دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۲؎ یہ جملہ امان میں لینے کی شرح ہے۔چنانچہ حضرت زینب بنت رسول اﷲ نے اپنے خاوند ابوالعاص کو امان دے دی جیساکہ پہلے گزر چکا اور حضرت ام ہانی نے اپنے دو دیوروں اور اپنے بیٹے کو امان دے دی اور تمام غازی صحابہ کو یہ امان ماننی پڑی۔

3979 -[3]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «من أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى نَفْسِهِ فَقَتَلَهُ أُعْطِيَ لِوَاءَ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقَيَامَةِ» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

روایت ہے حضرت عمرو بن حمق سے  ۱؎  فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو  فرماتے سنا جو کسی شخص کو  اس کی جان پر امان دے دے پھر اسے قتل کردے اسے قیامت کے دن غداری(بد عہدی)کا جھنڈا دیا جائے گا ۲؎ (شرح سنہ)

۱؎ آپ قبیلہ بنی خزاعہ سے ہیں،صحابی ہیں،حجۃ الوداع میں حضور کے ہاتھ پر ایمان لائے،حضور کی وفات کے بعد پہلے کوفہ میں پھر مصر میں مقیم رہے،    ۵۱ھ؁  اکیاون میں موصل میں عجیب و غریب طریقہ سے قتل کیے گئے،ان کے قتل کا عجیب قصہ امام سیوطی نے جمع الجوامع میں اور شیخ عبدالحق نے رسالہ تعمیم البشارہ کے حاشیہ میں لکھا ہے وہاں مطالعہ کرنا چاہیے۔

۲؎ اسے رسوا کرنے کے لیے اور یہ جھنڈا بدعہدی وغداری کی نشانی ہوگا جس سے محشر والے اس کی غداری معلوم کرلیں گے۔ خیال رہے کہ قیامت میں مسلمانوں کے خفیہ عیوب ظاہر نہ کیے جائیں گے علانیہ عیوب کا اعلان ہوگا لہذا یہ حدیث پردہ پوشی کی احادیث کے خلاف نہیں۔

3980 -[4]

وَعَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ الرُّومِ عَهْدٌ وَكَانَ يَسِيرُ نَحْوَ بِلَادِهِمْ حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْعَهْدُ أَغَارَ عَلَيْهِمْ فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ أَوْ بِرْذَوْنٍ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَفَاءٌ لَا غدر فَنظر فَإِذا هُوَ عَمْرو ابْن عَبَسَةَ فَسَأَلَهُ مُعَاوِيَةُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَلَا يَحُلَّنَّ عَهْدًا وَلَا يَشُدَّنَّهُ حَتَّى يُمْضِيَ أَمَدَهُ أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ» . قَالَ: فَرَجَعَ مُعَاوِيَة بِالنَّاسِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت سلیم ابن عامر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ اور روم کے درمیان معاہدہ تھا ۲؎ اور جناب معاویہ ان کے شہروں کی طرف چل دیئے تاکہ جب معاہدہ پورا ہو جائے تو فورًا ان پر حملہ کردیں۳؎  تو ایک شخص ترکی یا عربی گھوڑے پر سوار یہ کہتا ہوا آیا۴؎ اﷲ اکبر اﷲ اکبر وفا عہد ہو بدعہدی نہ ہو ۵؎ لوگوں نے غور کیا تو وہ حضرت عمرو ابن عبسہ تھے ۶؎  تو اس کے متعلق ان سے حضرت معاویہ نے پوچھا ۷؎ تو فرمایا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ  علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جس کا کسی قوم سے عہد ہو تو وہ نہ تو عہد کھولے نہ اسے بدلے ۸؎ حتی کہ اس کی مدت گزر جائے ۹؎  یا انہیں برابری پر خبر دے دے ۱۰؎  فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ لوگوں کو واپس لے گئے ۱۱؎(ترمذی،ابوداؤد)

۱؎ آپ تابعی ہیں،شام میں قیام رکھتے تھے،اپنے وقت کے عالم وفقیہ تھے،ابو حاتم کہتے ہیں کہ یہ راوی ثقہ ہیں۔

۲؎ یعنی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے زمانہ سلطنت میں کفار روم سے کچھ روز کے لیے عارضی صلح فرمائی تھی کہ فلاں تاریخ تک ہم تم سے جنگ نہ کریں گے۔

۳؎ یعنی جب مدت صلح ختم ہونے کے قریب ہوئی تو آپ مع لشکر جرار شام سے روم کی طرف روانہ ہوگئے اس ارادہ سے کہ مدت صلح ختم ہونے سے پہلے رومیوں کی سرحد پر پہنچ جائیں اور معاہدہ کی مدت ختم ہوتے ہی ان پر حملہ کردیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن