دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۱؎ بدر کے ستر قیدیوں کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا تو حضرت ابوبکر صدیق نے تو انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دینے کی رائے دی کہ شاید آئندہ یہ لوگ مسلمان ہوجائیں اور ہم کو اس مال سے قوت حاصل ہو اور حضرت عمر نیز عمرو ابن سعد نے مشورہ دیا کہ سب قتل کردیئے جائیں کہ یہ سرداران کفر ہیں ان کے قتل سے کفر کا زور ٹوٹے گا،تب حضرت جبریل امین نے یہ عرض کیا جو یہاں مذکور ہے کہ تمام صحابہ کرام کے سامنے حضرت صدیق و فاروق کی رائے پیش فرما دیں۔وہ لوگ ان دونوں رایوں میں سے جونسی رائے چاہیں پسندکرلیں اگر انہیں قتل کردیں تو خیر اور اگر انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں تو اس کے عوض اگلے سال غزوہ احد میں ان میں سے بھی ستر صحابہ شہید ہوں گے۔ہماری اس شرح سے حدیث واضح ہوگئی جناب صدیق و فاروق سے رائے لینا اور تمام صحابہ کو اختیار دینا دونوں درست ہوگئے یہ اختیار دینا بھی رب تعالٰی کی طرف سے امتحان تھا۔

۲؎  یعنی ہم کو سال آئندہ شہادت کی سعادت منظور ہے ان قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔خیال رہے کہ ان بزرگوں نے مال کی محبت میں فدیہ اختیار نہ فرمایا بلکہ اپنی شہادت اور ان لوگوں کے ایمان لانے کی رغبت میں یہ اختیار کیا کہ یا تو خود یہ لوگ یا ان کی اولاد ایمان لاکر دین کی خدمت کریں مگر رب تعالٰی کا ارادہ تو یہ تھا جو صحابہ کی رائے ہو وہی ہو یعنی فدیہ لے کر چھوڑ دیا جانا مگر مرضی یہ تھی کہ یہ قتل کردیئے جائیں۔صحابہ کرام کی یہ رائے ارادۂ الٰہی کے مطابق ہوئی رضا الٰہی کے خلاف اس لیے ان حضرات پر وہ عتاب آیا جو آیۃ کریمہ میں مذکور ہے"لَوْلَاکِتٰبٌ مِّنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیۡمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیۡمٌارادہ اور رضا میں بڑا فرق ہے۔آدم علیہ السلام کا گندم کھالینا ارادۂ الٰہی کے عین مطابق تھا رضا الٰہی کے خلاف،رضا کی مخالفت کی وجہ سے ان پر عتاب ہوا جس سے توبہ کرائی گئی۔ارادۂ الٰہی کی مطابقت کی وجہ سے آپ کو خلافت زمینی عطا ہوئی ان حضرات پر مخالفت رضا الٰہی کی  وجہ سے عتاب۔عذاب سے ڈرانا ہوا اور ارادۂ الٰہی کی موافقت کا انجام یہ ہوا کہ یہ قیدی مسلمان ہوئے اسلامی خدمات انجام دیں یہ جواب نہایت باریک ہے۔خیال میں رکھو اب یہ حدیث آیت عتاب کے خلاف نہیں شارحین نے اور توجیہیں کی ہیں مگر ان شاءاﷲ فقیر کی یہ توجیہ قوی ہے حضرات صحابہ اﷲ کے محبوب ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غزوہ احد میں پیش آنے والی تکالیف سے نہ تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم بے خبر تھے نہ خاص صحابہ کرام،یہ بھی معلوم ہوا کہ عتاب الٰہی ناراضی کی بنا پر ہی نہیں ہوتا اس میں اور حکمتیں بھی ہوتی ہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی بندے کو اختیار دے کر بھی عتاب ہوسکتا ہے بلکہ عذاب سے ڈرایا جاسکتا ہے کہ تم نے دوسری شق اختیار کیوں نہ کی یہ اختیار دینا بھی امتحان تھا۔

۳؎ اس حدیث پر طعن نہیں حدیث بالکل صحیح ہے اگرچہ غریب بھی۔غریب ہونا صحت کے خلاف نہیں،دیکھو مرقات اور اشعۃ اللمعات،غرابت صحت کے خلاف نہیں۔

3974 -[15]

عَن عَطِيَّة القَرظِي قَالَ: كنتُ فِي سَبي قُرَيْظَةَ عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانُوا يَنْظُرُونَ فَمَنْ أَنْبَتَ الشَّعَرَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ لَمْ يُقْتَلْ فَكَشَفُوا عَانَتِي فَوَجَدُوهَا لَمْ تُنْبِتْ فَجَعَلُونِي فِي السَّبْيِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه. والدارمي

روایت ہے حضرت عطیہ قرظی سے فرماتے ہیں کہ میں قریظہ کے قیدیوں میں تھا ۱؎ ہم سب نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر پیش کیے گئے تو معائنہ کیے جاتے تھے جس کے بال اگ گئے تھے وہ قتل کردیا گیا اور جس کے نہ اگے تھے وہ قتل نہ کیا گیا چنانچہ میرا زیر ناف بدن بھی کھولا تو محسوس کیا کہ نہ اُگے تھے تو مجھے قیدیوں میں کر دیا ۲؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن