30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سردار بیٹھا ہو اور لوگ اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوں یہ ہی جمہور علماء کا مذہب ہے۔(مرقات و اشعہ)بعض نے کہا کہ یہ قیام تعظیمی نہ تھا بلکہ حضرت سعد بیمار تھے خود اتر کر نہ آسکتے تھےان کی مدد کے لیے یہ حکم دیا گیا اس لیے یہاں لام نہ فرمایا الیٰ ارشاد ہوا مگر یہ توجیہ کمزور ہے ورنہ صرف ایک دو آدمیوں کو انہیں اتارنے کے لیے بھیج دیا جاتا سب کو یہ حکم نہ ہوتا۔قوموا جمع ہے نیز پھر سیدکم نہ فرمایا جاتا بلکہ مریضکم ارشاد ہوتا۔سیدکم فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قیام سرداری کی وجہ سے تھا نہ کہ بیماری کی وجہ سے،چونکہ قیام کے ساتھ استقبال کے لیے آگے بھیجنا بھی تھا اس لیے الیٰ ارشاد ہوا۔قیام تعظیمی کی پوری بحث ہماری کتاب جاء الحق حصہ اول میں دیکھو اور ان شاءاﷲ اس کتاب میں باب القیام میں آوے گی۔
۴؎ یعنی تمہارے فیصلہ پر یہ بنی قریظہ راضی ہیں اور ہم کو بھی منظور ہے لہذا تم فیصلہ کرو۔معلوم ہوا کہ کسی کو پنچ مقررکرنا اس سے فیصلہ کرانا سنت سے ثابت ہے۔
۵؎ جنگجو سے مراد مطلقًا جوان مرد ہیں خواہ جنگ کرتے ہوں یا کراتے ہوں یا رائے دیتے ہوں اور ذریۃ سے مراد چھوٹے بچے عورتیں ہیں جنہیں جنگ سے کوئی تعلق نہ ہو۔(مرقات)خیال رہے کہ ان یہود مدینہ اور کفار و مشرکین میں یہ طے ہوا تھا کہ مشرکین تو باہر سے مدینہ کے مسلمانوں پر حملہ کریں اور ہم اندرون مدینہ مسلمانوں کو ماریں اور مسلمانوں کو ایسا کچل دیں جیسے چکی میں دانہ اس لیے ان کے جوانوں کو مقاتلہ فرمایا گیا۔لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ غزوہ احزاب میں باقاعدہ قتال ہوا ہی نہ تھا،مشرکین تو خندق دیکھ کر حیران رہ گئے یہود مدینہ ان کی رکاوٹ و حیرانی کی وجہ سے باقاعدہ جنگ نہ کرسکے۔
۶؎ فرشتہ سے مراد یا تو جبریل علیہ السلام ہیں یا وہ فرشتہ جو مؤمن کے دل میں بطور الہام اچھے خیالات پیدا کرتا ہے۔
۷؎ یعنی تم نے ایسا حکم دیا جس سے اﷲ رضی ہے یا اﷲ تعالٰی نے بذریعہ فرشتہ تمہارے دل میں یہ حکم ڈالا اور تم نے سنایا۔زبان تمہاری ہے فیصلہ رب کا ہے۔سبحان اﷲ! کیسی شان ہے حضرت سعد کی رضی اللہ عنہ۔اس سے معلوم ہوا کہ بڑے اہم فیصلوں میں بھی حکم(پنچ)بنانا جائز ہے اور پنچ کے فیصلہ پر فریقین کو راضی ہونا پڑے گا،پنچ کے فیصلہ کی اپیل نہیں۔سلطان بھی اپنا پنچ بناسکتا ہے۔(مرقات)
|
3964 -[5] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ: ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟» فَقَالَ: عنْدي يَا مُحَمَّد خير إِن نقْتل تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ كُنْتُ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ فَتَرَكَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ الْغَدُ فَقَالَ لَهُ: «مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟» فَقَالَ: عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ: إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ كنتَ تريدُ المالَ فسَلْ تعط مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَتَرَكَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ فَقَالَ لَهُ: «مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟» فَقَالَ: عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ: إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْلَقُوا ثُمَامَةَ» فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَن مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَيَّ وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِكَ فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الدِّينِ كُلِّهِ إِلَيَّ وَوَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ بَلَدِكَ فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلَادِ كُلِّهَا إِلَيَّ. وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدَ الْعُمْرَةَ فَمَاذَا تَرَى؟ فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ: أَصَبَوْتَ؟ فَقَالَ: لَا وَلَكِنَّى أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَا يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسلم وَاخْتَصَرَهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نجد کی طرف کچھ سوار بھیجے ۱؎ وہ لوگ بنی حنیفہ کا ایک شخص پکڑ لائے جسے ثمامہ ابن اثال کہا جاتا تھا یعنی یمامہ والوں کا سردار ۲؎ تو اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دیا ۳؎ تو اس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے فرمایا تیرے پاس کیا ہے۴؎ اے ثمامہ وہ بولا اے محمد میرے پاس بھلائی ہے ۵؎ اگر آپ قتل کریں گے تو خون والے کو قتل کریں گے ۶؎ اور اگر آپ احسان کریں تو شکر گزار پرکریں گے ۷؎ اگر آپ مال چاہتے ہوں تو طلب فرمایئے جو چاہیں گے حاضر کیا جائے گا ۸؎ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے چھوڑ دیا ۹؎ حتی کہ کل کا دن ہوا تو فرمایا اے ثمامہ تیرے پاس کیا ہے وہ بولا میرے پاس وہ ہی ہے جو میں نے آپ سے عرض کیا کہ اگر احسان فرماؤ گے تو شکر گزار پر احسان فرماؤ گے اور قتل فرماؤ گے تو بڑے بھاری خون والے کو قتل فرماؤ گے اور اگر آپ مال چاہتے ہوں تو طلب کیجئے حاضر کیا جائے گا جو آپ چاہیں گے اسے پھر حضور انور نے چھوڑ دیاحتی کہ پرسوں کا دن ہوا تو اس سے فرمایا کہ ثمامہ تیرے پاس کیا ہے وہ بولا میرے پاس وہ ہی ہے جو میں نے عرض کیا کہ اگر آپ احسان کریں گے تو شکر گزار پر کریں گے اور اگر قتل کریں گے تو بھاری خون والے کو قتل کریں گے اور اگر آپ مال چاہتے ہوں تو طلب کیجئے جو آپ چاہیں گے حاضر کیا جائے گا ۱۰؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ثمامہ کو کھول دو ۱۱؎ وہ مسجد کے قریبی باغ کی طرف گیا غسل کیا پھر مسجد میں آیا ۱۲؎ کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اﷲ کے بندے اس کی رسول ہیں اے محمد اللہ کی قسم مجھے روئے زمین پر کوئی چہرہ تمہارے چہرے سے زیادہ ناپسند نہ تھا اب آپ کا رخ انور تمام چہروں سے مجھے زیادہ پیارا ہوگیا۱۳؎ اﷲ کی قسم مجھے کوئی دین آپ کے دین سے زیادہ ناپسند نہ تھا مگر اب آپ کا دین مجھے تمام دینوں سے زیادہ پیارا ہوگیا ۱۴؎ اﷲ کی قسم کوئی شہر مجھے آپ کے شہر سے زیادہ ناپسند نہ تھا مگر اب مجھے آپ کی نگری تمام شہروں سے زیادہ پیاری ہوگئی ۱۵؎ اور آپ کے لشکر نے مجھے اس حال میں گرفتار کیا کہ میں عمرہ کا ارادہ کررہا تھا اب آپ کیا مناسب سمجھتے ہیں ۱۶؎ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خوشخبری دی اور عمرہ کرنے کا حکم دیا ۱۷؎ تو جب وہ مکہ آئے تو ان سے کسی نے کہا کہ کیا تم بے دین ہوگئے ۱۸؎ وہ بولے نہیں لیکن میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایمان لے آیا ۱۹؎ اور خدا کی قسم یمامہ سے تمہارے پاس گندم کا ایک دانہ نہ پہنچے گا حتی کہ اس کی اجازت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم دے دیں ۲۰؎(مسلم) اور بخاری نے اسے مختصرًا روایت کیا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع