30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی اس آیت کے نزول پر متعہ حرام ہوگیا کیونکہ ممتوعہ عورت نہ بیوی ہے نہ لونڈی تو لامحالہ رنڈی زانیہ ہو گی اور اسلام میں زنا تمام قسموں کے ساتھ حرام ہوچکا ہے۔
۴؎ خلاصہ یہ ہے کہ اب سوائے بیوی و لونڈی کے تمام عورتیں حرام ہیں اور ممتوعہ عورت ان دونوں کے سوا ہے اس لیے ممتوعہ عورت کو اس متاعی خاوند کی میراث نہیں ملتی نہ اس عورت کی خاوند کو نہ ممتوعہ عورت سے، روافض کے ہاں حرمت مصاہرت ثابت ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن عباس نے متعہ کی حلت کے خیال سے رجوع فرمالیا۔ مسلم شریف میں ہے کہ حضرت علی نے سنا کہ حضرت عبداﷲ ابن عباس متعہ حلال جانتے ہیں تو آپ نے فرمایا اے ابن عباس خبردار میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود سنا کہ آپ نے خیبر کے دن متعہ اور پالتو گدھا حرام فرمایا، اسی مسلم شریف میں بروایت عروہ ابن زبیر ہے کہ عبداﷲ ابن زبیر نے مکہ معظمہ میں فرمایا بعض آنکھوں اور دل کے اندھے اب تک متعہ کے جواز کا فتویٰ دے رہے ہیں تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ امام المتقین صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں متعہ ہوتا تھا اس پر حضرت زبیر نے فرمایا کہ اچھا تم اپنے پر تجربہ کرکے دیکھ لو اگر تم متعہ کرو تو میں تم کو بھی سنگسار کردوں، اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن عباس نے جناب علی کے فرمان پر متعہ سے رجوع نہ کیا بہت عرصہ بعد رجوع فرمایا۔(مرقات) تمام صحابہ حضرت ابن عباس کے فتویٰ جواز متعہ کے خلاف ہوگئے تھے حتی کہ ان کے خلاف شعر لکھے گئے جن میں سے دو شعر یہ ہیں۔
ھل لك رخصۃ الاطراف آنسہ تکون مثواك حتی مصدر الناس
قد قلت للشیخ لما طال محبسہ یا صاح ھل لك فی فتویٰ ابن عباس
حضرت ابن عباس نے یہ شعر سن کر فرمایا قسم رب کی میں نے متعہ کی حلت کا فتویٰ نہ دیا،متعہ تو خون،سور،مردار کی طرح حرام ہے۔(مرقات)
|
3159 -[20] وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ فِي عُرْسٍ وَإِذَا جِوَارٍ يُغَنِّينَ فَقُلْتُ: أَيْ صَاحِبَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلَ بَدْرٍ يُفْعَلُ هَذَا عِنْدَكُمْ؟ فَقَالَا: اجْلِسْ إِنْ شِئْتَ فَاسْمَعْ مَعَنَا وَإِنْ شِئْتَ فَاذْهَبْ فَإِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ لَنَا فِي اللَّهْوِ عِنْدَ الْعُرْسِ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت عامر ابن سعد سے فرماتے ہیں میں قرظہ ابن کعب اور ابو مسعود انصاری کے پاس ایک شادی میں گیا ۱؎ تو ناگاہ کچھ بچیاں گا رہی تھیں میں نے کہا اے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیو اور اے بدر والو! تمہارے پاس یہ کام کیا جارہا ہے ۲؎ تو وہ دونوں صاحب بولے اگر تم چاہو بیٹھو اور ہمارے ساتھ سنو اور اگر چاہو چلے جاؤ ہم کو شادی کے موقع پر لہو و لعب کی اجازت دی گئی ہے ۳؎(نسائی) |
۱؎ عامر ابن سعد ابن ابی وقاص مشہور تابعی ہیں اور قرظہ ابن کعب(ق،ر،ظ)سے اور ابو مسعود دونوں صحابی ہیں بدری ہیں۔
۲؎ یعنی اسلام میں گانا مطلقًا حرام ہے اور تمہارے سامنے بچیاں گارہی ہیں تم دونوں جلیل الشان صحابی منع نہیں کرتے لوگ تمہارے منع نہ کرنے کی وجہ سے اسے جائز سمجھیں گے یہاں جمع دو کے لیے بولی گئی۔
۳؎ یعنی شادی بیاہ میں ننھی بچیوں کا جائز گیت گانے کی اجازت ہے جائز کام کو ہم کیوں روکیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع