30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3955 -[19] وَعَن رَبَاح بن الرَّبيعِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غزوةٍ فَرَأى الناسَ مجتمعينَ عَلَى شَيْءٍ فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ: «انْظُرُوا عَلَى من اجْتمع هَؤُلَاءِ؟» فَقَالَ: عَلَى امْرَأَةٍ قَتِيلٍ فَقَالَ: «مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ» وَعَلَى الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ: " قُلْ لِخَالِدٍ: لَا تَقْتُلِ امْرَأَة وَلَا عسيفا ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت رباح ابن ربیع سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک جہاد میں تھے تو حضور نے لوگوں کو کسی چیز پر جمع دیکھا ۲؎ تو حضور نے بھی ایک شخص کو فرمایا دیکھو یہ لوگ کس چیز پر جمع ہوئے ہیں وہ آیا بولا ایک مقتولہ عورت پر۳؎ تو فرمایا کہ یہ عورت تو جنگ نہ کرتی تھی۴؎ اور مقدمہ پر خالد ابن ولید تھے تو حضور نے ایک شخص کو بھیجا فرمایا خالد سے کہو کہ نہ تو کسی عورت کو قتل کریں نہ مزدور کو ۵؎(ابو داؤد)۶؎ |
۱؎ رباح ر کے فتحہ سے اور ب سے ہے،آپ صحابی اسدی ہیں،حضرت حنظلہ کاتب کے بھائی ہیں،آپ سے ابوداؤد نسائی نے صرف یہ ہی ایک حدیث نقل کی۔(اشعہ)
۲؎ غالبًا جہاد ختم ہوچکا تھا یا کچھ دیر کے لیے جنگ بند ہوئی تھی ورنہ عین جنگ میں لوگ کسی جگہ اس طرح جمع نہیں ہوا کرتے۔
۳؎ یعنی کافرہ عورت مسلمان غازیوں کے ہاتھ قتل ہوئی ہے،اس کی نعش پر لوگ جمع ہیں۔خیال رہے کہ لفظ قتیل مذکر مؤنث دونوں کے لیے بولا جاسکتا ہے،یہاں مؤنث کے لیے بولا گیا ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ کافرہ عورت کا احترام یا پردہ نہ زندگی میں ہے نہ بعد موت۔لہذا اس کی نعش اجنبی مسلمان مرد دیکھ سکتے ہیں لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ ان صحابہ نے اس عورت کی نعش کو کیوں دیکھا۔
۴؎ یعنی یہ عورت نہ تو کفار کی ملکہ تھی نہ سپہ سالار،نہ مردوں کے دوش بدوش لڑنے والی پھر اسے کیوں قتل کیا گیا۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر کافرہ عورت ملکہ یا لڑانے والی یا مسلمانوں سے لڑنے والی ہو تو اسے ضرور قتل کیا جائے،یہ عورت اپنے خاوند یا دوسروں کی خدمت کے لیے آئی ہوگی۔
۵؎ عورت و مزدور سے مراد وہ ہی ہے جو جنگ میں حصہ نہ لیتے ہوں فوج یا کسی فوجی کی خدمت کے لیے آئے ہوں۔انکی علامت یہ ہوتی ہوگی کہ ان پر سامان جنگ نہ ہوگا اور خدمت کے اسباب یا علامات ہوں گے۔سبحان اﷲ! اسلام میں کیسا عدل و انصاف ہے کہ لڑتے وقت بھی عدل کو ہاتھ سے نہیں دیتے۔
۶؎ اس حدیث کو نسائی،ابن ماجہ،احمد،ابن حبان،حاکم نے بھی کچھ فرق سے نقل فرمایا۔یہ حدیث صحیح ہے مسلم،بخاری کی شرط پر ہے۔(مرقات)
|
3956 -[20] وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «انْطَلِقُوا بِاسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وعَلى ملِّة رسولِ الله لَا تقْتُلوا شَيْخًا فَانِيًا وَلَا طِفْلًا صَغِيرًا وَلَا امْرَأَةً وَلَا تَغُلُّوا وَضُمُّوا غَنَائِمَكُمْ وَأَصْلِحُوا وَأَحْسِنُوا فَإِنَّ اللَّهَ يحبُّ المحسنينَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ۱؎ چلو اﷲ کے نام پر اﷲ کی مدد پر رسول اللہ کے دین پرکسی قریب موت بڈھے کو قتل نہ کرو۲؎ نہ چھوٹے بچے کو ۳؎ نہ عورت کو اور خیانت نہ کرنا اپنی غنیمتیں ملالینا اصلاح اور بھلائی کرنا۴؎ کیونکہ اﷲ بھلائی والوں سے محبت کرتا ہے ۵؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یعنی ایک بار حضور انور نے صحابہ کرام کو جہاد کے لیے بھیجا انہیں رخصت فرماتے وقت یہ دعائیں اور نصیحتیں کیں۔
۲؎ بڈھے سے مراد وہ ہی بڈھا ہے جو جنگجو کفار کو جنگی تدبیریں نہ بتاتا ہو ورنہ خود حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ہوازن کی جنگ میں زید ابن صمہ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔زید ابن صمہ کی عمر اس وقت ایک سو بیس سال تھی کیونکہ وہ لڑرہا تھا۔(مرقات)
۳؎ بچہ سے مراد نابالغ بچہ ہے یہاں بھی یہ ہی قید ہے کہ بچہ نہ تو کفار کا بادشاہ ہو نہ جرنیل وغیرہ نہ سپاہی بلکہ جنگ سے بے تعلق ہو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع