30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3989 -[5] وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِهِ مَعَ رَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِيُّ قَدْ أَغَارَ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ عَلَى أَكَمَةٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلَاثًا يَا صَبَاحَاهْ ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ وَأَقُولُ:أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعْ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعْ فَمَا زِلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ حَتَّى مَا خلَقَ اللَّهُ مِنْ بَعِيرٍ مِنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا خَلَّفْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي ثُمَّ اتَّبَعْتُهُمْ أَرْمِيهِمْ حَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً وَثَلَاثِينَ رُمْحًا يَسْتَخِفُّونَ وَلَا يَطْرَحُونَ شَيْئًا إِلَّا جَعَلْتُ عَلَيْهِ آرَامًا مِنَ الْحِجَارَةِ يَعْرِفُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى رَأَيْتُ فَوَارِسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ» . قَالَ: ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَيْنِ: سَهْمَ الْفَارِسِ وَسَهْمَ الرَّاجِلِ فَجَمَعَهُمَا إِلَيَّ جَمِيعًا ثُمَّ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعَيْنِ إِلَى الْمَدِينَةِ. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی سواری اپنے غلام رباح کے ساتھ بھیجی اور میں ان کے ساتھ تھا۲؎ تو جب ہم نے سویرا کیا تو اچانک عبدالرحمان فزاری نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی سواری پر حملہ کردیا ۳؎ تو میں ایک ٹیلہ پر کھڑا ہوا ۴؎ پھر مدینہ کی طرف منہ کیا اور ندا دی یا صباحاہ پھر میں اس قوم کے پیچھے چل پڑا ان پر تیر اندازی کرتا تھا ۵؎ اور یہ گیت شجاعت کہتا تھا ۶؎ کہ میں اکوع کا بیٹا ہوں،آج دودھ چھوٹنے کا دن ہے۷؎ تو میں تیر مارتا رہا ان کے جانور کاٹتا رہا ۸؎ حتی کہ اﷲ نے حضور کی سواریوں میں سے کوئی اونٹ پیدا نہ فرمایا تھا مگر میں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھےکر لیا ۹؎ پھر میں تیر مارتا ہوا ان کے پیچھے چلا حتی کہ وہ لوگ تیس چادروں سے زیادہ اور تیس نیزے پھینک گئے ۱۰؎ ہلکا ہونے کے لیے اور وہ نہیں پھینکتے تھے ۱۱؎ کوئی چیز مگر میں اس پر پتھروں کی نشانیاں رکھ دیتا تھا ۱۲؎ جسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ پہچان لیں۱۳؎حتی کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی سوار فوج دیکھ لی اور ابو قتادہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار عبدالرحمن پر جا پڑے اسے قتل کردیا۱۴؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آج ہمارے بہترین سواروں میں بہترین سوار ابوقتادہ ہیں اورپیادوں میں بہترین ۱۵؎ سلمہ ہیں پھر مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو حصے عطا فرمائے ایک حصہ سوار کا اور ایک حصہ پیادے کا یہ دونوں حصے میرے لیے جمع فرمادیئے ۱۶؎ پھر مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پیچھے عضباء پر سوار فرمایا ۱۷؎ مدینہ منورہ لوٹتے ہوئے ۱۸؎ (مسلم) |
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،بہادری میں بے مثال تھے،اکیلے پیدل بہت سے سوار کفار سے لڑتے تھے،کنیت آپ کی ابو مسلم تھی،مدنی ہیں، بیعۃ الرضوان میں شریک رہے،اسی۸۰ سال عمر ہوئی، ۷۴ چوہتّر ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔( اکمال،اشعہ وغیرہ)
۲؎ ظہر اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کی پشت سواری کے کام آتی ہو یعنی سواری کا اونٹ۔رباح ر کے فتحہ سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے غلام ہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے کچھ لائق سواری اونٹ مدینہ منورہ سے کسی جگہ بھیجے ان کی حفاظت کے لیے میں اور رباح بھیجے گئے۔
۳؎ عبدالرحمن فزاری عرب کا مشہور کافر ڈاکو تھا جس کے ساتھ اس کے ساتھیوں کی جماعت تھی جیسے اب بھی مشہو ر ڈاکو جتھہ والے ہوتے ہیں،اس ڈاکو نے اس موقعہ پر صرف دو صحابیوں کو دیکھ کر حضور انور کے اونٹ لوٹ لیے ہانک لے گیا،یہ واقعہ ۶ھ میں ہوا اس کا نام غزوہ ذی قرد ہے،قرد مدینہ کے پاس ایک جگہ ہے۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع