دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

3930 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أوفى: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ حَتَّى مَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فَإِذَا لَقِيتُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ» ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وهازم الْأَحْزَاب واهزمهم وَانْصُرْنَا عَلَيْهِم»

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن ابی اوفی سے ۱؎ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بعض ان دنوں میں جن میں دشمن سے جنگ فرمائی ۲؎  تو یہاں تک انتظار فرمایا کہ سورج ڈھل گیا۳؎  تو حضور لوگوں میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا کہ اے لوگو دشمن سے ملنے کی آرزو نہ کرو۴؎  اور اللہ سے امن کی دعا مانگو پھر جب بھڑ جاؤ تو صبر کرو ۵؎ اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایہ کے نیچے ہے ۶؎ پھر کہا اے اﷲ اے کتاب کے اتارنے والے اور بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو بھگانے والے انہیں بھگادے اور ان کے مقابل میں ہماری مدد فرما ۷؎(مسلم،بخاری)

۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کے حالات بارہا بیان ہوچکے ہیں، ۸۷ھ؁  ہجری میں کوفہ میں وفات پائی۔

۲؎  یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ جنگ کون سی تھی مگر یہ معلوم ہوا کہ اس جنگ میں مسلمان حملہ آور تھے کفار نے مدینہ منورہ پر حملہ نہ کیا تھا۔خیال رہے کہ جہاد ہر طرح جائز ہے مدافعانہ بھی اور جارحانہ طور پر بھی۔ جن بے وقوفوں نے سمجھا کہ مسلمان صرف دفاع کریں انہوں نے غلط سمجھا،سواء احد و احزاب کے حضور نے تمام جہاد جارحانہ ہی کیے ہیں۔

۳؎  جب کہ دوپہر کی تیزی جاتی رہی نماز ظہر کا وقت آگیا فتح و نصرت کی ہوائیں چلنے لگیں مجاہدین قیلولہ کرکے تازہ دم ہوگئے دعا کی قبولیت کا وقت آگیا کیونکہ نماز کے وقتوں میں دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔معلوم ہوا کہ یا تو صبح کے وقت جہاد کیا جائے یا دن ڈھلے،بیچ دوپہری میں جہاد نہ کرے۔(مرقات وغیرہ)حدیث شریف میں ہے کہ دن ڈھلے آسمان کے دروازہ رحمت کھل جاتے ہیں۔(اشعہ)

۴؎ یعنی جنگ کی تمنا نہ کرو نہ دعا مانگو کیونکہ جنگ ایک بلا ہے بلا کی آرزو اچھی نہ بہتر اس میں فخروتکبر کی بو ہے اس لیے اس تمنا سے بچو اپنی قوت و طاقت پر بھروسہ نہ کرو۔ہمیشہ اﷲ سے فضل و رحمت مانگو۔بیماری اگرچہ اﷲ کی رحمت کا باعث ہے،سانپ کاٹے کی موت شہادت کی موت ہے مگر نہ تو ان کی دعا کرو نہ کوشش اور جب رب کی طرف سے آجائے تو صبر کرو۔

۵؎  یعنی دعا کرو امن و عافیت کی نہ کہ جنگ کی اور اگر کفار سے جنگ کرنا پڑے تو پھر ہمت و استقلال سے کام لو۔سبحان اﷲ! کیسی نفیس تعلیم ہے۔

۶؎  تلوار سے مراد ہتھیار جنگ ہیں جن میں تیر بندوق توپ اور ہوائی جہاز راکٹ وغیرہ سب شامل ہیں،چونکہ اس زمانہ میں جہاد کا عام استعمالی ہتھیار تلوار تھی اس لیے ہی اس کا ذکر فرمایا۔سایہ تلوار سے مراد ہے اٹھی ہوئی کھچی ہوئی تلوار خواہ ہماری تلوار ہو جو کافروں کے سر پر پڑرہی ہو یا کفار کی تلوار ہو جو وہ ہم پر اٹھا رہے ہوں یعنی جنت جہاد سے بہت ہی قریب ہے گویا تلواروں کے سایہ میں ہے کہ غازی شہید ہوا اور جنگ میں گیا۔خیال رہے کہ تمام جنتی مسلمان بعد قیامت جنت میں جائیں گے مگر شہید کی روح جسم سے نکلتے ہی جنت میں پہنچ جاتی ہے۔

۷؎ معلوم ہوا کہ جہاد سے پہلے دعاء نصرت کرنا سنت ہے اور بہتر ہے کہ دعا ماثورہ مانگے یہ دعا ہو یا کوئی اور دعا جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول ہو یا حضرات اولیاء سے۔

3931 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَزَا بِنَا قَوْمًا لَمْ يَكُنْ يَغْزُو بِنَا حَتَّى يُصْبِحَ وَيَنْظُرَ إِلَيْهِمْ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ قَالَ: فَخَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ لَيْلًا فَلَمَّا أَصْبَحَ وَلَمْ يسمَعْ أذاناً رِكبَ ورَكِبْتُ خلفَ أبي طلحةَ وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدِمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَخَرَجُوا إِلَيْنَا بَمَكَاتِلِهِمْ ومساحيهم فَلَمَّا رأى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: مُحَمَّدٌ واللَّهِ محمّدٌ والخميسُ فلَجؤوا إِلَى الْحِصْنِ فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قومٍ فساءَ صباحُ المُنْذَرينَ»

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب ہمارے ساتھ کسی قوم پر جہاد کرتے تو حملہ نہ فرماتے حتی کہ صبح پالیتے اور ان کی طرف غور کرتے ۱؎ اگر اذان سنتے تو ان سے رک جاتے اور اگر اذان نہ سنتے تو ان پر حملہ کردیتے ۲؎ فرماتے ہیں کہ ہم خیبر کی طرف گئے تو ہم ان تک رات میں پہنچے ۳؎  جب سویرا ہوا اور اذان نہ سنی تو آپ سوار ہوئے اور میں ابوطلحہ کے پیچھے سوار ہوا کہ میرے قدم حضور کے قدم سے چھوتے تھے۴؎  فرماتے ہیں کہ وہ لوگ اپنی زنبیلیں اور پھاؤڑے لے کر نکلے ۵؎ پھر جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا تو بولے محمد خدا کی قسم محمد اور لشکر ۶؎ پھر انہوں نے قلعہ میں پناہ لے لی ۷؎ تو جب انہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا تو فرمایا اﷲ اکبر اﷲ اکبر خیبر ویران ہوگیا۸؎  جب ہم ایک قوم کے میدان میں اترے تو ڈرائے ہوؤں کا سویرا برا ہوگیا ۹؎(مسلم بخاری)۱۰؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن