30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی اس مقتول جاسوس کا سارا سامان گھوڑا جوڑا ہتھیار اس کے جسم کا سونے چاندی کا زیورغرضیکہ ساری چیزیں قاتل یعنی حضرت سلمہ ابن اکوع کو عطا فرمائیں۔اس مسئلہ کی بحث ان شاءالله اپنے مقام پر آئے گی۔اس میں جو آئمہ دین کا اختلاف ہے وہاں ہی مذکور ہوگا۔ان شاءالله!یہاں صرف یہ سمجھ لو کہ جہاد میں قاتل کو مقتول کا سامان بغیر خمس نکالے ہوئے دے دینا امام شافعی کے ہاں اسلامی قانون ہے کہ بہرحال دینا ہی پڑے گا اور ہمارے ہاں اگر امام اس کا اعلان کردے تو دینا واجب ہے ورنہ نہیں۔
|
3962 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ فَأَنَاخَهُ وَجَعَلَ يَنْظُرُ وَفِينَا ضَعْفَةٌ وَرِقَّةٌ مِنَ الظَّهْرِ وَبَعْضُنَا مُشَاةٌ إِذْ خَرَجَ يَشْتَدُّ فَأَتَى جَمَلَهُ فَأَثَارَهُ فَاشْتَدَّ بِهِ الْجَمَلُ فَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُهُ ثُمَّ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَضَرَبْتُ رَأْسَ الرَّجُلِ ثُمَّ جِئْتُ بِالْجَمَلِ أَقُودُهُ وَعَلَيْهِ رَحْلُهُ وَسِلَاحُهُ فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فَقَالَ: «مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟» قَالُوا: ابْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ: «لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ» |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہوازن پر حملہ کیا ۱؎ تو ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ناشتہ کررہے تھے ۲؎ کہ اچانک ایک شخص سرخ اونٹ پرآیا اسے بٹھادیا اور لگادیکھنے اور ہم میں کمزور لوگ تھے اور سواریوں میں کمی تھی۳؎ اور ہمارے بعض پیدل تھے کہ وہ دوڑتا ہوا نکلا۴؎ اپنے اونٹ کے پاس آیا اسے اٹھایا اسے لے کر اونٹ دوڑ گیا تو میں دوڑتا ہوا نکلا حتی کہ میں نے مہار پکڑلی میں نے اسے بٹھالیا پھر میں نے اپنی تلوار سونت لی تو اس کے سر پر مار دی ۵؎ پھر میں اونٹ ہانک لایا جس پر اس کا سامان اس کے ہتھیار تھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اور لوگ مجھے سامنے سے ملے تو فرمایا کہ اس شخص کو کس نے قتل کیا لوگوں نے کہا ابن اکوع نے حضور نے فرمایا اس کا سارا سامان انہیں کا ہے ۶؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ اس غزوہ کا نام غزوہ حنین ہے جو فتح مکہ کے بعد ۶ شوال ہفتہ ہی کے دن ہوا۔حنین مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔فقیر نے اس کی زیارت کی ہے۔ہوازن اس قبیلہ کفار کا نام ہے جو وہاں مسلمانوں کے مقابل تھے پھر یہ مسلمان ہوگئے۔
۲؎ نتضحی ضحی سے بمعنی چاشت اس لیے چاشت کے وقت کی نماز کو صلوۃ الضحٰی کہتے ہیں۔بعض شارحین نے یہاں اس کے یہ معنی کیے ہیں۔یعنی ہم نماز چاشت پڑھ رہے تھے مگر قوی یہ ہی ہے کہ یہاں ناشتہ کا کھانا مراد ہے یعنی ہم لشکر والے حضور انور کے ساتھ ناشتہ میں مشغول تھے۔
۳؎ ضعفۃ ض کے فتحہ عین کے بھی فتحہ سے جمع ہے،ضعیف بمعنی کمزوری اور رقت کے معنی ہوتے ہیں پتلا پن،غلظ کا مقابل یہاں تنگی وکمی مراد ہے یعنی ہمارے پاس اس زمانہ میں سامان جنگ حتی کہ سواریوں کی بھی کمی تھی اور ہم لوگ جسمانی کمزور بھی تھے۔
۴؎ تاکہ ہماری اس کمزوری اور بے سامانی کی خبر ہمارے حریف کافروں کو دے کر انہیں ہمارے مقابلہ پر دلیر کرے یعنی میں تیزی سے اس کے پیچھے دوڑا حتی کہ اس کے اونٹ تک پہنچا آگے ہوکر اس کی مہار پکڑ کر روک لیا اﷲ اکبر یہ ہے اسلامی ہمت،آپ نے یہ خیال نہ کیا کہ وہ میرے مہار کو پکڑتے ہوئے مجھے قتل کرکے بھاگ جائے گا۔جو مرد میدان ہتھیلی پر سر رکھ لے وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع