30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھوڑیں وہ اس حکم سے منسوخ ہے۔بعض علماء نے فرمایا کہ اگر کفار ہمارے مقتول شہداء کا مثلہ کریں تو ہم بھی اس کے جواب میں ان کا مثلہ کرسکتے ہیں مگر پہلی بات صحیح ہے،اگر بحالت جنگ اتفاقًا کفار کے بچے مرجائیں تو مجاہدین گنہگار نہیں کہ ان کا ارادہ نہ تھا اور اگر بچہ کفار کا بادشاہ یا سپہ سالار ہو تو اسے قتل کردیا جائے کہ اس سے کفر کی شوکت تو ڑنا ہے۔اس کی پوری بحث فتح القدیر اور مرقات میں دیکھو۔کفار کی عورتیں و بوڑھے لوگ اگر جنگ سے علیٰحدہ ہوں تو انہیں قتل نہ کیا جائے،اگر بادشاہ یا سپہ سالار ہو یا کفار کے مددگار کہ انہیں طریق جنگ سکھاتے ہوں تو ضرور قتل کردیجئے جاویں۔
۵؎ اس میں خطاب امیرلشکر سے ہے کہ یہ کام امیر کا ہے عام غازیوں کا نہیں۔خصال جمع خصلۃ کی،خلال جمع ہے خلۃ کی دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی عادت۔
۶؎ سبحان اﷲ! یہ ہے اسلامی جہاد کہ ایک دم کفار پر ٹوٹ پڑنے کی اجازت نہیں۔جہاد میں اصل مقصود اسلام پھیلانا ہے نہ کہ صرف کفار کو قتل کرنا جنگ تو صرف مجبوری سے ہے۔
۷؎ یعنی بطور مشورہ ان کو دعوت اسلام دو،کہو کہ مسلمان ہوکر ہمارے بھائی بن جاؤ،اگر ان کفار تک دعوت اسلام نہ پہنچی ہو وہ اسلام کو جانتے ہی نہ ہوں تو یہ حکم وجوبی ہے کہ بغیر دعوت دیئے جنگ کرنا ممنوع ہے اور اگر پہنچ چکی ہے تو یہ امر استحبابی ہے کہ اگر بغیر دعوت دیئے بھی جنگ کی گئی تو جائز ہے مگر بہتر یہ ہے کہ پہلے دعوت بعد میں جنگ اور یہ حکم اسی وقت ہے جب یہ چیزیں ممکن ہوں،اگر حالات نازک ہیں دعوت کا موقعہ نہیں جلد حملہ نہ کرنے میں خطرہ ہے تو یہ حکم نہیں۔
۸؎ یعنی بلاوجہ بدگمانی نہ کرو کہ انہوں نے دھوکہ کے لیے اسلام قبول کیا ہے دل سے قبول نہیں کیا بلکہ ان کا اسلام لانا مان لو،اگر دھوکہ دہی کی علامات موجود ہوں تو ان کا حکم دوسرا ہے۔
۹؎ مرقات نے فرمایا کہ ہجرت کا یہ حکم فتح مکہ سے پہلے تھا،فتح مکہ ہوچکنے کے بعد اب ان کفار سے ہجرت کے لیے نہ کہا جائے گا۔چنانچہ عہد فاروقی وغیرہ میں بڑے معرکے کے جہاد ہوئے،لوگ مسلمان ہوئے مگر کسی کو مدینہ منورہ کی طرف منتقل ہوجانے کا حکم نہ دیا گیا،نہ مدینہ منورہ میں اتنی جگہ ہے کہ تمام نو مسلم مہاجروں کو جگہ وہاں مل سکتی ہے لہذا یہ فرمان اسی زمانہ کے لحاظ سے ہے۔
۱۰؎ زمانہ نبوی میں مہاجرینِ مدینہ کو فئ میں سے حصہ ملا کرتا تھا خصوصًا جب وہ جہاد میں جاتے تو ان کی واپسی تک ان کے بال بچوں کو اس فئ سے خرچہ ملتا رہتا تھا،نیز مہاجرین کو جہاد کے لئے حسبِ الحکم جانا پڑتا تھا یہاں یہ ہی دوخبریں مراد ہیں یعنی اگر تم مہاجرین بن کر مدینہ منورہ آگئے تو تم کو فئ کا وہ ہی حصہ ملا کرے گا جو مہاجرین کو ملتاہے اور تم پر اسی طرح جہادمیں جانا لازم ہواکرے گا جو دیگر مہاجرین پر لازم ہے۔غیر مہاجرین مسلمان جو کفار کے ملک میں رہتے ہیں ان پر اس طرح جہاد واجب نہیں یعنی جیسے دوسرے غیرمہاجرین پر لازم ہے۔غیر مہاجر مسلمان جو کفار کے ملک میں رہتے ہیں ان پر اس طرح جہاد واجب نہیں۔
۱۱؎ یعنی جیسے دوسرے غیرمہاجرمسلمانوں پر جہاد نہیں صرف نمازوروزہ وغیرہ ہے ایسے ہی ان پر ہوگا انہیں مہاجرین کی رعایات نہ ملیں گی۔
۱۲؎ یا تو غنیمت اور فئ ہم معنی ہیں اور یہ عطف تفسیری ہے یا غنیمت وہ مال ہے جو کفار سے جنگ میں لڑکر حاصل کیا جائے اور فئ وہ مال ہے جو بغیر جنگ ہاتھ آجائے۔
۱۳؎ اس سے معلوم ہورہا ہے کہ زمانہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم میں مہاجرین کو غنیمت و فئ میں سے کچھ دیا جاتا تھا جو غیر مہاجر کو نہ ملتا تھا۔
۱۴؎ یعنی اگر کفار اسلام قبول نہ کریں تو تم ان کو مسلمان ہونے پر مجبور نہ کرو بلکہ انہیں کہو کہ ہماری رعایا بن جائیں اور ہم کو جزیہ (ٹیکس)دیا کریں کہ ہم ان کی حفاظت کریں وہ ہم کو ٹیکس دیں۔خیال رہے کہ امام اعظم کے ہاں مشرکین عرب اور مجوسیوں سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع