دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

3157 -[18] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا: أَلَا نَخْتَصِي؟ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ فَكَانَ أَحَدُنَا يَنْكِحُ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ)

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے تھے ہمارے ساتھ بیویاں نہ تھیں تو ہم نے عرض کیا کیا ہم خصی ہوجائیں۱؎ اس سے ہم کو منع فرمایا ۲؎ پھر ہم کو متعہ کرلینے کی اجازت دی ۳؎ تو ہم میں سے ایک کسی عورت سے کپڑے کے عوض ایک وقت تک نکاح کرلیتا تھا ۴؎ پھر عبداﷲ نے یہ آیت پڑھی اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ جانو جو اﷲ نے تمہارے لیے حلال کیں ۵؎ (مسلم بخاری)

۱؎ اس حدیث سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی قوت بہادری،تقویٰ اور خوف خدا کا پتہ لگا کہ شہوت کا غلبہ ہے،بیوی ساتھ نہیں تو زنا تو کیا ہاتھ سے منی نکالنے کا بھی خیال نہیں فرماتے،خصی ہو کر اپنی کو ناقص کرلینا منظور ہے مگر گناہ منظورنہیں۔

۲؎ معلوم ہوا کہ انسان کا خصی کرنا حرام ہے خواہ آزاد ہو یا غلام جانور کا خصی کرنا جائز ہے جب کہ اس میں فائدہ ہو۔

۳؎ یہ وجہ تھی متعہ کی عارضی اجازت کی کہ شراب کی طرح یہ بھی آہستگی سے حرام کیا گیا۔

۴؎ خیال رہے کہ متعہ اور نکاح مؤقت کے الفاظ میں فرق ہوتا ہے متعہ میں اتمتع کہتے ہیں اور نکاح وقتی میں تزوجت الی فلان مدۃ بولتے ہیں۔ متعہ کی حرمت پر اجماع امت ہے نکاح مؤقت کو جمہور علماء حرام فرماتے ہیں، امام زفر فرماتے ہیں کہ نکاح درست ہے اور یہ مدت کی شرط باطل یعنی وقتی نکاح دائمی ہوگا۔

۵؎ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود متعہ یا نکاح مؤقت کے جواز کے قائل تھے لیکن یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضرت عبداﷲ ابن عباس اور ابن مسعود دونوں متعہ کے جواز کے قائل تھے مگر دونوں اس سے رجوع فرماگئے عبداﷲ ابن عباس نے تو سعید ابن جبیر کے سمجھانے پر رجوع کیا اور حضرت ابن مسعود نے ان کے بعد غرضکہ جب ان دونوں کو اس کے ناسخ کا پتہ لگا رجوع کرلیا حضرت علی تو متعہ کی حلت کے قائل تھے ہی نہیں وہ اول ہی منسوخ مانتے تھے، تعجب ہے کہ روافض متعہ کی حلت میں حضرت ابن مسعود کا پہلا قول تو مان لیتے ہیں اور حضرت علی کا قول نہیں مانتے جناب علی متعہ کو حرام فرماتے ہیں۔

3158 -[19]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي أول الْإِسْلَام كَانَ الرجل يقدم الْبَلدة لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ فَيَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يرى أَنَّهُ يُقِيمُ فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ وَتُصْلِحُ لَهُ شَيَّهُ حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الْآيَةُ (إِلَّا عَلَى أَزوَاجهم أَو مَا ملكت أَيْمَانهم)قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَاهُمَا فَهُوَ حرَام. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ متعہ شروع اسلام تھا کہ کوئی شخص کسی شہر میں جاتا جہاں اس کی جان پہچان نہ ہوتی۱؎ تو کسی عورت سے اس وقت تک کے لیے نکاح کر لیتا کہ سمجھتا میں اتنا ٹھہروں گا وہ عورت اس کے سامان کی حفاظت کرتی اس کا کھانا درست کرتی ۲؎حتی کہ یہ آیت کریمہ اتری مگر اپنی بیویوں پر یا ان پر جن کے وہ مالک ہیں ۳؎ فرمایا حضرت ابن عباس نے کہ دو کے سوا تمام شرمگاہیں حرام ہیں ۴؎(ترمذی)

۱؎ جو اس نو وارد کا انتظام کرتا اور اسے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی جو یہاں اس کا انتظام کرے۔

۲؎ شی شوی سے بنا بمعنی بھوننا اس لیے بھنے گوشت کو لحم مشوی کہا جاتا ہے یہاں بمعنی کھانا پکانا ہے،بعض نے فرمایا کہ شی بمعنی اشیاء ہے یعنی اسباب۔(مرقات)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن