30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ آپ کا نام جرہم ہے،کنیت ابوثعلبہ مگر آپ کنیت میں مشہور ہیں،آپ بیعت الرضوان میں شریک ہوئے،حضور انور نے آپ کو اپنی قوم خشن کی طرف مبلغ بنا کر بھیجا،آپ کی تبلیغ سے وہ سب لوگ مسلمان ہوگئے پھر آپ نے شام میں قیام اختیار کیا، ۷۵ھ میں انتقال کیا۔(اشعہ) مگر زیادہ صحیح یہ ہے کہ ۵۵ھ میں حضرت امیر معاویہ کے زمانہ میں آپ کی وفات ہوئی رضی اللہ عنہما۔(مرقات و اشعہ)
۲؎ شعاب جمع ہے شعب کی بمعنی گھاٹی یا پہاڑی راستہ یعنی حضرات صحابہ کرام دوران سفر میں جب کبھی عارضی قیام فرماتے تھے تو متفرق ہوکر کچھ حضرات کہیں کچھ کہیں۔
۳؎ یعنی تمہارے اس طرح بکھرنے سے شیطان کو موقع ملتا ہے کہ کفار سے تم پر چڑھائی کرادے کیونکہ وہ سمجھیں گے کہ یہ لوگ متفرق ہیں ان پر اچانک ٹوٹ پڑو یہ ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکیں گے اس طرح الگ الگ اترنا خطرناک ہے۔انما ذلکم تاکید کے لیے ہے جیسے جسمانی دوری خطرناک ہے ایسے ہی دلی دوری بھی شیطانی اثر سے ہوتی ہے اور سخت خطرناک رب تعالٰی مسلمانوں میں تنظیم اور یکجہتی نصیب کرے۔
۴؎ سبحان اﷲ! حضور نے مسلمانوں کے صرف جسموں کو یکجا نہ فرمایا بلکہ ان کے دلوں کو بھی یکجا کردیا مسلمان یک دل اور یک جان ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ مسافر منزل پر اکٹھے رہیں اس میں بہت فائدے ہیں۔ہر ایک ایک دوسرے سے خبردار رہتا ہے تعاون کرسکتا ہے۔
|
3915 -[24] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا يَوْمَ بَدْرٍ كُلَّ ثَلَاثَةٍ عَلَى بَعِيرٍ فَكَانَ أَبُو لُبَابَةَ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ زَمِيلَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَكَانَتْ إِذَا جَاءَتْ عُقْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَا: نَحْنُ نَمْشِي عَنْكَ قَالَ: «مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي وَمَا أَنَا بِأَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ بدر کے دن ہم ایک ایک اونٹ پر تین تین تھے ۱؎ تو ابولبابہ ۲؎ اور علی بن ابی طالب رسول اللہ کے ساتھی۳؎ تھے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی(چلنے کی)باری آتی تو یہ دونوں عرض کرتے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چل لیں گے ۴؎ تو حضور فرماتے کہ تم دونوں مجھ سے زیادہ قوی نہیں اور میں ثواب سے مستغنی تم سے بڑھ کر نہیں ۵؎(شرح سنہ) |
۱؎ چونکہ اس غزوہ میں سواریاں بہت تھوڑی تھیں حتی کہ تین سو تیرہ غازیوں میں صرف دو گھوڑے تھے اس طرح سامان جنگ برائے نام تھا تلواریں صرف آٹھ،زرہیں صرف چھ،یوں ہی اونٹ بھی بہت کم تھے اس لیے ایک اونٹ پر تین غازی باری باری سوار ہوتے تھے۔شعر
تھے ان کے ساتھ دوگھوڑے چھ زرہیں آٹھ شمشیریں پلٹنے آئے تھے یہ لوگ دنیا بھر کی تقدیریں
۲؎ جناب ابولبابہ کا نام رفاعہ ابن عبدالمنذر ہے،انصاری ہیں اسی لیے آپ کی کنیت نام پر غالب ہے،بیعت عقبہ میں شامل تھے بدر کے شمول میں اختلاف ہے۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ غزوہ بدر میں شریک ہوئے حضرت علی کی خلافت کے زمانہ میں وفات پائی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع