دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

ایک(۵) دارقطنی نے انہی ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ ہی روایت کی،دیکھو کتاب موتلف للدارقطنی۔ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سوار غازی کے دو حصے ہیں نہ کہ تین۔جن روایات میں تین حصوں کا ذکر ہے وہاں اتفاقی واقعہ مذکور ہے کہ گھوڑے کو بطور نفل ایک حصہ زیادہ دیا گیا اس لیے ان احادیث میں ماضی مطلق فرمایا کہا کان یعطی من ہے اس صورت میں احادیث جمع ہوجائیں گی تعارض نہ ہوگا۔اور ان بزرگوں کے قول پر دو حصوں والی روایات چھوڑنی پڑیں گی۔بہرحال مذہب امام اعظم بہت قوی ہے۔دو حصوں کی تائید اس روایت سے بھی ہورہی ہے جو مشکوۃ شریف کی دوسری فصل میں حضرت مجع سے آرہی ہے،ابھی اگلی حدیث میں آرہا ہے کہ غزوہ ذی قرد میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت سلمہ ابن اکوع کو پیدل اور سوار دونوں کے حصے دیئے تو ایک غازی کو دونوں حصے جمع فرمادینا  خصوصیت ہے قانون نہیں ایسے ہی یہ ہے۔

3988 -[4]

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَة يحْضرَانِ لمغنم هلْ يُقسَمُ لَهما؟ فَقَالَ ليزيدَ: اكْتُبْ إِلَيْهِ أَنَّهُ لَيْسَ لَهُمَا سَهْمٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا. وَفِي رِوَايَةٍ: كَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ فَقَدْ كَانَ يَغْزُو بِهِنَّ يُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ وَأَمَّا السَّهْمُ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ بِسَهْمٍ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت یزید ابن ہرمز سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نجدہ حروری نے ۲؎ حضرت ابن عباس کو خط لکھا وہ آپ سے اس غلام و عورت کے متعلق پوچھتا تھا جو غنیمت میں حاضر ہوں کہ کیا انہیں حصہ دیاجائے تو  آپ نے  یزید سے فرمایا کہ اسے لکھ دو کہ ان کے لئے حصہ نہیں مگر یہ کہ کچھ دے دیاجائے ۳؎ اور ایک روایت میں ہے کہ اسے حضرت ابن عباس نے لکھا  کہ تو نےلکھ کر مجھے پوچھا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے ساتھ غزوہ فرماتے تھے اور کہا ان کے لیے حصہ مقرر فرماتے تھے تو یقینًا حضور انور ان کے ساتھ غزوہ کرتے تھے یہ بیماریوں کا علاج کرتی تھیں اور غنیمت سے کچھ دے دی جاتی تھیں لیکن حصہ ان کے لئے مقرر نہ تھا  ۴؎ (مسلم)

۱؎ آپ ہمدانی ہیں،بنی لیث کے غلام ہیں،تابعی ہیں،ثقہ ہیں،اہل مدینہ سے ہیں۔

۲؎ نجدہ خوارج سے تھا،حرورہ ایک بستی کا نام ہے قریب کوفہ،اس بستی میں خوارج کا اجتماع تھا اس لیے خوارج کو حروری کہا جاتا ہے جیسے ہمارے ہاں قادیانی ایک مرتد فرقہ کالقب ہے،قادیان بستی کی طرف نسبت ہے۔

۳؎ یعنی اگر غلام جہاد کرے یا عورت زخمی غازیوں کی مرہم پٹی کرے تو غنیمت سے کچھ دے دیا جائے گا جو مقررہ حصے سے کم ہوگا پورا حصہ نہ دیا جائے گا لیکن اگر غلام صرف مولیٰ کی خدمت کرے اور عورت صرف اپنے خاوند کا کام کرے تو انہیں کچھ نہ ملے گا کہ اس صورت میں یہ تاجر کی طرح ہیں جو جہاد میں دو کان لےکر جاوے۔(اشعہ و مرقات و لمعات)

۴؎ اکثر علماء کا یہ ہی قول ہے امام اعظم کا بھی یہ ہی مذہب ہے کہ عورت اور غلام کو غنیمت سے کچھ دے دیا جائے اور باقاعدہ پورا حصہ نہ دیا جائے بشرطیکہ غلام جنگ کرے مولیٰ کی اجازت سے یا بغیر اجازت اور عورت غازیوں کی خدمت کرے کہ عورت کی خدمت مثل جنگ کے ہے۔

3989 -[5]

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِهِ مَعَ رَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِيُّ قَدْ أَغَارَ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ عَلَى أَكَمَةٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلَاثًا يَا صَبَاحَاهْ ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ وَأَقُولُ:أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعْ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعْ فَمَا زِلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ حَتَّى مَا خلَقَ اللَّهُ مِنْ بَعِيرٍ مِنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا خَلَّفْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي ثُمَّ اتَّبَعْتُهُمْ أَرْمِيهِمْ حَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً وَثَلَاثِينَ رُمْحًا يَسْتَخِفُّونَ وَلَا يَطْرَحُونَ شَيْئًا إِلَّا جَعَلْتُ عَلَيْهِ آرَامًا مِنَ الْحِجَارَةِ يَعْرِفُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى رَأَيْتُ فَوَارِسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ» . قَالَ: ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَيْنِ: سَهْمَ الْفَارِسِ وَسَهْمَ الرَّاجِلِ فَجَمَعَهُمَا إِلَيَّ جَمِيعًا ثُمَّ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعَيْنِ إِلَى الْمَدِينَةِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی سواری اپنے غلام رباح کے ساتھ بھیجی اور میں ان کے ساتھ تھا۲؎ تو جب ہم نے سویرا کیا تو اچانک عبدالرحمان فزاری نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی سواری پر حملہ کردیا ۳؎ تو میں ایک ٹیلہ پر کھڑا ہوا ۴؎ پھر مدینہ کی طرف منہ کیا اور ندا دی یا صباحاہ پھر میں اس قوم کے پیچھے چل پڑا ان پر تیر اندازی کرتا تھا ۵؎ اور یہ گیت شجاعت کہتا تھا ۶؎ کہ میں اکوع کا بیٹا ہوں،آج دودھ چھوٹنے کا دن ہے۷؎ تو میں تیر مارتا رہا ان کے جانور کاٹتا رہا ۸؎ حتی کہ اﷲ نے حضور کی سواریوں میں سے کوئی اونٹ پیدا نہ فرمایا تھا مگر میں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھےکر لیا ۹؎ پھر میں تیر مارتا ہوا ان کے پیچھے چلا حتی کہ وہ لوگ تیس چادروں سے زیادہ اور تیس نیزے پھینک گئے ۱۰؎ ہلکا ہونے کے لیے اور وہ نہیں پھینکتے تھے ۱۱؎ کوئی چیز مگر میں اس پر پتھروں کی نشانیاں رکھ دیتا تھا ۱۲؎ جسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ پہچان لیں۱۳؎حتی کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی سوار فوج دیکھ  لی اور ابو قتادہ  یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار عبدالرحمن پر جا پڑے اسے قتل کردیا۱۴؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آج ہمارے بہترین سواروں میں بہترین سوار ابوقتادہ ہیں اورپیادوں میں بہترین ۱۵؎ سلمہ ہیں پھر مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو حصے عطا فرمائے ایک حصہ سوار کا اور ایک حصہ پیادے کا یہ دونوں حصے میرے لیے جمع فرمادیئے ۱۶؎ پھر مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پیچھے عضباء پر سوار فرمایا ۱۷؎ مدینہ منورہ لوٹتے ہوئے ۱۸؎ (مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن