دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۶؎ ایسے قیدیوں پر کون رحم کرتا ہے مگر حضور رحمۃ اللعالمین ہیں کہ ایسوں پر بھی رحم فرماتے ہیں ایسوں کی بھی سنتے ہیں۔شعر

ایک تم ہو کہ بخش دیتے ہو                     کون ان جرموں پر سزا نہ کرے

۷؎ یا تو پہلے سے ہی مسلمان ہوں یا اب حضور کے دیدار کی برکت سے مسلمان ہوگیا ہوں۔(مرقات)مگر دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں جیساکہ ظاہر ہے۔

۸؎  یعنی قید ہونے گرفتار کیے جانے سے پہلے کہہ دیتا تو پکڑا نہ جاتا۔خیال رہے کہ اگر کافری قیدی کہے کہ میں تو گرفتاری سے پہلے ہی مسلمان تھا تو اس کی بات نہ مانی جائے گی جب تک اپنے دعویٰ پر شرعی گواہی قائم نہ کرے اور اگر قید ہونے کے بعد مسلمان ہوجائے تو اسے قتل نہ کیا جائے گا مگر غلام بنالیا جائے۔اس وقت کا اسلام قتل سے بچالے گا غلامیت سے نہ بچاسکے گا اور اگر قیدی قید ہوچکنے کے بعد جزیہ قبول کرلے اس کے قتل کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے۔(مرقات)

۹؎ اس طرح کہ دنیا میں تو قیدوغلامیت کی ذلت سے بچ جاتا اور آخرت میں عذاب الٰہی سے،اب اس وقت مسلمان ہونے سے تو آگ سے بچ گیا مگر غلامیت کی قید سے نہ بچ سکا۔یہاں اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا یہ اسلام قبول نہ کیا کیونکہ حضورکو اس کے منافق ہونے کا پتہ تھا کبھی حضور حقیقت پرحکم جاری فرماتے تھے۔مدعی اسلام کے قتل کا حکم دیا ہے اور پھر کچھ عرصہ بعد وہ کافر ہوکر مرا۔ (اشعہ)

۱۰؎ یعنی کچھ عرصہ کے بعد حضور انور نے اسے کفار کے حوالہ کردیا اور اس کے عوض اپنے مسلمان قیدی کفار سے چھڑا لیے۔اس سے معلوم ہوا کہ جوشخص قیدی ہوچکنے کے بعد مسلمان ہو اس کو قدیمی مسلمان کو چھوڑانے کے لیے فدیہ دیا جاسکتا ہے۔ہدایہ میں ہے کہ ایسے قیدی کو فدیہ میں دینا جائز نہیں جو بحالت قید مسلمان ہوچکا ہو۔اگر ہمارا اور کفار کا معاہدہ اس قسم کا ہوچکا ہو کہ بعد صلح فریقین اپنے قیدیوں کو چھوڑدیں تو ایسے مسلمان قیدیوں کو چھوڑنا پڑے گا۔(مرقات)مگر ایسے عورتوں بچوں کو فدیہ میں بھی نہ دیا جائے گا جو قید ہوکر مسلمان ہوگئے ہوں۔اس کی پوری بحث فتح القدیر میں اور اس جگہ مرقات میں دیکھو۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3970 -[11]

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أُسَرَائِهِمْ بَعَثَتْ زَيْنَبُ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بِمَالٍ وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ لَهَا كَانَتْ عِنْدَ خَدِيجَةَ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً وَقَالَ: «إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا» فَقَالُوا: نَعَمْ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ عَلَيْهِ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَ زَيْنَبَ إِلَيْهِ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَرَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: «كونا ببطنِ يأحج حَتَّى تَمُرَّ بِكُمَا زَيْنَبُ فَتَصْحَبَاهَا حَتَّى تَأْتِيَا بهَا» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں جب مکہ والوں نے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے ۱؎ توحضرت زینب نے بھی ابوالعاص کے فدیہ میں کچھ مال بھیجا ۲؎ اس مال میں وہ اپنا ہار بھیجا جو جناب خدیجہ کے پاس تھا جسے دے کر زینب کو ابولعاص کے ہاں بھیجا تھا۳؎  تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ ہار دیکھا حضور کو اس پر بہت ہی رقت طاری ہوئی۳؎ اور فرمایا اگر تم لوگ مناسب سمجھو تو زینب کا قیدی چھوڑ دو اور ان کی چیزیں انہیں واپس کردو۴؎  سب نے کہا ہاں ضرور اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابوالعاص سے عہد لیا کہ وہ جناب زینب کا راستہ خالی کر دیں۵؎  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے زید ابن حارثہ کو ا ور ایک انصاری کو بھیجا ۶؎ ان سے فرمادیا کہ تم دونوں بطن یا جج میں رہنا۸؎  تا آنکہ تم پر زینب گزریں تو انہیں اپنے ساتھ لے آنا (احمد،ابوداؤد)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن