30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ یعنی میں نے اس مشرک پر ایسا سخت وار کیا کہ اس کی زرہ کاٹ کر گردن بھی سخت زخمی کردی وہ اس سے گھبرا گیا اس دبوچے ہوئے مسلمان کو چھوڑ کر مجھ سے لپٹ گیا مگر اس پر نزع کے آثار نمودار تھے اور وہ قریب موت تھا چنانچہ وہ کافر اسی حال میں مر گیا۔
۶؎ یعنی مسلمانوں کی یہ افراتفری رب تعالٰی کے ارادے سے ہے جو وہ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے یا گھبراؤ مت ان شاءاﷲ ہمیں اﷲ کی نصرت حاصل ہوگی اور مسلمانوں کے اکھڑے ہوئے قدم جم جائیں گے اور مسلمانوں کی فتح ہوگی۔اﷲ تعالٰی نے حضرت عمر کی یہ پیش گوئی سچی فرمادی۔(مرقات و اشعہ)
۷؎ اس طرح کہ ابوسفیان آج حضور انور کی سواری کی مہار تھامے تھے اور حضرت عباس سواری کے پیچھے تھے حضرت عباس نے گرج کر پکارا کہ اﷲ کے بندو رسول اﷲ یہاں ہیں ان کے پاس آؤ یہ آواز تمام غازیوں کے کان میں پہنچی سب لوگ حضور کے پاس جمع ہوگئے اور پھر جم کر حملہ کیا،اﷲ تعالٰی کے فضل سے جنگ جیت لی اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وہ شجاعت ظاہر ہوئی کہ سبحان اﷲ! حضور انور کے ساتھی چند غازی تھے تمام کفار نے مل کر حضور کی سواری کو گھیر لیا اور چوطرفہ سے حضور پر حملہ کردیا حضور انور یہ کہتے ہوئے سواری سے اترے انا النبی لاکذب انا ابن عبدالمطلب میں جھوٹا نبی نہیں ہوں میں عبدالمطلب کا پوتا ہوں،تلوار سونتی سواری سے اترنا تھا کہ کفار کائی کی طرح پھٹ گئے کوئی حضور پر حملہ نہ کرسکا ۔
۸؎ سلبہ سے مراد مقتول کا سامان ہے جیسے جوڑا،گھوڑا،ہتھیار وغیرہ۔اس غزوہ حنین میں حضرت ابوطلحہ نے بیس کفار قتل کیے اور ان سب کا سامان پالیا۔خیال رہے کہ حضرت امام شافعی و احمد کے ہاں یہ شرعی قانون ہے کہ جو غازی کسی کافر کو مارے تو اس کا سامان اسے ملے گا بشرطیکہ وہ غنیمت کا حصہ لینے کا حق دار ہو۔امام اعظم کے ہاں یہ قانون نہیں بلکہ بطور نفل ملے گا،اگر حاکم چاہے تو دے کیونکہ ایک حدیث میں یوں ہے کہ حضور نے غازی قاتل سے فرمایا لیس لك حتی سلب قتیلك الاطابت بہ نفس امامك تم کو مقتول کا وہ ہی مال ملے گا جو امام چاہے،نیز ابوجہل کو دو صاحبوں معاذ ابن عمرو اور معاذ ابن عفرء نے قتل کیا مگر حضور نے اس مردود کا سامان ایک صاحب معاذ ابن عمر ابن جموح کو دیا لہذا حق یہ ہی کہ حضور عالی کا یہ فرمان قانون جہاد نہیں بلکہ اپنے اختیار کا اعلان ہے۔
۹؎ یہ باربار کھڑا ہونا تلاش گواہ کے لیے تھا۔خیال رہے کہ امام شافعی کے ہاں قاتل غازی کو مقتول کا سامان شرعی گواہی ملنے پر دیا جائے گا،امام مالک کے ہاں اس بارے میں صرف غازی کا قول معتبر ہوگا گواہی ضروری نہیں،وہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ شرعی گواہی ہوتی تو دو گواہ چاہیے تھے ایک کافی نہ ہوتا کیونکہ یہ مال سارے غازیوں کا حق تھا صرف ایک گواہ سے کیسے دیا جاسکتا تھا لہذا امام مالک کے ہاں یہاں بیّنہ سے مراد گواہ نہیں بلکہ مطلقًا ثبوت ہے خواہ کسی غازی کی تصدیق ہو یا اور کوئی علامت۔(دیکھو مرقات)
۱۰؎ یعنی واقعی اس کافر کا قاتل یہ ہی ہے اس مقتول کا سامان میں نے لے لیا ہے حضور ان سے فرمادیں کہ وہ سامان مجھے دے دیں یا مجھے اس میں شریک کر لیں ان کی مہربانی ہوگی۔
۱۱؎ سبحان اﷲ! حضرت صدیق اکبر و اطہر نے کیا اچھا جواب دیا یعنی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ بہادری کے جوہر تو ابوقتادہ دکھائیں اور ان کا حق تم کو دے دیا جائے۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں بہادری دکھانے والوں کو خصوصی انعام و اکرام یا تمغہ وغیرہ دینا جائز ہے۔اس سے غازیوں کی ہمت بڑھتی ہے دوسروں کوبہادری دکھانے کا شوق ہوتا ہے۔اس انعام سے ثواب اخروی مطلقًا کم نہیں ہوتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع