دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

(۴)کسی کے سامنے اس کی تعریف کرنا جائز ہے جب کہ اس میں مصلحت ہو(۵) اپنے کو راہِ خدا میں خطرہ میں پھنسا دینا اعلیٰ درجہ کا جہاد ہے،دیکھو حضرت سلمہ نے اکیلے اتنے گروہ پر حمل کردیا حالانکہ آپ پیدل تھے(۶) ضرورت کے وقت امام سے بغیر اجازت لیے کفار پر حملہ کردینا بھی جائز ہے۔

۱۶؎  یہ دو حصوں کا جمع فرمادینا بطور نفل تھا جو بہادری کے انعام میں دیا گیا۔سوار کے حصے سے مراد یا تو دوہرا حصہ ہے جیسا کہ احناف کہتے ہیں یا تہرا حصہ جیساکہ شوافع کا قول ہے یعنی مجھے تین یا چار حصے دیئے باقی حصے  دوسرے ساتھ آنے والے صحابہ کو عطا فرمائے کیونکہ جو بارادۂ جہاد میں پہنچ جائے اگرچہ وہ جہاد نہ بھی کرے تب بھی غنیمت میں حصہ لے گا۔

۱۷؎  یہ بہادری و جرات کا تمغہ عطا ہوا یعنی اپنا قرب جو تمام انعامات سے افضل تھا۔

۱۸؎  عضبا مؤنث ہے اعضب کا بمعنی کان کٹا جانور  تو عضباء کے معنی ہوئے کان کٹی اونٹنی حضور کی یہ اونٹنی پیدائشی طورپر کان کٹی تھی بعد میں کان کاٹے نہ گئے تھے۔(اشعہ)اس اونٹنی کا نام قصواء بھی تھا۔اس لحاظ سے یعنی حضور انور نے مجھے اس بہادری کے صلہ میں یہ تمغہ عطا فرمایا کہ اپنا ردیف بناکر مجھے مدینہ منورہ تک لائے یہ حدیث بخاری و مسلم دونوں میں ہے۔(مرقات) مگر مشکوۃ کے بعض نسخوں میں بخاری کا حوالہ ہے بعض میں مسلم کا۔خیال رہے کہ راجعین تثنیہ بھی ہوسکتا ہے اور جمع بھی دونوں درست ہیں۔

3990 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً سِوَى قِسْمَةِ عَامَّةِ الْجَيْشِ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کچھ زیادہ عطا فرماتے تھے بعض بھیجے ہوئے لشکروں کو ان کی خاص ذات کے لیے سوا لشکر کے عام حصے کے ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ نفل کے معنی ہیں زیادتی اس سے ہے انفال اور نافلہ،اصطلاح میں نفل وہ مال کہلاتا ہے جوکسی غازی کو اس کے حصے سے زیادہ دیا جائے یا کسی بہادری کے صلہ میں یا جہاد کی رغبت دینے کے لیے۔حدیث کا مقصد یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کبھی بعض غازیوں کو ان کے عام حصے کے علاوہ جس کے وہ مستحق ہوتے تھے کچھ زیادہ بھی عطا فرماتے تھے۔اس زیادتی میں بہت حکمتیں ہوتی تھیں۔

3991 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ: نَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم نَفَلًا سِوَى نَصِيبِنَا مِنَ الْخُمُسِ فَأَصَابَنِي شَارِفٌ والشارف: المسن الْكَبِير

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہم کو ہمارے حصہ کے علاوہ خمس سے بطور نفل عطا فرمایا ۱؎ تو مجھے الگ شارف اونٹنی ملی اور شارف بڑی عمر رسیدہ اونٹنی ہے ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی ایک جہاد میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے غنیمت سے خمس لیا، اس خمس میں سے ہم لوگوں کو ایک ایک اونٹ زائد دیا بطور نفل۔خیال رہے کہ آج کل فوجی سپاہیوں کی تنخواہ ہوتی ہے غنیمت میں حصہ بالکل نہیں ملتا مگر اس زمانہ میں تنخواہ نہ ہوتی تھی غنیمت کے پانچ حصے کرکے ایک حصہ اﷲ رسول کے نام کا لے لیا جاتا تھا اسے خمس کہتے تھے اور باقی چار حصے غازیوں میں تقسیم ہوجاتے تھے یہاں اس کا ذکر ہے یعنی حضور انور نے یہ نفل ہم لوگوں کو خمس میں سے دیا غازیوں کے حصے سے نہ دیا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن