30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3918 -[27] وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذا جَاءَهُ رَجُلٌ مَعَهُ حِمَارٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ارْكَبْ وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهُ لِي».قَالَ: جَعَلْتُهُ لَكَ فَرَكِبَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پیدل چل رہے تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک شخص آیا جس کے ساتھ گدھا تھا عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سوار ہو جاؤ اور خود پیچھے بیٹھ گیا ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یعنی اپنے جانور کے سینہ کے تم زیادہ حق دار ہو مگر اس طرح کہ تم وہ حق میرے لیے کردو ۲؎ اس نے عرض کیا میں نے حضور کو یہ حق دے دیا تب حضور سوار ہوئے ۳؎ (ترمذی،ابوداؤد) |
۱؎ یہ پتہ نہ چلا کہ یہ کون سا سفر تھا بہرحال کوئی سفر ہو حضور انور اس میں پیدل تھے اس اعرابی نے چاہا کہ حضور کو آگے سوار کریں خود پیچھے بیٹھیں ادب کے لیے۔
۲؎ گردن سے قریب کا حصہ سینہ کہلاتا ہےاس فرمان عالی میں یہ تعلیم دی گئی کہ اگر ایک جانور پر دو شخص سوار ہوں تو آگے جانور کا مالک بیٹھے پیچھے دوسرا آدمی۔
۳؎ چونکہ جانور کا سینہ مالک کا اپنا حق ہے وہ چاہے جسے دے اس لیے حضور انور اس کی اجازت کے بعد آگے سوار ہوئے۔
|
3919 -[28] وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَكُونُ إِبِلٌ لِلشَّيَاطِينِ وَبُيُوتٌ لِلشَّيَاطِينِ» . فَأَمَّا إِبِلُ الشَّيَاطِينِ فَقَدْ رَأَيْتُهَا: يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ بِنَجِيبَاتٍ مَعَهُ قَدْ أَسْمَنَهَا فَلَا يَعْلُو بَعِيرًا مِنْهَا وَيَمُرُّ بِأَخِيهِ قَدِ انْقَطَعَ بِهِ فَلَا يَحْمِلُهُ وَأَمَّا بُيُوتُ الشَّيَاطِينِ فَلَمْ أَرَهَا كَانَ سَعِيدٌ يَقُولُ: لَا أُرَاهَا إِلَّا هَذِهِ الْأَقْفَاصَ الَّتِي يَسْتُرُ النَّاسُ بِالدِّيبَاجِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے سعید ابن ہند سے ۱؎ وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ تو اونٹ شیطانوں کے ہوں گے اور کچھ گھر شیطانوں کے ہوں گے ۲؎ لیکن شیطانوں کے اونٹ وہ تو میں نے دیکھ لیے۳؎ کہ تم میں سے کوئی اپنے ساتھ اعلیٰ اونٹنیاں لےکر نکلتا ہے۴؎ جنہیں موٹا کیا ہوتا ہے تو ان میں سےکسی اونٹ پر سوار نہیں ہوتا اور اپنے بھائی پر گزرتا ہے جو عاجز رہ گیا ہے تو اسے سوار نہیں کرتا ۵؎ لیکن شیطانوں والے گھر تو وہ میں نے نہ دیکھے ہیں ۶؎ حضرت سعید کہتے تھے کہ میں نہیں سمجھتا مگر یہ ہیں پنجرے جنہیں لوگ ریشم سے ڈھکتے ہیں ۷؎(ابوداؤد) |
۱؎ آپ تابعین میں سے ہیں،حضرت سمرہ ا بن جندب صحابی کے آزادکردہ غلام ہیں،آپ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ابوہریرہ ابن عباس رضی اللہ عنہم سے احادیث روایت کیں اور آپ سے آپ کے بیٹے حضرت عبداﷲ ابن سعید اور نافع ابن عمرجحمی وغیرہم نے روایات کیں،ثقہ ہیں،عالم ہیں۔
۲؎ جو اونٹ یا گھر ضرورت سے زیادہ رکھے جائیں اور ان سے کوئی دینی کام نہ لیا جائے صرف نام ونمود ہی مقصود ہو وہ شیطانی اونٹ اور گھر ہیں جیسے بعض چوہدری اپنی بڑائی دکھانے کے لیے بلاضرورت جانور گھوڑے مکانات رکھتے ہیں،ہم نے بعض امیروں کے ایسے مکانات دیکھے جو نہایت عالیشان ہیں مگر ویران پڑے ہیں نہ ان میں خود رہتے ہیں نہ کسی کو رہنے کے لیے دیتے ہیں،حتی کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع