30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شہید ہوگئے،عین حطیم کعبہ میں یہ واقعہ شروع ربیع الاول ۶۴ چونسٹھ ہجری میں ہوا،آپ سے بہت سے لوگوں نے احادیث روایت کیں۔
۳؎ فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین ہوا یہ غزوہ ا سی قبیلہ ہوازن پر ہوا تھا،اس میں بہت قیدی اور بہت مال غنیمت مسلمانوں کو حاصل ہوا، پھر یہ ہی لوگ مسلمان ہوکر مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے درخواست کی سرکار نے ان پررحم خسروانہ فرمایا۔
۴؎ یعنی اس قبیلہ نے درخواست پیش کی کہ ہمارے قیدی چھوڑ دیئے جائیں اور ہمارا مال جو غنیمت بن چکا ہے ہم کو واپس کردیا جائے قیدی سات ہزار تھے مال کا تو حساب ہی نہ تھا۔(مرقات)
۵؎ جب قبیلہ ہوازن کو یقین ہوگیا کہ حضور انور دونوں چیزیں واپس نہ فرمائیں گے تو بولے کہ اچھا ہمارے قیدی چھوڑ دیئے جائیں ہم مال نہیں چاہتے کیونکہ ان کے غلام بننے میں ہماری ذلت ہے۔
۶؎ یہ ہے رب تعالٰی کی بے نیازی،کہ جو کل تک مسلمانوں کے سخت دشمن تھے وہ آج مسلمان ہوکر بھائی بن گئے اور یہ ہے حضور کی کرم نوازی کہ دشمن کو گلے لگالیتے ہیں۔
۷؎ یعنی سارے ہوازنی قیدی بغیر فدیہ لیے ہوئے چھوڑ دوں۔
۸؎ ہوازن کے قیدی مسلمان غازیوں میں تقسیم کر دیئے گئے تھے۔اب حضور انور کی رائے یہ ہوئی کہ وہ تمام قیدی آنے والے ہوازن کو واپس کردیئے جائیں بغیر فدیہ چھوڑ دیئے جائیں لہذا ان غازیوں سے فرمایا کہ ہر شخص اپنے حصہ کا قیدی واپس کردے جو معاوضہ واپس کرنا چاہے بطیب خاطرتو وہ ایسا ہی کرے۔
۹؎ یعنی جو غازی بلا معاوضہ واپس نہ کرنا چاہے تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اب جس جہاد میں بھی کفار قیدی ہاتھ آئیں گے اسے اس کے عوض غلام دیا جائے گا۔معلوم ہوا کہ قیدی واپس کرنے کا حکم سرکاری تھا جس پر عمل کرنا ہر غازی پر واجب تھا اور معاوضہ لینے نہ لینے کا اختیار تھا۔خیال رہے کہ یفئ بنا ہے فئی سے،فئ وہ مال ہے جو کفار سے بغیر جنگ حاصل کیا جائے،جزیہ و خراج بھی اس میں داخل ہے مگر یہاں فئ سے مراد غنیمت ہے۔(مرقات و اشعہ)غنیمت وہ مال ہے جو کفار سے بحالت جنگ لڑ کر حاصل کیا جائے۔
۱۰؎ یعنی تمام صحابہ نے یک زبان ہوکر عرض کیا کہ ہم بغیر معاوضہ بخوشی اپنا اپنا قیدی واپس کرتے ہیں معاوضہ کے طلبگار نہیں۔
۱۱؎ یعنی ہم تم میں سے ہر شخص سے علیٰحدہ علیٰحدہ نہیں پوچھ سکتے جماعتی حیثیت سے یہ سوال و جواب ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی شخص معاوضہ ہی چاہتا ہو مگر اب مجلس میں خاموش رہا ہو یا بولا ہو تو ان آوازوں میں اس کی آواز دب گئی ہو اس لیے یہ جماعتی اجازت کافی نہیں۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہر شخص کے دل کے ارادے سے خبردار ہیں مگر تعلیم امت کے لیے یہ احتیاط فرما رہے ہیں تاکہ بادشاہ یا حاکم یا اور کوئی کسی کا مملوک مال بغیر اس کی صریحی اجازت کے کبھی نہ لے ورنہ حضور تو مسلمانوں کی جان و مال کے مالک ہیں،ہم سب حضور کے لونڈی غلام ہیں ہمارا مال جسے چاہیں بغیر پوچھے دے دیں۔(دیکھو ہماری کتاب سلطنت مصطفی) یہاں تعلیم مقصود ہے۔
۱۲؎ عرفاء جمع ہے عریف کی،عریف کے معنی ہیں رئیس نقیب سردار یعنی ہر قبیلہ کا ہر شخص اپنے سردار سے اپنا ارادہ بیان کرے وہ سردار ہم تک پیغام پہنچادے۔
۱۳؎ یعنی ایسا ہی ہوا کہ ہر ہر قبیلہ کا سردار اپنے قبیلہ کے ہر غازی صحابی سے ملا،ہر ایک کا ارادہ علیٰحدہ علیٰحدہ معلوم کیا پھر حضور انور کی خدمت میں پیش کیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع