30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ اس طرح کہ نماز جمعہ کے بعد آپ خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے ملے وداع ہونے کے لیے یا ویسے ہی برکت حاصل کرنے کے لیے جیسے آج کل بھی بعد نماز جمعہ بزرگوں سے ملاقات کی جاتی ہے۔
۵؎ یعنی کسی دنیاوی کام کے لیے نہیں رکا ہوں اس لالچ میں ٹھہر گیا ہوں کہ ڈبل ثواب حاصل کروں آپ کے ساتھ نماز جمعہ پڑھنے کا اور جہاد میں جانے کا۔
۶؎ یعنی اگر تم میرے ساتھ نماز جمعہ ادا کرنے کے ساتھ ساری دنیا کا مال خیرات بھی کردو تو جو ثواب ان سویرے نکل جانے والوں کو تعمیل حکم کا ملا وہ تم کو ان تمام عبادات کا نہیں مل سکتا۔معلوم ہوا کہ حضور کی اطاعت تمام عبادات سے افضل ہے،ان کی اطاعت میں ترک جمعہ عبادت ہے بغیر اطاعت جمعہ کی نماز مسجد نبوی میں پڑھنا اعلیٰ عبادت نہیں۔شعر
معلوم ہوا کہ جملہ عبادات فروع ہیں اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے
ان کے در پر دم نکل جائے تو جی جائیں حسن ان کے در سے دور رہ کر زندگی اچھی نہیں
اس لیے صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ رضائے یار بہتر ہے لقاء یار سے دور رہیں مگر راضی رہیں یہ بہتر ہے اس سے کہ ہم قریب رہیں اور حضور ناراض رہیں۔شعر
لقائے دوست چہ خواہی رضاء دوست طلب کہ حیف باشد از وغیراو تمنائے
|
3924 -[33] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جِلْدُ نَمِرٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ رحمت کے فرشتے ان ہمراہیوں کے ساتھ نہیں رہتے جن میں چیتے کی کھال ہو ۱؎(ابوداؤد) |
۱؎ اس زمانہ میں متکبر لوگ فخر کے طور پر چیتے کی کھال کی زین گھوڑے پر ڈال کر سوار ہوتے تھے یہ طریقہ متکبر ہی کا تھا،نیز چیتے اور شیر کی کھال پر سواری دل میں تکبر اورسختی پیدا کرتی ہے اس لیے اس سے منع فرمادیا گیا سنا ہے کہ ہرن کی کھال پر ہمیشہ بیٹھنا نامردی پیداکرتا ہے۔والله اعلم! بعض شارحین نے اس کی ممانعت کی اور وجہ بھی بیان فرمائی ہیں۔
|
3925 -[34] وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيِّدُ الْقَوْمِ فِي السَّفَرِ خَادِمُهُمْ فَمَنْ سَبَقَهُمْ بِخِدْمَةٍ لَمْ يَسْبِقُوهُ بِعَمَلٍ إِلَّا الشَّهَادَةَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان» |
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سفر میں قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے۲؎ تو جو خدمت میں ان سے آگے بڑھ گیا وہ لوگ کسی پر کسی عمل سے سبقت نہیں کرسکتے سواءشہادت کے ۳؎ (بیہقی شعب الایمان) ۴؎ |
۱؎ آپ کے حالات بارہا بیان ہوچکے ہیں کہ آپ کا نام پہلے حزن تھا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کا نام سہل رکھا،آپ ساعدی ہیں، انصاری مدنی ہیں،خود بھی صحابی ہیں خود آپ کے والد سعدبھی صحابی ہیں، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت آپ سولہ سالہ تھے پھر کافی عمر پائی، ۹۱ اکیانوے ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،آپ مدینہ پاک کے آخری صحابی ہیں،آپ کی وفات پر مدینہ پاک صحابہ سے خالی ہوگیا۔(اشعہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع