30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3969 -[10] وَعَن عمرَان بن حُصَيْن قَالَ: كَانَت ثَقِيفٌ حَلِيفًا لِبَنِي عُقَيْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِيفٌ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسَرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ فَأَوْثَقُوهُ فَطَرَحُوهُ فِي الْحَرَّةِ فَمَرَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ فِيمَ أُخِذْتُ؟ قَالَ: «بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكُمْ ثَقِيفٍ» فَتَرَكَهُ وَمَضَى فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ فَرَحِمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فرجعَ فَقَالَ: «مَا شَأْنُكَ؟» قَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ. فَقَالَ: «لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ».قَالَ:فَفَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالرجلينِ اللَّذينِ أسرَتْهُما ثقيفٌ. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ ثقیف بنی عقیل کے حلیف تھے ۱؎ تو ثقیف نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے دو کو قید کرلیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ نے بنی عقیل میں سے ایک شخص کو قید کرلیا ۲؎ تو اسے باندھ دیا پھر اسے مقام حرہ میں ڈال دیا ۳؎ پھر اس پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم گزرے ۴؎ اس نے حضور کو پکارا اے محمد اے محمد میں کس جرم میں پکڑا گیا،فرمایا اپنی قوم کے حلیف ثقیف کے جرم میں ۵؎ پھر حضور نے اسے یونہی چھوڑا اور چل دیئے اس نے پھر کہا یامحمد اس پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے رحم فرمایا لوٹ آئے ۶؎ فرمایا تیرا کیا حال ہے وہ بولا میں مسلمان ہوں۷؎ فرمایا اگر تو یہ بات اس وقت کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا ۸؎ تو پوری کامیابی پاتا ۹؎ راوی فرماتے ہیں پھر اسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دو شخصوں کے فدیہ میں دے دیا جنہیں ثقیف نے گرفتار کرلیا تھا۱۰؎(مسلم) |
۱؎ یعنی اسلام سے پہلے بنی ثقیف جو ہوازن کا ایک خاندان ہے بنی عقیل کے حلیف تھے۔حلیف وہ کہلاتا تھا جس کا کسی سے معاہدہ ہوجائے کہ ہم دونوں ہر نیک و بد،خیروشر میں ایک دوسرے کے ساتھی رہیں گے۔اس معاہدہ کو حلف کہتے تھے،معاہدہ کرنے والوں کو حلیف۔اسلام نے گزشتہ معاہدوں کو کچھ ترمیم کے ساتھ باقی رکھا کہ اچھی بات پر معاہدہ ٹھیک ہے بری بات پر معاہدہ غلط۔آئندہ کے لیے حلیف سے منع فرمادیا کہ حضور نے ارشاد فرمایا لا حلف فی الاسلام کیونکہ اسلام کا معاہدہ ہی کافی ہے۔
۲؎ اس زمانہ کے قاعدہ کے مطابق ایک حلیف دوسرے حلیف کے جرم میں پکڑا جاتا تھا،ثقیف نے مسلمان پکڑ لیے تو اس کے عوض ثقیف کے حلیف بنی عقیل کا ایک آدمی پکڑ لیا تاکہ بنی ثقیف اپنے حلیف کو چھوڑنے کے لیے ہمارے مسلمانوں کو چھوڑ دیں۔
۳؎ حرہ بیرون مدینہ میدان کا نام ہے جو پتھریلا علاقہ ہے وہاں سایہ وغیرہ نہیں سیاہ پتھر ہیں وہاں ڈالا تاکہ یہ قیدی اپنی تکلیف اپنی قوم کو پہنچائے،وہ لوگ جلد از جلد اسے چھوڑانے کے لیے مسلمان قیدیوں کو آزاد کردیں۔اس زمانہ میں بھی منافقین مدینہ کفار کے جاسوس تھے جو یہاں کے حالات کفار کو بتاتے رہتے تھے۔
۴؎ تاکہ اس کا دکھ درد دیکھیں اور سنیں اس کے کھانا پانی کا انتظام فرمادیں اس لیے خود بہ نفس نفیس شہر مدینہ سے حرہ تشریف لے گئے۔
۵؎ خیال رہے کہ قبیلہ بنی ثقیف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے درمیان معاہدہ ہوچکا تھا کہ ہم دونوں فریق صلح سے رہیں گے،ثقیف نے حضور سے بدعہدی کی،بنی عقیل کا فرض تھا کہ وہ اپنے ان حلیفوں کو اس بدعہدی سے منع کرتے مگر وہ خاموش رہے یہ ان کی طرف سے گویا بدعہدی ہوئی یعنی تو بنی عقیل کا ایک فرد ہے تو بنی ثقیف کا معاہدہ حلیف ہے تیرے حلیفوں نے ہم سے بدعہدی کی تو ان کے جرم میں گرفتار ہوا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع