30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یہ واقعہ ہجری کا ہے۔نجد کے لغوی معنی ہیں اونچی زمین مگر اس سے مراد ہوتا ہے عرب کا ایک صوبہ کیونکہ یہ صوبہ یمن سے ہے نیچا۔حجاز،عراق،یمن،بحرین،نجد ان پانچ صوبوں کا نام عرب ہے باقی عجم۔
۲؎ یمامہ نجد کے علاقہ میں ایک شہر ہے،مکہ معظمہ سے سولہ منزل ہے،یہاں ہی مسیلمہ کذاب پیدا ہوا تھا،بنی حنیفہ ایک قبیلہ کا نام ہے اسی قبیلہ میں مسیلمہ پیدا ہوا۔
۳؎ مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا تاکہ ثمامہ یہاں رہ کر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو آتے جاتے اٹھتے بیٹھتے دیکھےاور اسے ایمان میسر ہوجائے۔چنانچہ معلوم ہوا کون ہے جوغور سے حضور کو دیکھے اور ان پر فدا نہ ہو جائے۔
کفرواسلام کےجھگڑےتیرےچھپنے سےبڑھے تو اگر جلوہ دکھا دے تو تو ہی تو ہو جاوے
اس سے معلوم ہوا کہ کافر کو مسجد میں آنا،اسے وہاں لانا وہاں رکھنا،وہاں باندھنا جائز ہے،ثمامہ عمومًا اس ستون سے بندھا رہتا تھا پیشاب یا پاخانہ کے لیے اسے باہر لے جایا جاتا تھا کھانا پانی وہاں ہی دیا جاتا ہوگا۔دھوپ کا تو وہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،غرضیکہ ثمامہ کو وہاں کوئی تکلیف نہ تھی،وہاں بندھے رہنے میں انہیں وہ لذت آتی ہوگی جو بیان سے باہر ہے۔دیکھتے جلوہ محبوب کا آتے جاتے۔اب تک لوگ اس ستون کی زیارت کرتے ہیں جس سے ثمامہ کو باندھا گیا تھا،ثمامہ وہاں تین دن بندھے رہے۔
۴؎ یعنی تیرا حال کیا ہے تجھے کھانے پینے وغیرہ کی کوئی تکلیف تو نہیں یا تیرا ہمارے متعلق خیال کیا ہے ہم تجھ سے کیا برتاؤ کریں گے۔(اشعہ و مرقات)اس قید پر ہزاروں آزادیاں قربان۔
دیکھا انہیں محشر میں تو رحمت نے پکارا آزاد ہے جو آپ کے دامن سے بندھا ہے
۵؎ یعنی ہر طرح خیریت و آرام سے ہوں مجھے کوئی تکلیف نہیں ہے صحابہ کرام میری راحت کا بہت خیال رکھتے ہیں یا حضور کے متعلق میرا خیال خیر ہے کیونکہ محسن ہیں آپ سے مجھے ظلم کا اندیشہ نہیں۔(مرقات)
۶؎ دم دال سے ہے بمعنی خون اور خون والے سے مراد ہےمستحق قتل یا شریف قوم یعنی اگر آپ مجھے قتل فرما دیں تو واقعی میں قتل ہی کا مستحق ہوں کہ آپ کے دشمنوں میں سے ہوں اس قتل میں آپ ظالم نہ ہوں گے یا آپ بڑے قیمتی خون والے کو قتل کریں گے کیونکہ میں اپنی قوم کا سردار ہوں سردار کا خون بڑا اہم ہوتا ہے۔ بعض روایات میں ذم نقطے والی ذال سے ہے بمعنی ذمہ اور عہد یعنی آپ بڑے ذمہ دار کو قتل کریں گے میں معمولی آدمی نہیں ہوں اپنی قوم کا ذمہ دار ہوں سردار ہوں مگر یہ روایت غیرمشہور سی ہے۔
۷؎ یعنی اگر آپ مجھ پر احسان فرما کر مجھے چھوڑ دیں گے تو عمر بھر آپ کا شکرگزار رہوں گا،میں احسان فراموش نہیں ہوں،احسان مند رہوں گا۔
۸؎ یعنی آپ مجھے فدیہ لے کر چھوڑنا چاہیں تو میں بہت بڑا مالدار قوم کا سردار ہوں میری قوم کو پیغام بھیجئے جتنا مال چاہیں گے آجائے گا۔
۹؎ اس حال میں بندھا رہنے دیا نہ قتل کرایا نہ آزاد کیا نہ کوئی مطالبہ فرمایا،یہاں اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ ان دنوں میں حضور نے اس کے دل پر توجہ فرمائی باطن میں تصرف فرمایا اس کا نتیجہ تیسرے دن ظاہر ہوا۔
۱۰؎ خیال رہے کہ ان تینوں دنوں میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا سوال ایک ہی رہا مگر ثمامہ نے پہلے دن جواب میں قتل کا ذکر پہلے کیا احسان و مال کا ذکربعد میں مگر پچھلے دو دنوں کے جواب میں انعام و رحم خسروانہ کا ذکرپہلے کیا قتل کا ذکر بعد میں کیونکہ ثمامہ کی نظر پہلے دن اپنے جرم پرتھی اور دوسرے دنوں میں حضور کے رحم و کرم و احسان پر۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ مجرم کو چاہیے پہلے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع