30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یہ پتہ نہ لگا کہ یہ واقعہ کس جہاد میں ہوا بہرحال زمانہ پاک نبوی میں جہاد ہے مگر حضور سرکار عالی بنفس نفیس اس میں تشریف نہیں لے گئے ہیں،حضرت ابوبکر صدیق سپہ سالار اعظم ہیں۔
۲؎ یہ بھی دعا ہے۔أمِت کے معنی ہیں موت دے یعنی یا الہٰ العالمین کفار کو ہمارے ہاتھوں موت دے کر ہلاک فرمادے یا مغلوب کردے یا کفر کو موت دے کہ یہ کفار مسلمان ہوجائیں،کفر غارت ہو اور ہوسکتا ہے کہ اس میں خطاب سامنے والے غازی مسلمان سے ہو یعنی اے بہادر غازی مار مار بہادری کر۔
|
3951 -[15] وَعَن قيسِ بنِ عُبادٍ قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُونَ الصَّوْتَ عِنْدَ الْقِتَالِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت قیس ابن عبادہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ جنگ کے وقت شور ناپسند کرتے تھے ۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ تابعی ہیں،بصری ہیں،بہت عابد و زاہد تھے،حضرت علی،ابی ابن کعب،عبداﷲ ابن سلام سے ملاقات ہے،خواجہ حسن بصری نے آپ سے روایات لیں مگر اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ یہ چھپا ہوا رافضی تھا۔واﷲ اعلم! بہرحال مشکوک ہے۔
۲؎ ذکر اﷲ کے سواء اور باتوں کا شور ناپسند تھا اس زمانہ میں لوگ اپنی شیخی بہادری کے گیت گاتے ہوئے جنگ کیا کرتے تھے،اس کو حضرات صحابہ ناپسند کرتے تھے ایسے وقت اﷲ کا ذکر چاہیے کہ اگر شہادت ہو تو اﷲ کے ذکر پر۔(مرقات واشعہ)
|
3952 -[16] وَعَن سَمُرَة بن جُنْدُبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ وَاسْتَحْيُوا شَرْخَهُمْ» أَيْ صِبْيَانَهُمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا مشرکوں کے بڈھوں کو قتل کرو ۱؎ اور ان سے چھوٹوں یعنی بچوں کو زندہ چھوڑ دو ۲؎(ترمذی،ابوداؤد) |
۱؎ یہاں بڈھوں سے مراد وہ بڈھے ہیں جو یا تو مسلمانوں کے مقابل جنگ کررہے ہوں یا لڑنے والوں کی پشت پناہی کرتے ہوں یا انہیں لڑاتے ہوں بہرحال جنگ میں حصہ لیتے ہوں،لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں کافر بوڑھوں کے قتل سے ممانعت ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں شیوخ سے مراد جنگی تدبیر رکھنے والے جوان ہیں یعنی جو عمر میں جوان ہوں تدبیر و عقل تجربہ میں بوڑھے کیونکہ اس کے مقابل بچوں کا ذکر آرہا ہے۔
۲؎ یہ تفسیر یا صحابی سمرہ ابن جندب کی ہے یا کسی راوی حدیث کی یا خود صاحب مصابیح کی۔شرخ شین کے پیش ر کے فتح سے جمع ہے شارخ کی جیسے رکب جمع ہے راکب کی۔شرخ کے معنی ہیں لڑکپن یا شروع جوانی۔چھوڑنے سے مراد ہے انہیں قتل نہ کرنا بلکہ قیدکرلینا تاکہ انہیں غلام بنالیا جائے یا کسی وجہ سے انہیں آزاد کردیا جائے۔غرضیکہ اس چھوڑنے میں بہت مصلحت ہے۔
|
3953 -[17] وَعَن عُروَةَ قَالَ: حدَّثني أسامةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَهِدَ إِلَيْهِ قَالَ: «أَغِرْ عَلَى أُبْنَى صباحا وَحرق» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عروہ سے فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت اسامہ نے خبردی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سےعہدلیا فرمایا اُبنا پر جہاد کرو صبح کے وقت ۲؎ اور آگ لگا دو۳؎ (ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع