم فرماتے ہیں کہ یہ اونٹنی ابھی دارالحرب تک پہنچی نہ تھی راستہ سے ہی بی بی صاحبہ لے کر آگئیں اور وہ غلام مسلمان تھا لہذا یہ دونوں کفار کے ملک میں نہ آئے۔امام اعظم کے دلائل حسب ذیل ہیں:(۱)قرآن کریم نے ان مہاجرین کو جو مکہ معظمہ میں اپنا بہت مال جائیداد چھوڑ آئے تھے فقرا فرمایا کہ فرمایا: "لِلْفُقَرَآءِ الْمُہٰجِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اُخْرِجُوۡا مِنۡ دِیٰرِہِمْ"اور فقیر وہ ہوتا ہے جو مال کا مالک نہ ہو کہ وہ چھوڑنے کے بعد اپنے متروکہ مالوں کے مالک نہ رہے(۲) حضور انور نے فتح مکہ فرماکر مہاجرین کے مکانات جائیدادیں انہیں واپس نہ فرمائیں حتی کہ کفار نے جو مال ان میں سے فروخت کردیئے تھے ان کی بیع جائز رکھی(۳) عقیل ابن ابو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع