30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب(۲)آیت"مَاۤ اَنۡتَ بِمُسْمِعٍ مَّنۡ فِی الْقُبُوۡرِ"میں بھی قبر والوں سے مراد کفار ہیں جن کے مردہ دل ان کے سینوں میں بے حس دفن ہیں۔قرآن کریم نے آنکھ،کان،ناک والے کفار کو بہرا اندھا فرمایا ہے،فرماتاہے:"صُمٌّۢ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لَا یَرْجِعُوۡنَ"ان قرآنی آیات سے واضح ہے کہ اگر بفرض محال مان لیا جائے کہ ان دونوں آیتوں میں مردے ہی مراد ہیں تو بھی ان میں مردوں کے سننے کی نفی نہیں بلکہ حضور کے سنانے کی نفی ہے یعنی مردوں کو آپ نہیں سنا سکتے ہم سنا سکتے ہیں یا مفید سنانا ہے یعنی مردے آپ کا کلام سن کر فائدہ نہیں اٹھا سکتے کہ فائدہ زندگی میں اٹھایا جاسکتا تھا۔
جواب(۳)ہم بحوالہ اشعۃ اللمعات عرض کرچکے کہ حضر ت عائشہ صدیقہ نے اس سے رجوع فرمالیا،وہ اوّلًا سماع موتی کا انکار فرماتی تھیں پھر قائل ہوگئیں،خود انہوں نے حضرت عبدالرحمن کی قبر پر جاکر ان سے خطاب فرمایا،حضرت عمر فاروق کے دفن ہوجانے پر روضہ انور میں با پردہ جانے کا التزام فرمایاحضرت عمر سے شرم و حیا کی وجہ سے۔
جواب(۴)قسم میں عرف کا اعتبار ہوتا ہے،دیکھو مچھلی کو قرآن کریم میں گوشت فرمایا:"لَحْمًا طَرِیًّا"مگر فقہاء قسم کے موقعہ پر اسے گوشت نہیں مانتے،جوشخص گوشت نہ کھانے کی قسم کھائے وہ مچھلی کھانے سے حانث نہیں ہوتا،کیوں،اس لیے کہ اسے عرف میں گوشت نہیں کہتے لہذا جوعرف میں بولنے سے مراد ہوتا ہے ظاہری سوال و جواب والا بولنا،مردے سے بولنے کو عرفًا بولنا نہیں کہتے اس لیے مردے سے کلام کرنے والا حانث نہیں ہوتا بہرحال یہ دلائل نہایت کمزور ہیں۔
دوسری جماعت کے پاس کوئی دلیل نہیں صرف حضرت قتادہ کی رائے ہے جو قرآن کریم کے بھی خلاف ہے اور حدیث شریف کے بھی۔مردے میں بعض وقت جان پڑجانا پھر نکل جانا یہ پڑتے نکلتے رہنا قتادہ کی رائے ہے کسی آیت یا حدیث میں اس کا ذکر نہیں لہذا اس کے جواب دینے کی ضرورت ہی نہیں۔بہرحال حق یہ ہے کہ مردے زندوں کا کلام سنتے انہیں جانتے پہچانتے ہیں۔
قبروں سے فیض لینا:اس کی مکمل بحث ہم مرآت جلد دوم باب زیارت قبو رمیں کرچکے ہیں یہاں اتنا سمجھ لو کہ بعض کی یہ گفتگو سن لینا حضور کی خصوصیات سے ہے جو رب تعالٰی نے ایک خاص حکمت سے وہاں ظاہر فرمائی،ورنہ عام مردے بلکہ خود مقتولین خشک علماء اس کے منکر ہوئے ہیں مگر صاحب کشف اولیاءوعلماء کا عقیدہ ہے کہ بزرگان دین کی قبور سے مدد لینا،فیض حاصل کرنا بالکل درست ہے،انکے فیوض سے مایوس ہونا کفارکر طریقہ ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَئِسُوۡا مِنَ الْاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوۡرِ"یہ لوگ آخرت سے ایسے مایوس ہیں جیسے کفار قبر والوں سے مایوس ہیں۔معلوم ہوا کہ اہل قبور کے فیوض سے مایوس طریقۂ کفار ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ نے ایک بار بارش کے لیے حضور کے روضہ انور کی چھت کھلوادی فورًا بارش آئی۔(مشکوۃ شریف باب الکرامات)رب العالمین نے بنی اسرائیل کو حکم دیا "ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ"بیت المقدس کے دروازہ میں سجدہ کرتے جاؤ اور کہو کہ مولیٰ معافی دے دے۔وہاں کیوں بھیجا مدفون انبیاء کرام کی قبروں سے فیض حاصل کرنے کے لیے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضور کی معراج کی رات پچاس نمازوں کی پانچ کرادیں،یہ قبور والوں کی مدد ہی تو ہے۔ اس مسئلہ کی تحقیق مرآت جلد دوم باب زیارۃ قبور میں دیکھو اور حیات انبیاء کی تحقیق باب الجمعۃ میں کی جاچکی ہے۔
|
3968 -[9] وَعَنْ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفد من هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ: " فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ: إِمَّا السَّبْيَ وَإِمَّا الْمَالَ ". قَالُوا: فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ: «أمَّا بعدُ فإِنَّ إِخْوانَكم قدْ جاؤوا تَائِبِينَ وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حظِّه حَتَّى نُعطِيَه إِيَّاهُ منْ أوَّلِ مَا يَفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ» فَقَالَ النَّاسُ: قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ» . فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قد طيَّبوا وأَذنوا. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے مروان ۱؎ اور حضرت مسور ابن مخرمہ سے ۲؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے قیام فرمایا جب کہ حضور کے پاس ہوازن کا وفد مسلمان ہوکر آیا۳؎ تو انہوں نے حضور سے سوال کیا انہیں ان کے مال اور قیدی واپس کردیں۴؎ تو فرمایا کہ تم لوگ ان دو میں سے ایک کو اختیارکرلو یا قیدی یا مال تو وہ بولے کہ ہم اپنے قیدی اختیارکرتے ہیں۵؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے قیام فرمایا اﷲ کی وہ تعریف فرمائی جو اس کی شان کے لائق ہے پھر فرمایا کہ بعد حمد تمہارے بھائی توبہ کرتے ہوئے آئے ہیں ۶؎ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی انہیں واپس کردوں ۷؎ تو تم میں سے جو پسندکرے کہ بخوشی یہ کرے تو وہ کرے ۸؎ اور تم میں سے جو اپنے حصہ پر رہنا چاہے حتی کہ اس میں سے عطا فرمائیں جو اﷲ ہمیں غنیمت دے تو وہ یوں کرے ۹؎ تب لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہم نے بخوشی قبول کرلیا ۱۰؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم کو تم میں سے اجازت دینے والوں کا پتہ نہ چلا ان میں سے جنہوں نے اجازت نہ دی ۱۱؎ تو تم واپس جاؤ حتی کہ تمہارے سردار تمہارا ارادہ ہم تک پہنچادیں۱۲؎ تب لوگ لوٹ گئے پھر ان سے ان کے سردار نے گفتگو کی پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف لوٹے خبر دی کہ ان سب نے خوشدلی سے اجازت دے دی۱۳؎(بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع