30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ عروہ سے مراد عروہ ابن زبیر تابعی ہیں اور اسامہ سے مراد حضرت اسامہ ابن زید ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے نہایت محبوب صحابی ہیں،حضرت زید ابن حارثہ کے بیٹے۔خیال رہے کہ عروہ ابن زبیر کی ولادت بائیس ۲۲ھ میں مدینہ منورہ میں ہوئی،مدینہ منورہ میں سے سات مشہور فقہاء میں سے ہیں،آپ کا باغ و کنواں و مسجد مدینہ منورہ کے قریب ہے۔فقیر نے اس کنوئیں کا پانی بھی پیا ہے،وہاں مسجد میں نمازبھی پڑھی ہے بیر عروہ اور مسجد عروہ کے نام سے مشہور ہے۔
۲؎ اغر ہمزہ کے فتحہ اور غین کے کسرہ سے اغارۃ کا امر ہے یعنی حملہ کرو۔بعض نسخوں میں اغز سے غزو کا امر مگر پہلا نسخہ زیادہ صحیح ہے۔اُبنا فلسطین کی ایک بستی ہے جو عسقلان اور رملہ کے درمیان واقع ہے اسے پٹنی بھی کہتے ہیں۔بعض نے فرمایا کہ اُبنا ایک قبیلہ کا نام ہے اس نام سے وہ بستی اُبنا کہلاتی ہے۔صبح کے وقت عمومًا کفار غافل ہوتے ہیں اور وہ وقت مبارک بھی ہے اس لیے اس وقت حملہ کرنے کا حکم دیا کہ اس وقت حملہ کرنے میں خونریزی کم ہوگی اور فتح بہ آسانی میسر ہوجائے گی۔
۳؎ یعنی اُبنا والوں کی کھیتیاں باغات جلادو تاکہ وہ گھبرا کر جلد گھروں سے نکل پڑیں بلکہ اگر ضرورت پڑے تو ان کے گھروں میں آگ لگادو کیونکہ کبھی کفار کے گھر انکی پناہ گاہ بلکہ ان کے مورچے بن جاتے ہیں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ بعض حالات میں ان کے جانور بھی ذبح کرکے ان کے گوشت جلادیئے جائیں جب کہ ہم انہیں لا نہ سکیں تاکہ وہ کفار کے کام کے نہ رہیں بلکہ اگر حالات جنگ مسلمانوں کے خلاف ہوں اور اپنا سامان بھی غازی لوگ وہاں سے نہ لاسکیں تو اسے بھی آگ لگاکر فنا کردیں۔چنانچہ ایک بار حضرت جعفر ابن ابی طالب نے جب جنگ کا حال بگڑتے دیکھا تو خود اپنا گھوڑا ہلاک کردیا تاکہ دشمن کے کام نہ آوے،ہاں زندہ جانوروں کو جلانا حرام ہے کہ یہ آگ کا عذاب ہے جو رب تعالٰی ہی دے گا۔حضرت عثمان ابن حبان فرماتے ہیں کہ میں جناب ام الدرداء کے پاس تھا کہ میں نے ایک زندہ کھٹمل کو آگ میں ڈال دیا تو آپ بولیں کہ حضرت ابوالدرداء فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جانور کو زندہ آگ میں جلانے سے منع فرمایا۔(مرقات)آج کل تو جنگ ہے آگ کی کہ بم باری سے شہرو بستیاں جلادی جاتی ہیں رب تعالٰی محفوظ رکھے، اسلام کے اس حکم پر اعتراض کرنے والے آج کی جنگوں کو دیکھیں۔
|
3954 -[18] وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ:«إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ وَلَا تَسُلُّوا السُّيُوفَ حَتَّى يَغْشَوْكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت ابو اسید سے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے دن فرمایا کہ جب کفار تم سے قریب ہوں تو ان پر تیر چلاؤ اور تلواریں نہ سونتو حتی کہ وہ تم سے قریب تر ہوجائیں ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ حدیث بالکل ظاہر ہے کہ جب تک کفار تیر کی زد میں ہوں تب تک تلواریں نہ سونتو کہ بے کار ہے اور ایک ہاتھ تلوار سے بلاوجہ گِھر جائے گا۔جب تلوار کی زد میں آجائیں تب تیر بے کار ہیں اب تیر سے ہاتھ نہ گھیرو تلواریں سونت کر ان پر ٹوٹ پڑو۔
|
3955 -[19] وَعَن رَبَاح بن الرَّبيعِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غزوةٍ فَرَأى الناسَ مجتمعينَ عَلَى شَيْءٍ فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ: «انْظُرُوا عَلَى من اجْتمع هَؤُلَاءِ؟» فَقَالَ: عَلَى امْرَأَةٍ قَتِيلٍ فَقَالَ: «مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ» وَعَلَى الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ: " قُلْ لِخَالِدٍ: لَا تَقْتُلِ امْرَأَة وَلَا عسيفا ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت رباح ابن ربیع سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک جہاد میں تھے تو حضور نے لوگوں کو کسی چیز پر جمع دیکھا ۲؎ تو حضور نے بھی ایک شخص کو فرمایا دیکھو یہ لوگ کس چیز پر جمع ہوئے ہیں وہ آیا بولا ایک مقتولہ عورت پر۳؎ تو فرمایا کہ یہ عورت تو جنگ نہ کرتی تھی۴؎ اور مقدمہ پر خالد ابن ولید تھے تو حضور نے ایک شخص کو بھیجا فرمایا خالد سے کہو کہ نہ تو کسی عورت کو قتل کریں نہ مزدور کو ۵؎(ابو داؤد)۶؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع