30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ بہت سے جہادوں میں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲؎ اس طرح کہ مسلمان بعد نماز ظہر غازیوں کے لیے دعائیں مسجدوں میں کرتے ہوتے اور ادھر غازی لوگ میدان میں جہادکرتے گویا جہاد مسلمانوں کی دعاؤں کے سایہ میں ہوتے تھے۔
|
3934 -[9] وَعَن قتادةَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ أَمْسَكَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ قَاتَلَ فَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ أَمْسَكَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَاتَلَ حَتَّى الْعَصْرِ ثُمَّ أَمْسَكَ حَتَّى يُصَلَّى الْعَصْرُ ثُمَّ يُقَاتِلُ قَالَ قَتَادَةُ: كَانَ يُقَالُ: عِنْدَ ذَلِكَ تُهِيجُ رِيَاحُ النَّصْرِ وَيَدْعُو الْمُؤْمِنُونَ لِجُيُوشِهِمْ فِي صلَاتهم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت قتادہ سے وہ نعمان ابن مقرن سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جہاد کیا تو فجر طلوع ہوتی تو آپ رک جاتے حتی کہ سورج طلوع ہوجاتا ۱؎ پھر جب سورج طلوع ہوتا تو جنگ کرتے پھر جب نصف دن ہوجاتا تو رک جاتے۲؎ حتی کہ سورج ڈھل جاتا پھر جب ڈھل جاتا تو جہادکرتے عصر تک پھرٹھہر جاتے حتی کہ عصر پڑھ لیتے پھر جہاد کرتے،قتادہ کہتے ہیں کہ کہا جاتاہے۳؎ کہ اس وقت فتح و نصرت کی ہوائیں چلتیں ہیں اور مسلمان اپنی نمازوں میں اپنے لشکروں کے لیے دعائیں کرتے ۴؎(ترمذی) |
۱؎ آفتاب نکلتے تک کا انتظاراس لیے ہوتا تھاکہ نماز فجر سے اطمینان کے ساتھ فراغت ہوجائے اور بعد نماز ورد وظیفے اور پھر نماز چاشت سے فارغ ہوجاتے تھے،ہمیشہ ہی نماز اور ذکراللہ کی پابندی چاہیے مگر جہاد میں بہت زیادہ چاہیے۔ثابت قدمی اور ذکر اللہ یہ دو ایسے ہتھیار ہیں جوکفار کے پاس نہیں،رب فرماتاہے:"اِذَا لَقِیۡتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوۡا وَاذْکُرُوا اللہَ کَثِیۡرًا"۔
۲؎ یہاں نصف دن سے مراد شرعی دن کا آدھا ہے جسے ضحوہ کبریٰ کہتے ہیں۔اس وقت سے سورج ڈھلنے تک کافی وقفہ مل جاتا ہے جس میں غازی آرام کرکے تازہ دم ہوجاتے ہیں کیونکہ نجومی کہتے ہیں کہ دن کے آدھے اور سورج ڈھلنے میں وقفہ بہت کم ہوتا ہے۔
۳؎ یعنی عام صحابہ اور عام مسلمانوں میں یہ بات مشہور ہے کہ اس وقت جنگ کرنے میں یہ حکمتیں ہیں اور یہ شہرت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان عالی کی بنا پر ہے۔آزمائش ہے کہ جو بات مشہور ہو اس کی اصل ضرور ہوتی ہے۔
۴؎ بعد فجر بعد ظہر تو عمومًا دعائیں ہوتی ہیں مگر بعد عصر میں یہ خصوصیت ہے کہ بہت سے انبیاء کرام نے اس وقت جہاد میں فتح پائی ہے۔چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ ایک نبی جہاد فرمارہے تھے،شہر قریب فتح تھا کہ سورج ڈوبنے لگا تو آپ نے فرمایا کہ اے سورج تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں،خدایا اسے روک دے،چنانچہ سورج روک دیا گیا جب انہوں نے شہر فتح فرمایا تب سورج ڈوبا۔(مرقات)
|
3935 -[10] وَعَن عصامٍ المزنيِّ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عصام مزنی سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک لشکر میں بھیجا تو فرمایا جب تم مسجد دیکھو یا مؤذن کو سنو تو کسی کو قتل نہ کرو ۱؎(ترمذی،ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع