30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3971 -[12] وَعَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَسَرَ أَهْلَ بَدْرٍ قَتَلَ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ وَالنَّضْرَ بْنَ الْحَارِثِ وَمَنَّ عَلَى أَبِي عَزَّةَ الْجُمَحِيِّ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السّنة وَالشَّافِعِيّ وَابْن إِسْحَاق فِي «السِّيرَة» |
روایت ہے ان ہی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب بدر والوں کو قید کیا تو عقبہ ابن ابی معیط اور نضر ابن حارث کو تو قتل کردیا ۱؎ اور ابو عزہ جمحی پر احسان فرمایا۲؎ (شرح سنہ) |
۱؎ عقبہ ابن ابی معیط وہ ملعون ہے جس نے ایک بار حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی پیٹھ مبارک پر بحالت سجدہ اونٹ کی نجاست ڈالی تھی اور جناب فاطمہ نے ہٹائی تھی۔نضر ابن حارث بھی حضور کا بہت سخت دشمن تھا،ان دونوں کے قتل کردینے میں کفر کی طاقت کا توڑ دینا تھا اس لیے قتل کیے گئے۔(اشعہ)
۲؎ ابوعزہ جمحی کفار کا شاعر تھا جو اسلام کے خلاف قصیدے لکھا اور پڑھا کرتا تھا اسے بغیر فدیہ لیے ہی چھوڑ دیا اس کے لیے چھوڑ دینا ہی مفید تھا۔حضور انور حکیم ہیں،حکیم بیماری اور بیمار کے احوال سے خوب خبردار ہوتا ہے۔یہ حدیث ان کی دلیل ہے جو احسان کرکے کفارکو چھوڑ دینا اب بھی جائز سمجھتے ہیں۔احناف کے نزدیک یہ حکم منسوخ ہے۔خیال رہے کہ قیدی کافر کو کوئی غازی خود قتل نہیں کرسکتا بلکہ امام کی رائے سے قتل کرے گا مشرکین عرب اور مرتدین کے لیے یا قتل ہے یا اسلام،نہ انہیں غلام بنایا جائے نہ ان سے جزیہ لیا جائے اور جو کافر قیدی مسلمان ہوجائے اسے قتل نہیں کرسکتے غلام بناسکتے ہیں اور جو کافر قید ہونے سے پہلے مسلمان ہوجائے اسے نہ قتل کیا جائے نہ قید بلکہ وہ آزاد ہوگا۔تفصیل اس جگہ مرقات میں ملاحظہ کرو۔
|
3972 -[13] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ قَتْلَ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ قَالَ: مَنْ لِلصِّبْيَةِ؟ قَالَ: «النَّار» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عقبہ ابن ابی معیط کے قتل کا ارادہ کیا تو وہ بولا بچوں کا کون ہے ۱؎ فرمایا آگ ۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ صبیۃ ص کے کسرہ ب کے سکون سے،جمع ہے صبیٌ کے معنی چھوٹے بچے۔یعنی آپ مجھے تو قتل کیے دیتے ہیں میرے پیچھے میرے چھوٹے بچے کون پالے پرورش کرے گا۔
۲؎ یعنی تیرے لیے آگ ہے اپنی فکرکر بچوں کی فکر کیوں کرتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ تیرے بچوں کو آگ پالے گی۔یہ فرمان اظہار غضب کے لیے ہے اس معنی کی بنا پر یہ غیبی خبر ہے کہ تیرے بچے بھی تیری طرح دوزخی ہیں وہ بھی تیری طرح کافر ہی مریں گے۔
|
3973 -[14] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ جِبْرِيلَ هَبَطَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ: خَيِّرْهُمْ يَعْنِي أَصْحَابَكَ فِي أُسارى بدر: القتلَ والفداءَ عَلَى أَنْ يُقْتَلَ مِنْهُمْ قَابِلًا مِثْلُهُمْ " قَالُوا الْفِدَاءَ وَيُقْتَلَ مِنَّا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب |
روایت ہے حضرت علی سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کے جبریل امین حضور کے پاس حاضر ہوئے عرض کیا کہ آپ ان حضرات یعنی اپنے صحابہ کو بدر کے قیدیوں کے متعلق قتل و فدیہ کا اختیار دیں ۱؎ اس شرط پر کہ آئندہ سال اتنے ہی ان میں سے قتل کیے جائیں گے وہ بولے فدیہ چاہیے اور ہم ہی سے قتل کیے جائیں۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۳؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع