دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

3943 -[7] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن الصَّعبِ بنِ جِثَّامةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنْ أهلِ الدَّارِ يَبِيتُونَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَيُصَابَ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ قَالَ: «هُمْ مِنْهُمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «هُمْ مِنْ آبائِهم»

روایت ہے حضرت صعب ابن جثامہ سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مشرکین کے گھر والوں کے متعلق پوچھا گیا جن پر شب خون مارا جائے تو ان کی عورتیں اور بچے بھی قتل ہوجائیں فرمایا وہ سب ان سے ہی ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے باپوں سے ہیں۲؎(مسلم)

۱؎ آپ لیثی ہیں،دوان اور ابواء میں رہتے تھے،ابوبکر صدیق کے زمانہ میں وفات پائی۔

۲؎ یعنی شب خون مارنا رات کے اندھیرے میں کفار پر حملہ کردینا جائز ہے،مگر اس وقت جوان کافروں کے مارنے کی نیت کرو،عورتیں بچے اگر اندھیرے میں تمہارے ارادہ کے بغیر مارے جائیں تو تم پر گناہ نہیں کہ وہ بھی کفار کے حکم میں ہیں۔بہرحال کفار کے عورتوں بچوں کو قتل کی ممانعت ارادۃً قتل سے تھی یہاں اجازت بغیر ارادۂ قتل کی ہے لہذا ان احکام میں تعارض نہیں۔جیسے کفار کے ملک میں رہنے والے مسلمانوں کو قتل کرنا حرام ہے لیکن اگر اس شبِ خون مارنے میں وہ بھی قتل ہوجائیں یا کفار مسلمان بچوں یا مسلمانوں کو اپنے آگے رکھ لیں تو ان پر تیر اندازی،گولہ باری جائز ہے مگر کفار کو قتل کرنے کی نیت سے کی جائے اگرچہ وہ مسلمان بھی اس سے ہلاک ہوجائیں کیونکہ مجاہدین ان وجوہ سے جہاد نہ کریں تو اسلام کی بقا کیونکر ہوگی۔ اس کی مفصّل بحث فتح القدیر اور مرقات میں ملاحظہ کرو۔

3944 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بني النَّضيرِ وحرَّقَ وَلها يقولُ حسَّانٌ:وَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَيٍّ حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُستَطيرُ وَفِي ذَلِكَ نَزَلَتْ (مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ)

روایت ہے حضرت عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بنی نضیر کے کھجوروں کے درخت کٹوائے اور جلوا دیئے ۱؎ اس کے متعلق حضرت حسّان کہتے ہیں ۲؎ بنی لوی کے سرداروں پر وہ آگ آسان ہوگئی جو بویرہ میں پھیل گئی۳؎ اور اسی کی بارے میں یہ آیت اتری کہ تم نے جو درخت کھجور کے کاٹ ڈالے اور جو ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دیئے وہ اﷲ کے حکم سے ہے۴؎(بخاری،مسلم)

۱؎ نبی قریظہ اور بنی نضیر یہود مدینہ کے دو قبیلے ہیں جن سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے غیر جانبدار رہنے کا معاہدہ فرمایا تھا مگر انہوں نے بدعہدی کی ان کی بدعہدی کی وجہ سے غزوہ خندق کا واقعہ پیش آیا،اس غزوہ سے فارغ ہوکر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے محلوں کا محاصرہ فرمالیا،وہ لوگ اپنے محلوں قلعوں میں گھس کر بیٹھ رہے تھے،آخر کار وہ قلعوں سے اترے،بنی قریظہ قتل کیے گئے اور بنی نضیر جلا وطن کردیئے گئے،حضور انور نے بنی نضیر کے نخلستان یا تو اس لیے اجاڑ دیئے کہ ان کے مکانات ان باغوں میں گھرے ہوئے تھے راستہ صاف کرنے کو یہ اجاڑے گئے یا اس لیے کہ وہ لوگ اپنے یہ باغ اجڑتے دیکھ کرگھبرا کر باہر نکلیں اور گرفتار کرلیے جائیں۔اس کا پورا واقعہ قرآن مجید سورۂ احزاب شریف میں مذکور ہے۔

۲؎  حضرت حسان کے پورے حالات ہم مرآت جلد اول میں لکھ چکے ہیں کہ آپ حضور کے شاعر اور نعت خواں صحابی ہیں،آپ، آپ کے والد آپ کے دادا آپ کے پر دادا تمام کی عمریں ایک سو بیس سال ہوئیں،سوائے آپ کے کسی میں عمروں کا یہ اجتماع نہ ہوا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن