30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے جرم کا اقرارکرے پھر استغفار،ثمامہ پر پہلے دن خوف غالب تھاباقی دنوں میں امید غالب،پہلے دن ثمامہ اجنبی تھا آخر دنوں میں رحم خسروانہ کرم شاہانہ سے آشنا ہوچکا تھا۔(ازمرقات)
۱۱؎ تین دن جمال کا نظارہ کراکے اپنی ادائیں دکھا کر فرمایا کہ ثمامہ کو آج قید سے آزاد کردو جہاں چاہیں جائیں مگر ثمامہ کا دل اپنی محبت میں قید کرلیا۔چڑیا کے پر کاٹ کر پنجرے سے نکال دو اور کہو جا اڑ جا مگر اب وہ اڑے کس چیز سے اڑنے والی چیز تو ختم ہوچکی۔ صحابہ نے سوچا ہوگا کہ ثمامہ گئے مگر کہاں جاتے جانے کے قابل ہی نہ رہے۔
تال سوکھ پر بھٹ ہوا اور ہنسا کہیں نہ جائیں باندھے پچھلی پریت کے وہ کنکر چن چن کھائیں
ہنس تالاب کے کنارہ رہتا ہے تالاب سوکھ جانے پر وہاں ہی مٹی چاٹ کر دم توڑ دیتا ہے مگر تالاب چھوڑکر نہیں جاتا۔
۱۲؎ حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ پہلے قیدکرکے لائے گئے تھے اب خود قید ہوکر آئے۔
گر کے قدموں پر وہ قرباں ہوگیا پڑھ لیا کلمہ مسلمان ہوگیا
معلوم ہوا کہ اسلام لاتے وقت غسل کرنا سنت صحابہ ہے،بعض نسخوں میں نجل جیم سے ہے بمعنی تھوڑا یا بہتا ہوا پانی مگر قوی روایت نخل خ سے ہے یعنی وہ قریبی باغ میں گئے جس میں کچھ پانی تھا وہاں غسل کیا۔معلوم ہوا کہ جاری پانی سے وضو و غسل کرلینا جائز ہے مالک سے پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ اتنے پانی سے عمومًامنع نہیں کیا جاتا۔
۱۳؎ چہرے سے مراد ذات ہے،چونکہ ملاقات کے وقت پہلے چہرہ ہی نظر آتا ہے اس لیے ذات کے لیے چہرہ ہی بول دیا جاتا ہے یعنی اب چند منٹ پہلے تک مجھے آپ سے بہت عداوت ونفرت تھی مگر قید سے چھوٹتے ہی میرے دل کی دنیا بدل گئی کہ میرا دل آپ کی محبت سے ایسا بھر گیا کہ اب جیسے آپ مجھے پیارے ہیں ایسا پیارا کوئی نہیں نہ ماں باپ نہ اولاد بلکہ نہ اپنی جان تمام چیزوں میں یہ سب داخل ہیں۔معلوم ہوا کہ جب دل میں ایمان آتا ہے تو پہلے محبت رسول آتی ہے یہ محبت رسول ہی اصلی ایمان ہے۔جنہوں نے حضور کو جادو گر کہا انہوں نے قرآن کو جادو کہا،جنہوں نے حضور کو کاہن یا شاعر(ناول گو)کہا انہوں نے قرآن کو کہانت اور شعر (ناول)کہا،جنہوں نے حضور کو رسول اﷲ کہا انہوں نے قرآن شریف کو کتاب اﷲ کہا،قرآن بلکہ رحمان کا پتہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،آپ کی معرفت سے قرآن و رحمان تک پہنچا جاتا ہے۔
۱۴؎ دین اسلام میں توحید،قرآن،حشرونشر،فرشتے،قیامت وغیرہ سب داخل ہیں یعنی آپ کی محبت سے مجھے ان تمام کی محبت نصیب ہوگئی۔گھر میں جب گھر والا آتا ہے تو مع سامان کے آتا ہے،محبت حضور صلی اللہ علیہ و سلم دلوں کی مکین ہیں اور یہ ساری محبتیں اس محبت کا سامان۔
۱۵؎ یعنی اب مجھے مدینہ پاک کے گلی کوچے عرش و فرش کے ہر مقام سے زیادہ پیارے ہوگئے۔معلوم ہوا کہ مدینہ منورہ کی محبت علامت ایمان ہے وہاں کے ذرے دونوں جہان سے زیادہ پیارے ہیں۔
خاک طیبہ از دو عالم خوشتر است اے خنک شہرے کہ دروے دلبر است
کہاں یہ مرتبے اﷲ اکبر سنگ اسود کے یہاں کےپتھروں نےپاؤں چومےہیں محمدکے
یہ محبت مدینہ علامت ایمان اور ذریعہ نجات ہے،اﷲ نصیب فرمادے۔
من مذھبی حب الدیار لاھلہا وللناس فیما یعشقون مذاھب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع