دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۱؎ آپ انصاری خزرجی ہیں،عقبہ ثانیہ کی بیعت میں شریک تھے،سوا غزوہ تبوک کے تمام غزوات میں حاضر رہے،حضور کے نعت گو شعراء میں سے ایک ہیں،آپ ان تین صحابہ میں سے ہیں جن کا غزوہ تبوک کے موقعہ پر بائیکاٹ کیا گیا اور پھر عرش اعظم سے جن کی قبولیت توبہ کا سورۂ توبہ میں اعلان ہوا،آخر عمر شریف میں نابینا ہوگئے تھے،ستتر۷۷ سال عمر ہوئی، ۵۰ھ ؁ پچاس ہجری میں وفات ہوئی۔

۲؎ یعنی علامات سے ظاہر فرماتے تھے کہ اس طرف حملہ کرنا ہے جیسے اس جانب کے حالات دریافت کرنا،ادھر کے گاؤں شہر کے نام پوچھنا تاکہ اگر کوئی جاسوسی کرے تو اس طرف والوں کو جنگ کی خبر دے اور جدھر حملہ کرنا ہے ادھر کے لوگ بے خبر رہیں اور بے خبری میں ان پر حملہ ہوجائے تاکہ جلد فتح ہوجائے اور خونریزی کم سے کم ہو۔اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ اس طرف کی خبر نہ دیتے تھے کہ یہ جھوٹ ہے،یہ طریقہ ہماری جنگی تدبیرتھی اب بھی اس پر عمل چاہیے۔شعر

سکندر کہ باشرقیاں حرب داشت               در خیمہ گویند در غرب داشت

دشمن کو اپنے ارادے پر خبردار نہ ہونے دینا اچانک حملہ کرنا بہت مفید ہوتا ہے۔

۲؎  تبوک مدینہ منورہ سے چودہ منزل پر واقع ہے اردن کے قریب،اب خیبر سے جو ہوائی جہاز عمان جاتا ہے وہ تبوک سے گزرتا ہے۔فقیر نے اس ہوائی جہاز سے سفر کیا ہے۔اشعہ میں فرمایا کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری غزوہ ہے۔

۳؎  یعنی غزوہ تبوک میں اپنا ارادہ ظاہر فرمادینا غازیوں کی تیاری کے لیے تھا کہ غازی دراز سفر کا سامان کرلیں۔اس زمانہ میں غزوہ کا زیادہ سامان خود غازی اپنے خرچ سے کرتے تھے اب تمام تیاری حکومت کرتی ہے اس لیے فوج کو آخر وقت تک خبر نہیں ہوتی کہ ہم کہاں جارہے ہیں،صرف کمانڈر یا کرنل وغیرہ مطلع ہوتے ہیں،اس غزوہ کا ذکر قرآن کریم میں بہت زیادہ ہے۔

3939 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «الْحَرْب خدعة»

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لڑائی دھوکا ہے  ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ خدعہ خ کے فتحہ یا پیش سے،کسرہ سے بھی آتا ہے مگر کم یعنی جنگ کی جان دشمن کو دھوکہ میں رکھنا ہے کہ اسے ہمارے اصلی ارادہ اور اصلی حال پر خبر نہ ہونے پائے،اپنی تھوڑی سی جماعت کو بہت ظاہر کیا جائے تھوڑے سامان کو بے شمار دکھایا جائے یہ جنگی کمال اور مجاہد کی چال ہے۔کسی میدان کو خالی چھوڑ دینا کہ دشمن اسے خالی جان کر اپنی فوج لے آوے پھر داہنے بائیں اور پیچھے سے نکل کر اس کی فوج کو گھیر لینا جس سے ساری فوج ہتھیار ڈال دے،یہ ہے دھوکہ اس دھوکہ سے مراد جھوٹ اور ناجائز مکروفریب نہیں اب بھی جنگوں میں ایسی چالیں بہت چلی جاتی ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہ حدیث قریبًا متواتر ہے کہ اسے احمد،ابوداؤد، ترمذی اورمسلم،بخاری،ابن ماجہ،بزاز،طبرانی ابن عساکر اور جامع صغیر میں بہت سے صحابہ کرام نے نقل فرمایا۔

3940 -[4]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مَعَهُ إِذَا غَزَا يَسْقِينَ الْمَاءَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ام سلیم ۱؎  اور کچھ انصاری بیبیوں کو لے کر جہاد فرماتے تھے جب جہاد کرتے تھے تو یہ بیبیاں پانی پلاتی تھیں زخمیوں کی دوا دارو کرتی تھیں ۲؎(مسلم)

۱؎ آپ ام سلیم بنت ملحان ہیں میم کے کسرہ سے،آپ کے نام میں اختلاف ہے۔پہلے مالک ابن نضر کے نکاح میں تھیں انہیں سے حضرت انس پیدا ہوئے،مالک کے قتل ہوجانے کے بعد بیوہ ہوگئیں اور مسلمان ہوگئیں ،ابو طلحہ نے آپ کو اپنے سے نکاح کرلینے کا پیغام دیا،

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن