دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۱؎ یعنی میری قوم بنی قریظہ کے جوان بوڑھے تو سارے قتل کردیئے گئے بچے چھوڑ دیئے گئے ،جن کے جوان ہونے کا شبہ تھا ان کی تحقیق کی گئی میں اس تیسری جماعت میں تھا۔خیال رہے کہ یہ عطیہ ہیں تو صحابی مگر نہ ان کا پورا نام معلوم ہوسکا نہ ان کے باپ کا نہ حالات کا پتہ چلا۔

۲؎ خیال رہے کہ بچے کے بلوغ کی علامت احتلام ہے اور زیر ناف بال آجانا،چونکہ یہ لوگ قتل کے خوف سے احتلام کے متعلق غلط خبر دے دیتے اس لیے زیر ناف کے بال دیکھے گئے۔

3975 -[16]

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ عِبْدَانٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي الْحُدَيْبِيَةَ قَبْلَ الصُّلْحِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ مَوَالِيهِمْ قَالُوا: يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا خَرَجُوا إِلَيْكَ رَغْبَةً فِي دِينِكَ وَإِنَّمَا خَرَجُوا هَرَبًا مِنَ الرِّقِّ. فَقَالَ نَاسٌ: صَدَقُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رُدَّهُمْ إِلَيْهِمْ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «مَا أَرَاكُم تنتهونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مَنْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ عَلَى هَذَا».وَأَبَى أَنْ يَرُدَّهُمْ وَقَالَ: «هُمْ عُتَقَاءَ اللَّهِ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں دو  غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف آئے حدیبیہ کے دن صلح سے پہلے ۱؎ تو حضور کی خدمت میں ان کے مولاؤں نے لکھا بولے اے محمد خدا کی قسم یہ لوگ آپ کے پاس آپ کے دین سے محبت کی وجہ سے نہیں گئے وہ تو صرف غلامیت سے بھاگنے کے لیے نکلے ہیں ۲؎ تو کچھ لوگ بولے یارسول اللہ وہ سچے ہیں حضور انہیں ان کی طرف لوٹا دیں۳؎ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ناراض ہوئے۴؎  اور فرمایا کہ اے گروہ قریش تم لوگ باز نہ آؤ گے حتی کہ اﷲ تعالٰی تم پر اسے بھیجے جو اس پر تمہاری گردنیں مار دے ۵؎  اور انہیں واپس فرمانے سے انکارکردیا اور فرمایا کہ یہ اﷲ کے آزادکردہ ہیں ۶؎ (ابوداؤد)

۱؎ یعنی جس دن حضور صلی اللہ علیہ و سلم حدیبیہ کے میدان میں قیام پذیر ہوچکے تب مشرکین مکہ کے غلاموں میں سے دو غلام مسلمان ہوکر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس پہنچ گئے،صلح نامہ ان کے آچکنے کے بعد لکھا گیا۔اس صلح نامہ میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو کافر مسلمان ہوکر حضور انور کی خدمت میں حاضر ہوجائے اسے حضور واپس فرمادیں مگر چونکہ یہ دونوں اس تحریر سے پہلے ہی آچکے تھے اس لیے انہیں واپس نہیں کیا گیا اس لیے راوی نے قبل الصلح کی تصریح فرمادی۔

۲؎  خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ دل سے مسلمان نہیں ہوئے ہیں صرف غلامیت سے بھاگ نکلنے کے لیے اسلام ظاہر کرکے آپ کے پاس پہنچ گئے ہیں دل میں کافر ہی ہیں لہذا آپ انہیں واپس فرمادیں۔خیال رہے کہ بعض شارحین نے یہاں غلاموں سے مراد آزادکردہ غلام لیے ہیں وہ یہاں رق سے مراد اثر رق لیتے ہیں۔مرقات میں یہ بھی احتمال لیا ہے مگر پہلی توجیہ بہت قوی ہے کہ یہ دونوں غلام ہی تھے۔

۳؎  یعنی بعض صحابہ نے ظاہر حال کو دیکھ کر کفار کی اس تحریر کی تائید کی کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ لوگ آزاد ہونے کے لیے یہاں آئے ہیں۔

۴؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ان تائید کرنے والے صحابہ پر ناراض ہوئے کیونکہ ان حضرات نے محض اپنے خیال سے حکم شرعی کے خلاف رائے دی،نیز مسلمان ہوجانے والوں پر بلا دلیل شبہ کیا،ان کے اخلاص کا انکار فرمایا، نیز بلا دلیل مشرکوں کی تائید کی ان تین وجہوں سے اظہا ر ناراضگی فرمایا۔

۵؎  گروہ قریش سےمراد وہ کفار ہیں جنہوں نے یہ تحریر بھیجی تھی ان ہی پر اظہار غضب ہے۔ظاہر یہ ہے کہ حضور انور نے یہ فرمان عالی ان پیغامبروں کے سامنے فرمادیا تاکہ وہ لوگ ان تک پہنچادیں تحریر فرما کر نہ بھیجا یعنی تم خود تو کافر ہو مسلمانوں کو مرتد کرنے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن