30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ بولیں کہ میں مسلمان ہوں تم مشرک نکاح کیسا۔اگر تم مسلمان ہوجاؤ تو میں تم سے مہر بھی نہیں مانگتی تمہارا اسلام ہی میرا مہر ہوگا اور میں تم سے نکاح کرلوں گی،حضرت ابوطلحہ کے مسلمان ہوجانے پر آپ ان کے نکاح میں آئیں،بڑی جلیل الشان صحابیہ ہیں،آپ کا نام رمامہ یا ملیکہ یا غمیصہ یارمیصاء ہے۔
۲؎ یعنی زخمی مجاہدوں کو پانی پلانا اور دوا دارو کرنا ان کی روٹی وغیرہ پکانا ان بیبیوں کا کام تھا یا تو اپنے خاوندوں کی خدمات کرتی تھیں یا اپنے دوسرے محرم رشتہ داروں کی اور اگر اجنبی غازیوں کی یہ خدمات کرتی تھیں تو باپردہ رہ کر بغیر ان کے جسموں کو ہاتھ لگائے۔ فتح القدیر میں فرمایا کہ اگر عورتوں کو جہاد میں لے جانے کی ضرورت پڑے تو بوڑھی عورتوں کو لے جایا جائے،اگر جوانوں کی ضرورت درپیش ہو تو لونڈیوں کو لے جایا جائے مگر ان سے جنگ نہ کرائی جائے کہ اس میں مسلمانوں کی ذلت ہے،ہاں اگر سخت ضرورت پڑ جائے تو قتال بھی کرسکتی ہیں جیسے غزوہ حنین میں خود ام سلیم نے جنگ کی ہے۔(مرقات)ضروریات کا حکم اور ہے۔ غرضیکہ عورتوں کو جہاد میں جانا ان سے جنگ کرانا سخت ضرورت کے وقت ہے۔
|
3941 -[5] وَعَن أُمِّ عطيَّةَ قَالَتْ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ فَأَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ وَأُدَاوِي الْجَرْحَى وَأَقُومُ عَلَى المرضى. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ام عطیہ سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سات جہاد کیے میں غازیوں کی منزلوں میں ان کے پیچھے رہتی تھی ان کا کھانا پکاتی تھی زخمیوں کی دوا دارو کرتی تھی ۲؎ اور بیماروں کا انتظام کرتی تھی ۳؎(مسلم) |
۱؎ آپ کا نام نسیبہ بنت کعب ہے،انصاریہ ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوات میں آپ بہت زیادہ گئی ہیں۔
۲؎ معلوم ہوا کہ آپ جنگ نہ کرتی تھیں بلکہ غازیوں کی یہ خدمات انجام دیتی تھیں اس تفصیل سے جو ابھی گزری کہ کھانا عام غازیوں کے لیے پکاتی تھیں مگر دوا مرہم پٹی اپنے محرم رشتہ داروں کی کرتی تھیں یا عام غازیوں کی مگر پردہ کے ساتھ بغیر انہیں ہاتھ لگائے۔ غرضیکہ اس حدیث کو اس زمانہ کی بے پردگی آوارگی اور عورتوں کی آزادی پر دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔
۳؎ یہ عورتوں کا جہادوں میں جانا سخت ضرورت کے وقت تھا لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں ہے"وَقَرْنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ"اے نبی کی بیبیو اپنے گھروں میں رہو۔
|
3942 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ ہے مسلمانوں کا جہاد۔حضرت ابوبکر صدیق نے جب یزید ابن ابوسفیان کو شام کے جہاد پر بھیجا تو فرمایا کہ کفار کے بچوں عورتوں بڈھوں راہبوں(جو گیوں)وغیرہم کو قتل نہ کرنا صرف انہیں قتل کرنا جو تم سے لڑنے کے لیے مقابلہ میں آئیں۔(مرقات)مگر خیال رہے کہ اگر راہب جوگی یا بڈھے یا عورتیں کفار کو جنگ میں مدد دے رہے ہوں تو انہیں قتل کیا جائے گا کہ اب وہ مقاتل ہیں۔اس کی تحقیق کے لیے کتب فقہ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔اب لڑائیوں میں پہلے بے قصور عورتیں بچے ہی بم باری سے ہلاک ہوتے ہیں، جنگ صرف میدان جنگ میں ہوتی تھی اب ہر بستی ہر گھر میں ہوتی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع