30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۶؎ یعنی میں اپنے گھر سے عمرہ کرنے مکہ معظمہ جارہا تھا کہ مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار کرلیا گیا،اب فرمائیں عمرہ کو جاؤں یا نہ جاؤں۔ سبحان اﷲ! قدرت نے کہا ہوگا کہ اے ثمامہ مدینہ کے راستے سے مکہ معظمہ جاؤ،خود رب کعبہ سے ملنا ہو تو مدینہ کے راستے سے ملا جاتا ہے تو کعبہ کو بھی اسی راستہ سے جانا چاہیے۔
طیبہ سے نجف سے کربلا سے ملتے ہیں سب اہلِ دل خدا سے
ثمامہ کی قوت ایمانی کا یہ حال ہوگیا کہ اب عمرہ بھی کرنا ہے تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھ کر،آپ فرمائیں تو عمرہ کروں ورنہ نہ کروں،ہر عبادت ان کی اجازت سے کی جائے تو عبادت ہے۔
۱۷؎ پہلے جنت رضاء الٰہی کی خوشخبری دی بعد میں عمرہ کرنے کا حکم صادر فرمایا۔بتایا کہ اسلام کی برکت سے تمہارے سارے گناہ معاف ہوگئے،نیکیاں قبول ہوگئیں۔
۱۸؎ صبوت بنا ہے صبو سے بمعنی میل اور جھک جانا۔علم سے جہالت اور دین سے بے دینی کی طرف جھک جانے کو صبو کہتے ہیں۔ کفار مکہ اسلام لانے کو صبو اور مسلمانوں کو صابی کہتے تھے یعنی اے ثمامہ تم اپنے باپ دادوں کے دین کو چھوڑکر بے دین بن گئے۔
۱۹؎ یعنی تم الٹی بات کہہ رہے ہو اب تک میں بے دین تھا اب دین والا ہوگیا،اب تک کافر تھا اب مؤمن ہوگیا،میں تو گویا اب پیدا ہوا۔یہاں ساتھ سے مراد زمانہ کی ہمراہی نہیں بلکہ دین میں ساتھ ہونا مراد ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس وقت کے مؤمن ہیں جب کہ عالم کی کوئی چیز نہ بنی تھی۔
۲۰؎ چنانچہ ثمامہ نے یمامہ پہنچ کر حکم دے دیا کہ مکہ معظمہ گندم،جَو،کوئی غلہ نہ جانے پائے اور یمامہ کے غلہ پر ہی مکہ والوں کا گزارہ تھا،قریشی بھوکے مرنے لگے تب انہوں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں خطوط اور آدمی بھیجے کہ خدا کا واسطہ اپنی رشتہ داریوں کا صدقہ آپ ثمامہ کو غلہ بھیجنے کا حکم فرمادیں ہم آخر ہیں تو آپ کے عزیزوقرابت دار تب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ثمامہ کو حکم دیا اور مکہ والوں کو روزی نصیب ہوئی۔فقہاء فرماتے ہیں کہ زمانہ جنگ میں کفار کو نہ ہتھیار فروخت کیے جائیں نہ غلہ۔اس سے کفار کو قوت حاصل ہوگی اور امن کے زمانہ میں اگرچہ غلہ انکے ہاتھ فروخت کیا جاسکتا ہے مگر ہتھیار پھر بھی نہ فروخت کرو۔کفار سے سلوک و احسان کرنا جائز ہے حتی کہ جنگی کافر قیدی کو بلامعاوضہ چھوڑ دینا بھی جائز ہے جب کہ اس میں مصلحت ہو۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے عاص ابن ربیعہ کو احسان فرما کر چھوڑ دیا تھا یہ بدر میں قیدی ہوئے تھے،اس میں جو آئمہ اسلام کا اختلاف ہے وہ فقہ میں دیکھو۔اس حدیث سے بہت سے مسائل نکل سکتے ہیں جن میں سے کچھ ہم نے شرح کے دوران بیان کر دیئے،باقی تحقیق مرقات میں اس جگہ مطالعہ فرماؤ۔ثمامہ کی برکت سے بہت سے لوگ ایمان لے آئے۔
|
3965 -[6] وَعَن جُبَير بن مطعم أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ: «لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لتركتهم لَهُ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے قیدیوں کے متعلق فرمایا کہ اگر مطعم ابن عدی زندہ ہوتے پھر وہ مجھ سے ان گندوں کے متعلق گفتگو کرتے تو ان کی وجہ سے میں انہیں چھوڑ دیتا۔(بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع