دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

3153 -[14]

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "فَصَلَ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ: الصَّوْتُ وَالدُّفُّ فِي النِّكَاحِ ".رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت محمد ابن حاطب جمحی سے ۱؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا حلال و حرام کے درمیان فرق نکاح میں آواز اور دف ہے ۲؎(احمد،ترمذی، نسائی،ا بن ماجہ)

۱؎ آپ کی پیدائش حبشہ میں ہوئی بہت چھوٹی عمر میں اپنے چچا خطاب ابن حارث ابن معمر کے ساتھ مدینہ پاک کی طرف ہجرت کی اور بہت چھوٹی عمر میں حضور انور کی زیار ت کی امت میں سب سے پہلے انہی کا نام محمد رکھا گیا ۷۴ھ؁ میں مکہ معظمہ میں وفات ہوئی وہاں ہی دفن ہوئے۔(اشعہ)

۲؎ آواز سے مراد اعلانچی یا گولے وغیرہ کی آواز ہے دف میں تاشہ بھی داخل ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ بغیر دف تاشہ،یا اعلان کے نکاح ہوتا ہی نہیں بلکہ اعلان نکاح کی ترغیب مقصود ہے۔مطلب یہ ہے کہ حلال نکاح اعلانیہ ہوتے ہیں مشکوک و حرام چھپ کرکئے جاتے ہیں کہ نہ کسی کو خبر ہو نہ کوئی اعتراض کرے،جیسے نکاح پر نکاح یا عدت میں نکاح وغیرہ۔

3154 -[15]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَتْ عِنْدِي جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ زَوَّجْتُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ أَلَا تُغَنِّينَ؟ فَإِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ يُحِبُّونَ الْغِنَاءَ» . رَوَاهُ ابْن حبَان فِي صَحِيحه

 روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میرے پاس انصار کی ایک لڑکی تھی ۱؎ جس کا میں نے نکاح کیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے عائشہ تم گیت کیوں نہیں گاتیں ۲؎ کیونکہ یہ قبیلہ انصار گیت گانا پسند کرتے ہیں ۳؎

۱؎ یہ بچی یا تو حضرت ام المؤمنین کی کوئی عزیز قریبی تھی یا یتیمہ تھی جو آپ نے پرورش کی تھی پہلا احتمال قوی ہے جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہورہا ہے۔

۲؎ یعنی خود کیوں نہیں گیت گاتیں یا کسی لڑکی سے گانے کو کیوں نہیں کہتیں یا کوئی گانے والی کیوں نہیں گاتی،یہ صیغہ یا واحد مخاطبہ کا ہے یا غائبہ کا۔(مرقات)

۳؎ یعنی انصار شادی بیاہ میں گیت وغیرہ کو محبوب رکھتے ہیں اور نکاح بھی انصاری بچی کا ہے،تو گیت بہتر تھا،۔گیت کی تحقیق پہلے ہوچکی کہ شادی میں چھوٹی بچیوں کا دف بجانا گانا یا بالغہ عورت کا آہستہ آواز سے جائز گیت گانا جائز ہے وہ ہی یہاں مراد ہے۔ جوان عورتوں کو اونچی آواز سے عشقیہ حرام گانے خصوصًا جب کہ اجنبی مردوں تک آواز پہنچے سخت حرام بلکہ بڑے فساد کا باعث ہے جیسے پاکیزہ گیت شادیوں پر عرب میں مروج تھے ان کا نمونہ آگے آرہا ہے۔

3155 -[16]

وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: أنكحت عَائِشَة ذَات قَرَابَةٍ لَهَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَهَدَيْتُمُ الْفَتَاةَ؟» قَالُوا: نعم قَالَ: «أرسلتم مَعهَا من تغني؟» قَالَتْ: لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ فَلَوْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يَقُولُ:أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فحيانا وحياكم ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه

 روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جناب عائشہ نے اپنے ایک قرابت دار انصاری کا نکاح کیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا کیا تم نے لڑکی کو بھیج دیا ۱؎ عرض کیا ہاں فرمایا کیا اس کے ساتھ اس کو بھیجا جو گیت گائے بولیں نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار ایسی قوم ہے جس میں غزل خوانی کا رواج ہے ۲؎ تم اس کے ساتھ بھیجتیں جو کہتا ہم آگئے ہم آگئے اﷲ ہم کو بھی اور تم کو بھی زندگی دے ۳؎(ابن ماجہ)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن