دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۶؎  اس طرح کہ عبیدہ نے ولید پرتلوار کا وار کیا جو اسے زخمی کر گیا اور ولید نے عبیدہ کو زخمی کردیا دو طرف وار بھر پور ہوئے۔

۷؎ یہاں ٹھنڈا کرنے سے مراد موت نہیں بلکہ زخموں سے چور کرکے ضعیف و کمزور کردینا ہے یعنی یہ دونوں ایک دوسرے کو پہنچائے ہوئے زخموں سے چور ہوکر نڈھال ہوگئے۔

۸؎ اس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں شخصی جنگ(مبارزہ)اپنے حریف کے سوا دوسرے پر حملہ کردینا بھی جائز ہے۔امام مالک و شافعی کے ہاں تو مطلقًا جائز ہے،امام ابوحنیفہ کے ہاں امام کی اجازت سے جائز ہے،یہ ہی امام اوزاعی فرماتے ہیں۔یہاں حضرت حمزہ و علی کا ولید پر ٹوٹ پڑنا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اشارے سے ہوا ہوگا۔خیال رہے کہ کتب تواریخ میں ہے کہ حضرت علی ولید کے مقابل گئے تھے جناب علی بھی جوان تھے اور ولیدبھی شیبہ اور عتبہ بوڑھے تھے،ادھر حضرت حمزہ اور عبیدہ بوڑھے تھے۔(مرقات)

3958 -[22]

وَعَن ابنِ عُمر قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً فَأَتَيْنَا الْمَدِينَةَ فَاخْتَفَيْنَا بِهَا وَقُلْنَا: هَلَكْنَا ثُمَّ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُول الله نَحن الفارون. قَالَ: «بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ وَأَنَا فِئَتُكُمْ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ نَحْوَهُ وَقَالَ: «لَا بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ» قَالَ:فَدَنَوْنَا فَقَبَّلْنَا يَده فَقَالَ: «أَنا فِئَة من الْمُسْلِمِينَ»

وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: كَانَ يَسْتَفْتِحُ وَحَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ «ابْغُونِي فِي ضُعَفَائِكُمْ» فِي بَابِ «فَضْلِ الْفُقَرَاءِ» إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک لشکر میں بھیجا تو لوگ پھر گئے پورا پھرنا ۱؎  پھر ہم مدینہ پہنچے تو وہاں چھپ گئے اور ہم نے سوچا کہ ہم تو ہلاک ہوگئے ۲؎  ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ ہم تو بھگوڑے ہیں۳؎  فرمایا بلکہ تم پلٹنے والے ہو اور میں تمہاری پناہ ہوں۴؎  ترمذی اور ابوداؤد کی روایت میں اس کی مثل ہے اور فرمایا نہیں بلکہ تم پلٹا لینے والے ہو فرماتے ہیں تو ہم قریب ہوئے ہم نے حضور کے ہاتھ چومے ۵؎ پھر فرمایا میں مسلمانوں کی پناہ ہوں ۶؎ اور ہم امیہ ابن عبداﷲ کی حدیث کہ کان لیستفتح اور ابوالدرداء کی حدیث کہ مجھے اپنے کمزوروں میں ڈھونڈو۔ان شاءاﷲ باب فضل فقراء میں بیان کریں گے ۷؎

۱؎  ظاہر یہ ہے کہ یہاں ناس سے مراد یہ ہی مجاہد غازی صحابہ ہیں اور حیص کے معنی ہیں میدان جنگ سے واپس آجانا بغیر کامیاب ہوئے اور ہوسکتا ہے کہ ناس سے مراد کفار ہوں اور حیص کے معنی ہوں ان کا مسلمانوں پر پلٹ پلٹ کر حملہ کرنا۔بہرحال حیص کے معنی ہیں پھرنا،مائل ہونا یا کسی سے مائل ہونا۔مقصد یہ ہے کہ ہم اس جنگ میں فتح حاصل نہ کرسکے۔کفار کے سخت حملہ کی وجہ سے بغیر جنگ جیتے واپس ہوگئے۔

۲؎ یہ حضرات سمجھے یہ تھے کہ جہاد سے بھاگ جانا مطلقًا گناہ کبیرہ ہے خواہ بزدلی کی وجہ سے ہو یا سخت مجبوری کی وجہ سے حالانکہ مجبورًا بھاگنا گناہ صغیرہ بھی نہیں۔ایسی شدت میں جان دے دینا افضل ہے،جان بچاکر بھاگ جانا گناہ نہیں۔اس خیال سے یہ حضرات حضورصلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضری کی ہمت نہ کرسکے شرمندگی کی وجہ سے۔خیال رہے کہ یہ شرمندگی رب کو بڑی پیاری ہے۔

۳؎  حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان حضرات سے مدینہ منورہ پہنچنے کا دن اور اتنے روز تک حاضر بارگاہ نہ ہونے کا سبب پوچھا ہوگا تب ان حضرات نے یہ عرض کیا کہ ہم کس منہ سے حضور کے سامنے آتے ہم کرکے ہی کیا آئے تھے۔مسلمانوں خیال رکھو کہ ہم کو

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن