30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ اکمہ وہ بلند جگہ جو پہاڑ سے چھوٹی ہو جسے اردو میں ٹیلہ کہا جاتا ہے۔
۵؎ عرب میں خطرہ شدیدہ کا اعلان کرنے کے لیے یا صباح کا لفظ پکارا جاتا تھا گویا یہ لفظ خطرہ کا الارم تھا۔عمومًا دشمن کا حملہ بوقت صبح ہوتا تھا اس لیے یہ لفظ پکارا جاتا تھا یعنی ہائے اے لوگو صبح کے وقت کا انتظار کرلو صبح کو تم پر حملہ ہونے والا ہے،یہ بھی حضرت سلمہ ابن اکوع کی کرامت تھی کہ ایک ٹیلہ پر کھڑے ہوکر اپنی پکار تمام مدینہ میں پہنچادی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ بنا کر جو آواز دی کہ اے اﷲ کے بندو اﷲ کے گھر کی طرف آؤ وہ تمام عالم میں پہنچ گئی تاقیامت آنے والی روحوں نے سن لی یہ معجزہ حضرت ابراہیم کا تھا۔
۶؎ یہ ہے حضرت سلمہ کی بہادری کہ مسلمانوں کی کمک پہنچنے کا انتظارنہ کیا صرف اطلاع دےکر اکیلے ہی پوری جماعت کے پیچھے پیدل لگ گئے عربی میں رجز ان اشعار کو کہا جاتا ہے جو جنگ کے وقت بہادر اپنی بہادری کے اظہار کے لیے پڑھا کرتے ہیں کفار کے مقابل فخر کرنا عبادت ہے۔
۷؎ رضع ر کے پیش ض کے شد و زبر سے یا تو راضع بمعنی خبیث کی جمع ہے یا رضیع بمعنی ماں کا دودھ چھوڑا ہوا، بچہ کی جمع ہے یعنی آج کمینوں کی سزا کا دن ہے یا آج تم شیرخوار کمزور بچوں کی ہلاکت کا دن ہے یا تم کو رضیع بنادینے کا دن ہے اور بھی اس کے بہت معنی کیے گئے ہیں۔
۸؎ اعقر بنا ہے عقر سے بمعنی پاؤں یا کونچیں کاٹنا۔اس سے مراد ہے جانوروں کا ہلاک کردینا یعنی ان ڈاکوؤں کو بھی مارتا رہا اور تاک تاک کر ان کے جانوروں کو بھی ہلاک کرتا رہا جس سے وہ لوگ میری طرح پیادے ہوتے رہے۔
۹؎ یعنی مجھ اکیلے نے حضور انور کے سارے اونٹ ان ڈاکوؤں سے چھین کر اپنے قبضہ میں کرلیے کہ انہیں اپنے پیچھے کرلیا میں ان کے آگے ہو گیا اور ڈاکوؤں کے پیچھے دوڑتا رہا ۔
۱۰؎ عربی میں مخطط اور حاشیہ والی چادر کو بھی بردہ کہتے ہیں اور مربع کمبل کو بھی جو بدوی لوگ پہنتے ہیں یہاں دونوں مراد ہوسکتے ہیں
۱۱؎ یعنی ان کافر ڈاکوؤں کو اپنی چادریں کمبل ، ہتھیار بھاگڑ میں سنبھالنا مشکل ہوگئے تو انہوں نے ان چیزوں کو وبال سمجھ کر پھینک دینے میں اپنی نجات جانی تاکہ ان کے بوجھ سے ہلکے ہوں اور بھاگنے میں آسانی پائیں،یہ ہے اس محمدی کچھار کے شیرکی دلیری رضی اللہ عنہ۔
۱۲؎ یعنی میں نے ان میں سے کوئی چیز اٹھائی بھی نہیں تاکہ مجھے ان کے پیچھا کرنے میں آسان رہے اور بغیر علامت چھوڑی بھی نہیں تاکہ میرے پیچھے آنے والے صحابہ ان پر قبضہ کرلیں۔
۱۳؎ عرب کا دستور کہ جب کوئی شخص کسی چیز پر علامت ڈال دیتا تھا تو اس کے پیچھے آنے والے ساتھی اسے اٹھالیتے تھے۔
۱۴؎ یعنی حضرت ابو قتادہ میرے اس راستے سے کترا کر دوسری طرف سے ڈاکوؤں کے سردار عبدالرحمن فزاری تک پہنچ گئے اور اسے قتل کردیا،یہ ہے دشمن کو گھیرے میں لے لینا جو آج بڑا کما ل سمجھا جاتا ہے،یہ صحابہ کرام کا معمولی عمل تھا۔
۱۵؎ یعنی اس غزوہ ذی قرد میں حضرت سلمہ نے پیادہ فوج کا کمال دکھایا اور ابوقتادہ نے سوار فوج کا کمال دکھایا۔دونوں اپنے اپنے فن میں بڑے ہی کامل ظاہر ہوئے۔فرسان جمع ہے فارس کی بمعنی گھوڑا سوار۔رجال جیم کی شد سے جمع ہے راجل کی بمعنی پیدل جیسے سائر کی جمع سیارہ اور ناظر کی جمع نظارہ ۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: (۱) جنگ کے وقت رجز پڑھنا سنت ہے(۲) دشمن کے جانور جنگ میں قتل کردینا جائز ہے جس سے ان کا زور ٹوٹے(۳)فخریہ طور پر یہ کہنا کہ فلاں کا بیٹا ہوں ایسے موقعہ پر جائز ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع