30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ آپ جبیر ابن معطم ابن عدی نوفل ابن عبدمناف ہیں،کنیت ابومحمد ہے،فتح مکہ یا خیبر کے دن ایمان لائے، بڑے شاعرنسبوں کے عالم سردار قوم تھے،حضرت ابوبکر صدیق کے شاگرد تھے، ۵۴ھ چوّن میں وفات پائی، آپ نے یہ حدیث زمانہ کفر میں سنی تھی اور بعد اسلام روایت کی۔مطعم سے مراد جبیر ابن مطعم کے والد ہیں۔ان گندوں سے مراد یا تو بدر میں مقتولین کفار ہیں کہ وہ کفر پر مرے یا بدر کے قیدی کہ وہ اس وقت گندگی کفر میں تھے۔خیال رہے کہ مطعم ابن عدی نے طائف میں کفار طائف کو حضور سے ہٹایا تھا اور حضور کی زبردست حمایت کی تھی،فرمایا کہ اے جبیرتمہارے والد کا مجھ پر احسان ہے اگر آج وہ زندہ ہوتے اور ان کفار کی سفارش کرتے تو ان کی سفارش پر میں ان سب کو بغیر معاوضہ چھوڑ دیتا۔خیال رہے کہ شروع اسلام میں کفار قیدیوں کو احسان کرکے چھوڑ دینا جائز تھا،پھر منسوخ ہوگیا یہ ہی مذہب ہے امام ابوحنیفہ مالک وا حمد کا،امام شافعی کے ہاں اب بھی جائز ہے ان کی دلیل آیۃ کریمہ ہے اور یہ حدیث ہے،ہمارے ہاں یہ دونوں اس آیت سے منسوخ ہیں"قٰتِلُوا الْمُشْرِکِیۡنَ کَآفَّۃً"۔(دیکھو فتح القدیر اور مرقات وغیرہ)حضرت جبیر بطور فخر یہ روایت کررہے ہیں کہ حضور نے میرے والد کی ایسی عزت افزائی کی۔
|
3966 -[7] وَعَن أنسٍ: أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَأَخَذَهُمْ سِلْمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ. وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَعْتَقَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى (وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ ببطنِ مكةَ)رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ مکہ والوں میں سے اسّی آدمی تنعیم پہاڑ سے ہتھیار بند ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر کودے ۱؎ وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی غفلت اور حضور کے صحابہ کی غفلت کے ارادے میں تھے ۲؎ کہ انہیں زندہ گرفتار کرلیا ۳؎ پھر انہیں زندہ چھوڑ دیا اور ایک روایت میں ہے کہ انہیں آزاد کردیا ۴؎ تب اﷲ تعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ وہ رب وہ ہے جس نے مکہ کے درمیان ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا ۵؎(مسلم) |
۱؎ یہ واقعہ سال حدیبیہ کا ہے،تنعیم مکہ معظمہ سے تین میل کے فاصلہ پر بیرون حرم جگہ کا نام ہے،یہاں سے عمرہ کا احرام باندھنے لوگ مکہ معظمہ سے آتے ہیں،قریب ترین یہ ہی جگہ ہے،یہاں ہی مسجد حضرت عائشہ صدیقہ ہے،فقیر نے زیارت کی ہے۔اسے تنعیم اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی داہنی جانب نعیم پہاڑ ہے اور بائیں طرف ناعم پہاڑ واقع ہے،اس جنگل کا نام نعمان ہے،دیکھو مرقات۔یہ اسّی آدمی ڈھال تلوار وغیرہ ہتھیاروں سے مسلح تھے،ان کی نیت خراب تھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور حضرات صحابہ تو عمرہ کے احرام میں تھے اور ان کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔
۲؎ یعنی ان کی نیت یہ تھی کہ مسلمان غافل ہوں تو ہم ان پر ٹوٹ پڑیں سب کو شہید کردیں۔غرہ غین کے کسرہ سے بمعنی غفلت و فریب۔
۳؎ سلم سین کے کسرہ یا فتحہ اور لام کے سکون سے بمعنی صلح،سلامی،اطاعت،سپرد کردینا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاَلْقَوْا اِلَیۡکُمُ السَّلَمَ"اور فرماتاہے:"رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ"ایک اور ایک سے زیادہ پر بولا جاتا ہے،یہاں بمعنی سلامتی یا بمعنی اطاعت یعنی سارے کے سارے صحیح سلامت یا مطیع و فرمانبردار ہوکر گرفتار کرلیے گئے۔
۴؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ تو انہیں قتل کیا نہ قیدی بلکہ اسی طرح چھوڑ دیا تاکہ ان پر اپنے ظلم حضور کی معافی کا اثر پڑے اگر یہ احسان نہ کیا جاتا تو کفار مکہ سے جنگ چھڑ جاتی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع