30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ یعنی اﷲ تعالٰی کا ہی کرم تھا کہ اس نے ان اسّی کافروں کے دل میں تمہارا رعب ڈال دیا جس سے وہ تم سے لڑ نہ سکے بلکہ گرفتار ہوگئے اور تمہارے دل میں رحم و کرم ڈال دیا جس سے تم نے انہیں قتل یا قید نہ کیا بلکہ چھوڑ دیا جس کا نتیجہ آخر کار صلح ہوا۔اس جگہ کو بطن مکہ اس لیے فرمایا گیا کہ مکہ معظمہ سے حدیبیہ بہت ہی قریب ہے حتی کہ اس کا ایک حصہ حرم شریف میں ہی واقع ہے اس آیۃ کریمہ کی اور بہت تفسیریں کی گئی ہیں مگر قوی تفسیر یہ ہی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم بلکہ صحابہ کرام کو بارگاہ الٰہی میں وہ قرب حاصل ہے کہ ان کے فعل کو رب تعالٰی اپنا فعل قرار دیتا ہے کہ یہاں اس آیت کریمہ میں رب نے فرمایا:"کَفَّ اَیۡدِیَہُمْ"۔
|
3967 -[8] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ فَقَذَفُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ وَكَانَ ذَا ظهرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَلَمَّا كَانَ بِبَدْرٍ الْيَوْمَ الثَّالِثَ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشَدَّ عَلَيْهَا رَحْلَهَا ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وأسماءِ آبائِهم: «يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ وَيَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ أَيَسُرُّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ؟ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجدتمْ مَا وعدَكم رَبُّكُمْ حَقًّا؟» فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تُكَلِّمَ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ لَهَا؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ».وَفِي رِوَايَةٍ: «مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لَا يُجِيبُونَ».مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ الْبُخَارِيُّ: قَالَ قَتَادَةُ: أَحْيَاهُمُ اللَّهُ حَتَّى أَسْمَعَهُمْ قولَه توْبيخاً وتصغيرا ونقمة وحسرة وندما |
روایت ہے حضرت قتادہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم سے انس ابن مالک نے بروایت ابو طلحہ ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے دن چوبیس سرداران قریش کے متعلق حکم دیا ۲؎ تو وہ بدر کے کنوؤں میں سے ایک گندے اور پلیدکنویں میں۳؎ ڈال دیئے گئے اور جب حضورکسی قوم پر غالب آتے تھے تو میدانِ جنگ میں تین شب قیام فرماتے تھے۴؎ چنانچہ جب بدر میں تیسرا دن ہوا تو اپنی سواری کے متعلق حکم دیا تو اس پر پالان باندھ دیا گیا ۵؎ پھر حضور چلے اور حضور کے صحابہ پیچھے پیچھے گئے حتی کہ کنوئیں کے کنارے پر کھڑے ہوئے ۶؎ تو انہیں ان کے اور ان کے باپ داداؤں کے نام سے پکارنے لگے کہ اے فلاں ابن فلاں اور اے فلاں ابن فلاں ۷؎ کیا اب تم کو یہ پسند ہے کہ تم نے اﷲ رسول کی اطاعت کی ہوتی ۸؎ ہم نے تو وہ حق پایا جو ہم سے ہمارے رب نے وعدہ کیا تھا ۹؎ تو تم نے بھی وہ حق پالیا جو تم سے تمہارے رب نے وعدہ کیا۱۰؎ تو حضرت عمر نے عرض کیا یارسول اﷲ حضور ان جسموں سے کلام فرماتے ہیں جن میں جان نہیں ۱۱؎ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے میرے فرمان کو تم لوگ ان سے زیادہ نہیں سنتے ۱۲؎ اور ایک روایت میں ہے کہ تم لوگ ان سے زیادہ نہیں سنتے لیکن وہ جواب نہیں دیتے۱۳؎(مسلم،بخاری)بخاری نے یہ زیادہ کیا کہ قتادہ نے فرمایا کہ اﷲ نے انہیں زندہ کیا حتی کہ انہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا قول سنادیا سرزنش،ذلت، بدلہ، حسرت،ندامت کے لیے۱۴؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع