دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

3970 -[11]

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أُسَرَائِهِمْ بَعَثَتْ زَيْنَبُ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بِمَالٍ وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ لَهَا كَانَتْ عِنْدَ خَدِيجَةَ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً وَقَالَ: «إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا» فَقَالُوا: نَعَمْ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ عَلَيْهِ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَ زَيْنَبَ إِلَيْهِ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَرَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: «كونا ببطنِ يأحج حَتَّى تَمُرَّ بِكُمَا زَيْنَبُ فَتَصْحَبَاهَا حَتَّى تَأْتِيَا بهَا» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں جب مکہ والوں نے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے ۱؎ توحضرت زینب نے بھی ابوالعاص کے فدیہ میں کچھ مال بھیجا ۲؎ اس مال میں وہ اپنا ہار بھیجا جو جناب خدیجہ کے پاس تھا جسے دے کر زینب کو ابولعاص کے ہاں بھیجا تھا۳؎  تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ ہار دیکھا حضور کو اس پر بہت ہی رقت طاری ہوئی۳؎ اور فرمایا اگر تم لوگ مناسب سمجھو تو زینب کا قیدی چھوڑ دو اور ان کی چیزیں انہیں واپس کردو۴؎  سب نے کہا ہاں ضرور اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابوالعاص سے عہد لیا کہ وہ جناب زینب کا راستہ خالی کر دیں۵؎  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے زید ابن حارثہ کو ا ور ایک انصاری کو بھیجا ۶؎ ان سے فرمادیا کہ تم دونوں بطن یا جج میں رہنا۸؎  تا آنکہ تم پر زینب گزریں تو انہیں اپنے ساتھ لے آنا (احمد،ابوداؤد)

۱؎ یہ واقعہ غزوہ بدر کا ہے کہ۷۰کفار تو مسلمانوں کے ہاتھوں کے قتل ہوئے تھے اور ۷۰قیدی،ان قیدیوں کے متعلق حکم ہوا تھا کہ فدیہ میں مال دو اور آزاد ہوجاؤ،ان لوگوں نے مکہ معظمہ اپنے عزیزوں کو پیغام بھیجے وہاں سے ان کے عزیزوں نے مال بھیج کر انہیں آزاد کرایا۔

۲؎  حضرت زینب حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بڑی صاحبزادی ہیں جو ابوالعاص ابن ربیع ابن ربیع ابن عبدالعزی ابن عبدشمس ابن عبد مناف کے نکاح میں تھیں اور مکہ معظمہ میں رہتی تھیں،ابوالعاص بی بی خدیجہ کے بھانجے تھے،جنگ بدر میں کفار کے ساتھ مسلمانوں سے جنگ کرنے آئے تھے گرفتار ہوگئے حضرت زینب نے انہیں چھوڑانے کے لیے فدیہ کا مال بھیجا۔خیال رہے کہ اس وقت مؤمنہ عورت کا نکاح کافر مرد سے جائز تھا اس لیے حضرت زینب بنت رسول اللہ جناب ابوالعاص کے نکاح میں رہیں حالانکہ آپ مؤمنہ تھیں ابوالعاص کافر بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا۔اب مؤمنہ عورت نہ تو کافر سے نکاح کرسکتی ہے نہ اس کے نکاح میں رہ سکتی ہے۔

۳؎  یعنی یہ ہار ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ کا تھا جو جہیز میں آپ نے جناب زینب کو دیا تھا حضور کو یہ دیکھ کر حضرت خدیجہ یاد آگئیں۔

۴؎  جناب خدیجہ کو یادکرکے ان کی یہ نشانی دیکھ کر اپنی صاحبزادی زینب کی بےکسی اور بے بسی کا خیال فرماکر آپ کو گریہ طاری ہوگیا حضور کو جناب خدیجہ سے بہت ہی محبت تھی،ایک دفعہ کسی بی بی کی آواز سنی جو حضرت خدیجہ کی سی تھی تو آپ رو پڑے رضی اللہ عنہا۔

۵؎ یعنی اگر تم لوگوں کی رائے ہو تو ابوالعاص کو بغیر فدیہ بطور احسان چھوڑ دیا جائے حضور انور مالک ہیں جو چاہیں کریں مگر یہ رائے لینا ہم لوگوں کی تعلیم کے لیے ہے۔

۶؎ یعنی ابوالعاص کو چھوڑ تو دیا مگر ان سے یہ عہد لیا کہ مکہ معظمہ پہنچ کر حضرت زینب کو ہجرت کرکے مدینہ پاک آجانے کی اجازت دے دیں بلکہ حدود دارالاسلام تک پہنچا جائیں،ابوالعاص کے دل میں ایمان تو اسی وقت آگیا تھا مگر اس کا ظہور دوسرے وقت ہوا۔

۷؎ تاکہ جناب زینب کو لے آئیں اس وقت غیرمحرم کے ساتھ عورتوں کو سفر کرنا جائز تھا،چونکہ ابوالعاص اس وقت کافر تھے مدینہ منورہ نہ آسکتے تھے اور مسلمان مکہ معظمہ نہ جاسکتے تھے اس لیے یہ انتظام فرمایا گیا لہذا حدیث واضح ہے۔

۸؎ بطن یا جج  مکہ معظمہ سے خارج ایک نالہ ہے جو مقام تنعیم کے پاس مسجد حضرت عائشہ صدیقہ سے قریب ہے۔

۹؎ چنانچہ ابوالعاص نے اپنا وعدہ پورا کیا کہ مکہ معظمہ پہنچ کر پہلا کام یہ ہی کیا کہ حضرت زینب کو وہاں پہنچادیا۔ کچھ عرصہ کے بعد ابوالعاص شام کے تجارتی سفر سے واپس ہوتے ہوئے مدینہ منورہ کے قریب سے گزرے مسلمانوں نے چاہا کہ ان کا مال چھین کر انہیں گرفتار کرلیں،حضرت زینب کو پتہ چلا تو بولیں میں انہیں امان دیتی ہوں،یہ سن کر صحابہ کرام بغیر ہتھیار ابوالعاص سے ملے انہیں تبلیغ اسلام کی،انہوں نے جواب دیا کہ ابھی میرے پاس کفار مکہ کی کچھ امانات ہیں میں وہ امانات دے کر مسلمان ہوں گا۔چنانچہ آپ مکہ مکرمہ گئے تمام کی امانتیں واپس کیں پھر مسلمان ہوکر مدینہ منورہ آگئے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پرانے نکاح پر نیا نکاح پڑھا کہ حضرت زینب کو ان کے حوالہ فرمادیا۔حضور کو ابوالعاص سے بہت ہی محبت تھی،حضرت ابوالعاص خلافت صدیقی میں غزوہ یمامہ میں شہید ہوئے رضی اللہ عنہ۔(اشعہ)اﷲ تعالٰی ان کے طفیل ہم کو ایمان پر استقامت،حسن خاتمہ نصیب فرمائے۔

3971 -[12]

وَعَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَسَرَ أَهْلَ بَدْرٍ قَتَلَ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ وَالنَّضْرَ بْنَ الْحَارِثِ وَمَنَّ عَلَى أَبِي عَزَّةَ الْجُمَحِيِّ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السّنة وَالشَّافِعِيّ وَابْن إِسْحَاق فِي «السِّيرَة»

روایت ہے ان ہی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب بدر والوں کو قید کیا تو عقبہ ابن ابی معیط اور نضر ابن حارث کو تو قتل کردیا ۱؎ اور ابو عزہ جمحی پر احسان فرمایا۲؎ (شرح سنہ)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن