30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی بعض کو انہوں نے فی الحال قتل کردیا اور بعض کو قید کرلیا۔آئندہ قتل کردینے یا غلام بنالینے کی نیت سے حاکم کو اختیار ہوتا ہے کہ فورًا قتل کردے یا کچھ بعد میں۔
۴؎ یعنی وہ قیدی غازیوں میں تقسیم کردیئے گئے تاکہ انہیں حکم قتل تک محفوظ رکھیں پھر ایک دن حکم دیا کہ ہر شخص اپنے پاس محفوظ غلام کو خود قتل کردے۔
۵؎ کیونکہ مجھے شک ہے کہ یہ لوگ مسلمان ہوچکے ہیں ان کا کافر رہنا یقینی نہیں۔یہ ہے مجہتدین کا اختلاف کہ ایک لفظ کو حضرت خالد نے کفر کی دلیل بنایا اور حضرت عبداﷲ ابن عمر نے اسلام کی دلیل قرار دیا۔یہ دونوں حضرات اپنے خیال میں سچے ہیں مگر حضرت ابن عمر حق پر ہیں حضرت خالد سے خطا ہوئی۔
۶؎ یعنی حضرت خالد نے ان کے متعلق غلط رائے قائم کی اور انہیں قتل یا قید کیا یہ غلط کیا خدایا میں خالد کے اس فعل سے راضی نہیں مگر حضرت خالد کو نہ تو دیت کا حکم دیا نہ توبہ کا۔معلوم ہوا کہ اگرچہ مجتہد سے بڑی بھاری غلطی ہوجائے حتی کہ قتل بھی واقع ہوجائے تب بھی اس کی گرفت نہیں لہذا حضرت علی اور حضرت معاویہ و عائشہ صدیقہ میں سے کسی پر گناہ نہیں کہ وہاں کشت و خون ہوا مگر نفسانیت سے نہیں بلکہ للہیت سے،ان میں کوئی کسی کا ذاتی دشمن نہ تھا،اختلاف رائے سے یہ سب کچھ ہوا،ان کے متعلق رب فرماتاہے:"رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ"۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع