30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ بویرہ تصغیر ہے بور کی،بور بنی نضیر کے اس باغ کا نام تھا جو اجاڑا گیا۔سراۃ جمع ہے سری کی بمعنی سردار۔سری بنا ہے سروۃٌ سے بمعنی سرداری۔لوی لام کے پیش واؤ کے فتحہ سے قریش کے اجداد میں سے ایک دادا کا نام ہے یعنی قریش پر یہ سخت آگ آسان ہوگئی کہ انہوں نے بہ آسانی اس باغ کو جلتے ہوئے دیکھ لیا یا سن لیا اور کچھ نہ کرسکے،حالانکہ عربوں کو کھجوروں کے باغ بڑے پیارے ہیں،وہ ان کا جل جانا کٹ جانا کسی طرح گوارہ نہیں کرتے مگر اس وقت بے بس تھے کچھ نہ کرسکے۔
۳؎ اس باغ کے اجاڑنے پر بعض کفار بولے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم فساد سے منع فرماتے ہیں اور خود ہی فساد کی اجازت دیتے ہیں،باغ اجاڑنے سے بڑھ کر فساد کون سا ہوسکتا ہے۔تب ان کے جواب میں یہ آیت کریمہ اتری جس میں فرمایا کہ میرے محبوب اور ان کے صحابہ نے یہ جو کچھ کیا ہمارے حکم سے کیا ہم ان کے اس عمل سے راضی اور خوش ہیں۔سبحان اﷲ! یہ ہے کرم خداوندی حضور کے صحابہ پر کہ کام ہے صحابہ کا نام ہے رب کا۔شعر
سنگریزہ می زند دست جناب ما رمیت ازرمیت آید خطاب
تا ابد گر شرح ایں مفصل کنم جز تحیر ہیچ نہ بود حاصلم
اس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں کفار کے باغوں مکانوں کا اجاڑ دینا جائز ہے جب ان میں مصلحت ہو کہ اس کے بغیر فتح نہ ہوسکے،اگر اس کے بغیر فتح ممکن ہو تو یہ کام ہرگز نہ کیے جائیں کہ بعد فتح یہ سب چیزیں مسلمانوں کی ملک ہوں گی۔
|
3945 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ: أَنَّ نَافِعًا كَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهُ أَنَّ ابْنَ عمر أخبرهُ أَن ابْن عمر أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ غَارِّينِ فِي نَعَمِهِمْ بِالْمُرَيْسِيعِ فَقتل الْمُقَاتلَة وسبى الذُّرِّيَّة |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عون سے ۱؎ کہ نافع نے انہیں خبر دیتے ہوئے لکھا کہ حضرت ابن عمر نے انہیں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بنی مصطلق پر حملہ فرمایا جب کہ وہ مقام مریسیع میں اپنے جانوروں میں مشغول و غافل تھے ۱؎ تو لڑنے والوں کو قید کیا اور بچوں کو قتل کیا ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ تابعی ہیں،ثقہ ہیں،عالم ہیں،آپ کے والد کا نام یا عون ہے نون سے یا عوف ہے ف سے،نون سے عون زیادہ مشہور ہے۔
۲؎ بنی مصطلق قبیلہ خزاعہ کا ایک خاندان ہے،مریسیع مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔حضرت عبداﷲ ابن عون نے جناب نافع سے پوچھا تھا کہ کیا جہاد سے پہلے کفار کو دعوت اسلام دینا واجب ہے یا ان پر اچانک حملہ کر دینا بھی جائز ہے جب کہ وہ بالکل بے خبر ہوں تب حضرت نافع نے یہ حدیث انہیں لکھ بھیجی جس سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ اول اسلام میں جہاد سے پہلے تبلیغ واجب تھی پھر یہ حکم نہ رہا۔دیکھو حضور انور نے بنی مصطلق پر اچانک حملہ فرمایا،اس غزوہ میں حضرت جویریہ بنت حارث گرفتار ہو کر آئیں جنہیں آزاد فرما کر حضور نے ان سے نکاح کیا،رضی اللہ عنہا۔
۳؎ یعنی مجبورومعذور و بےقصور بچوں،بوڑھوں،دیوانوں،بے بس عورتوں وغیرہم کو قیدی بنالیا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غافل کفار پر اچانک حملہ کردینا جائز ہے،ان کا مال غنیمت لوٹنا،ان کے جوان جنگجو لوگوں کو قتل کرنا،ان کے بچوں عورتوں کو لونڈی غلام بنانا جائز ہے۔
|
3946 -[10] وَعَن أبي أَسِيدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا يَوْمَ بَدْرٍ حِينَ صَفَفَنَا لِقُرَيْشٍ وَصَفُّوا لَنَا: «إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالنَّبْلِ».وَفِي رِوَايَةٍ: «إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَحَدِيث سعد: «هُوَ تُنْصَرُونَ» سَنَذْكُرُهُ فِي بَابِ «فَضْلِ الْفُقَرَاءِ» . وَحَدِيثُ الْبَرَاءِ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا فِي بَابِ «الْمُعْجِزَاتِ» إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى |
روایت ہے حضرت ابی اسید سے ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہم سے بدر کے دن فرمایا ۲؎ جب کہ ہم نے قریش کے مقابل صفیں باندھیں ۳؎ اور انہوں نے ہمارے مقابل صف آرائی کی کہ جب تم سے قریب ہوں تو تیر لو۴؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جب وہ تم سے قریب ہوں تو انہیں تیرمارو اور اپنے تیر باقی رکھو ۵؎(بخاری)اور حضرت سعد کی حدیث ھل تنصرون الخ باب فضل الفقراء میں ہم بیان کریں گے اور حضرت براء کی حدیث بعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم الخ(ان شاءالله)باب المعجزات میں ہم بیان کریں گے ۶؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع